کرپٹو کرنسیوں کے استعمال سے انٹرنیٹ کو خطرہ

پاکستان آن لائن ٹریڈرز (خصوصی رپورٹ ) عالمی سیٹلمنٹ بینک نے متنبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسیز بشمول بٹ کوائن، کی نمو کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو انٹرنیٹ پر اس کا حد سے زیادہ غلبہ ہو جائے گا۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مرکزی بینکوں کے مرکزی مالیاتی ادارے بی آئی ا یس نے اپنی ویب سائٹ پر 24 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی ہے جس میں خبردار کیا گیاہے کہ کرپٹو کرنسی اس طرح قابلِ اعتبار نہیں جس طرح مروجہ کرنسی ہے۔اس کے علاوہ روایتی کرنسی اور ڈیجیٹل کرنسی میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ اس کی تعداد 2 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز نہیں کرسکتی، اور فی الحال ایک کروڑ 70 لاکھ بٹ کوائن مارکیٹ میں گردش کررہے ہیں۔
بی آئی ایس کی رپورٹ میں اس حوالے سے کہا گیاہے کہ اگر فرض کرلیا جائے کسی ملک کی مکمل آبادی ڈیجیٹل کرنسی جیسا کہ بٹ کوائن کا ا ستعما ل کرنے لگ جائے، تو چند دنوں میں ہی روایتی اسمارٹ فون سے استعمال ہونےوالے کھاتے گنجائش سے کہیں زیادہ بھر جائیں گے، جبکہ ایک عام ذاتی کمپیوٹر کے کھاتے کی گنجائش ختم ہونے میں ایک ہفتہ اور کسی انٹرنیٹ سرور کی گنجائش ختم ہونے میں مہینے لگیں گے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ گنجائش کی صلاحیت سے بڑھ کر پروسیسنگ کی صلاحیت کا ہے اور صرف سپر کمپیوٹر کے ذریعے ہی آنےوالی ٹرانزیکشن کی توثیق کی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ اس سے منسلک مواصلاتی رابطوں کے حجم کے باعث انٹرنیٹ رک سکتا ہے، بی آئی ایس کا کہنا ہے ا س کرنسی پر مکمل اعتماد کرنا مشکل ہے جبکہ اس سے قبل بی آئی ایس نے کرنسی میں دھوکہ دہی کے خطرے سے بھی خبردار کیا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ مروجہ ادائیگی کے نظام میں جب کسی فرد کی جانب سے ادائیگی کی جاتی ہے تو قومی ادائیگی کے نظام سے ہوتا ہوا یہ مرکزی بینک سے جا ملتا ہے، جسے منسوخ کیا جانا ممکن نہیں، جبکہ اس کے برعکس بغیر اجازت رائج کرپٹو کرنسی انفرادی ادائیگی کی ضمانت نہیں دیتی۔اس کےساتھ بی آئی ایس نے اس قسم کی کرنسی مثلاً بٹ کوائن کی غیر مستحکم مالیت کی بھی نشاندہی کی، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی کرنسی کے اجرا اور اس کو مستحکم رکھنے کےلئے کوئی مرکزی ادارہ موجود نہیں۔
بی آئی ایس کی رپورٹ میں کرپٹو کرنسیز کے استعمال پر خاص طور پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمایہ فراہم کرنے کے حوالے سے طویل مدتی ریگولیٹری کے قیام پر زور دیا گیا۔رپورٹ میں ’سلک روڈ‘ نامی بلیک مارکیٹ میں منشیات کی خرید و فرخت کےلئے خریداروں کی معلو مات خفیہ رکھتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال کی بھی نشاندہی کی، واضح رہے سلک روڈ نامی مارکیٹ ’ڈارک ویب‘ کے تحت کام کررہی تھی اور امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے اسے 2013 میں بند کردیا گیا تھا۔

 

Advertisements

موبائل سے تصاویر بنا کر کمانے کا طریقہ

(خصوصی رپورٹ،پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
آپ لازمی طور اپنے موبائل فون کو انتہائی قیمتی خیال کرتے ہونگے لیکن سچ یہ ہے کہ یہ آپ کی سوچ سے بھی کہیں بڑھ کر قیمتی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اسے استعمال کرکے گھر بیٹھے لاکھوں روپے کمائے جا سکتے ہیں۔ یہ کوئی جادو کا چکر نہیں بلکہ ایسا کام ہے جو اس وقت ہزاروں لوگ گھر بیٹھے یا چلتے پھرتے کر رہے ہیں۔ موبائل سے کمانے کےلئے یہ لوگ ”اسٹاک کیمو“ نامی ایپ ا ستعما ل کرتے ہیں جس کے ذریعے تصاویر آلمے کی سٹاک امیج ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ یہ تصاویر آن لائن فروخت کی جاتی ہیں یا اشتہا ر ا ت میں استعمال کی جاتی ہیں ۔ تصویر کے معیار اور اس میں دلچسپی کے عنصر کی بناءپراس کی قیمت کا تعین ہوتا ہے ، آ پ کے پاس بھی اگر آئی فو ن موجود ہے تو ضرور یہ ایپ ڈاﺅن لوڈ کریں اور اپنی بنائی تصاویر سے رقم کمائیں ، لوگ تو اپنے پالتو جانوروں، پھولوں، عما رتوں اور کھیتو ں کھلیانوں کی تصاویر سے بھی رقم کما رہے ہیں، یاد رہے یہ ایپ اینڈرائڈ صارفین کےلئے تاحال فراہم نہیں کی گئی۔

مصر کے مفتی اعظم کا بِٹ کوائن کے استعمال کےخلاف فتویٰ

(خصوصی رپورٹ پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
مصر کے مفتی اعظم شوقی ابراہیم عبدالکریم نے رقوم کی منتقلی کےلئے ڈیجیٹل اور ورچوئل کرنسی بٹ کوائن کے استعمال کےخلاف فتویٰ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے مسلمانوں کو خرید و فروخت کےلئے بِٹ کوائن کے استعمال کی اجازت نہیں،کیونکہ ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال سے فراڈ اور دھوکہ دہی کا خطرہ ہے اور اس کے تیزی سے اتار چڑھاو سے افراد اور اقوام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔مفتی اعظم کے مطابق انھوں نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے معاشی ماہرین سے بھی مدد لی تھی۔
بِٹ کوئن کے متعلق معلومات
یہ عام کرنسی کامتبادل ہے جو اکثر آن لائن استعمال ہوتا ہے۔ اس کی اشاعت نہیں ہوتی اور یہ بینکوں میں نہیں چلتا۔روزانہ 3600 بِٹ کوائن تیار ہوتے ہیں اور ابھی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ بِٹ کوائن استعمال میں ہیں۔بِٹ کوائن کو کرنسی کی ایک نئی قسم کہا جاتا ہے۔ اگرچہ دیگر کرنسیوں کی طرح اس کی قدر کا تعین بھی اسی طریقے سے ہوتا ہے کہ لوگ اسے کتنا استعمال کرتے ہیں۔بِٹ کوائن کی منتقلی کے عمل کےلئے ‘مِننگ’ کا استعمال ہوتا ہے جس میں کمپیوٹر ایک مشکل حسابی طریقہ کار سے گزرتا ہے اور 64 ڈیجٹس کے ذریعے مسئلے کا حل نکالتا ہے۔ڈیٹا ٹریک تحقیق کے نک کولاز نے کہا کہ بِٹ کوائن کے مستقبل میں ایکسچینج میں شامل کیے جانے نے اسے جواز بخشا ہے کہ یہ ملکیت ہے جس کی آپ تجارت کر سکتے ہیں۔

بٹ کوائن کی مدد سے کالے دھن کو سفید کرنے کا کاروبار

(خصوصی رپورٹ)
یورپی ممالک کی مشترکہ پولیس یوروپول کے مطابق یورپ میں تین سے چار ارب پاو¿نڈز کے کالے دھن کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے سفید کیا جا رہا ہے۔یوروپول ایجنسی کے ڈائریکٹر راب رین رائٹ کاکہنا ہے اس مسئلے کے حل کےلئے اس صنعت کی قیادت اور حکومتی تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔کرپٹو کرنسی کے بارے میں یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بٹ کوائن کی قدر جو دسمبر میں ریکارڈ توڑ سطح پر پہنچ چکی تھی، اب گر کر نصف سے بھی کم ہو گئی ہے۔راب رین رائٹ نے کہا کہ یورپول اور دیگر اداروں کے مطابق کالے دھن سے حاصل کیے گئے 100 ارب پاو¿نڈز میں سے تین سے چار فیصد رقم کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے سفید کیا جاتا ہے۔یہ عمل تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور ہم اس کی وجہ سے ان کا ادارہ کافی پریشان ہے۔کریپٹو کرنسیوں کے حوالے سے قانون سازی کم ہونے کی وجہ سے کئی جرائم پیشہ عناصر نے کرپٹوکرنسی کو اپنا لیا ہے اور پولیس کو ان عناصر کو پکڑنے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے۔راب رین رائٹ کاکہنا ہے کیونکہ رقوم کا تبادلہ اور ترسیل غیر سرکاری ذرائع سے ہو رہی ہے اسلئے اس کا پتہ لگانا زیادہ مشکل ہے، حتیٰ کہ اگر ہم ان کی شناخت کر بھی لیں اس رقم یا ان کے اثاثوں کو حا صل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ روایتی بینکنگ کے سسٹم میں شامل نہیں ہے۔
’رقم کے خچر‘
یوروپول نے ایک اور طریقہ دریافت کیا ہے جس کی مدد سے جرائم پیشہ عناصر کالے دھن کو سفید کرتے ہیں۔اس طریقے کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر جرائم کی مدد سے حاصل کی گئی رقم کو بٹ کوائن میں تبدیل کر دیتے ہیں۔اس رقم کو وہ مزید چھوٹے حصوں میں تبدیل کر کے کئی ایسے لوگوں کو فراہم کر دیتے ہیں جن کے ان عناصر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بٹ کوائن کو بعد میں روایتی کرنسی میں تبدیل کر دیتے ہیں اور اسے جرائم پیشہ عناصر کو واپس کر دیتے ہیں۔ان لوگوں کو ’رقم کا خچر‘ کہا جاتا ہے۔راب رین رائٹ نے کہا اس طریقے کو استعمال کرنے کی وجہ سے انھیں لوگوں کی شناخت کرنے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے۔انھوں نے بٹ کوائن چلانے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کےساتھ کام کریں۔ان کمپنیوں کو ذمہ داری لینی ہوگی اور ہمارا ساتھ دینا ہوگا جب ہم بڑے پیمانے پر کی جانے والے جرائم کی تفتیش کر رہے ہوں گے۔دوسری جانب برطانوی پولیس نے تو پینوراما کے سوالات کا جواب نہیں دیا لیکن برطانوی پارلیمان اس حوالے سے نئے قوانین بنانے کےلئے کوشاں ہے۔پارلیمان کی ٹریژری کمیٹی قانون سازی کےلئے کرپٹو کرنسی کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ وہ تجارت کاروں پر لازم کریں کہ وہ کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمیوں کی معلومات فراہم کریں اور ممکن ہے کہ یہ قانون اس سال کے آخر تک لاگو ہو جائے۔

بل گیٹس کی نظر میںکرپٹو کرنسی خطرناک، موت کا سبب

(خصوصی رپورٹ )
ٹیکنالوجی اور سافٹ وئیر بنانے والی کمپنی مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا شمار بھی ان بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی کے منتظمین میں شامل ہو گیا ہے جو کرپٹو کرنسی کی مخالفت کرتے ہیں۔انٹرنیٹ کی ویب سائٹ ریڈ اِٹ سے بات کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہاکرپٹو کرنسی خطرناک ہے اور موت کا سبب بنتی ہے۔ بل گیٹس کے مطابق کرپٹو کرنسی کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکام ان کی نگرانی نہیں کر سکتے اور انھوں نے اپنے خدشے اظہار کیا کہ اس کرنسی کے استعمال سے معاشرے میں منفی اثرات سامنے آئیں گے۔حکومتوں کی صلاحیت جس کی مدد سے وہ کالے دھن کو سفید کرنے والی رقم، ٹیکس چوری اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی نگرانی کرتے ہیں معاشرے کےلئے اچھی بات ہے۔کرپٹو کرنسی کی خاص بات ہے کہ انھیں نامعلوم طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ اچھی بات نہیں ۔ لوگ اس کی مدد سے جان لیوا منشیات خریدتے ہیں جس سے لوگوں کی براہ راست موت واقع ہوتی ہے۔ انہوں نے کرپٹو کرنسی کے علاوہ دیگر ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ اس کے بھی انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

کوئی بھی کریپٹو کرنسی قانونی نہیں

(خصوصی رپورٹ)
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کے تمام بینکوں کو تنبیہ کی ہے کہ بٹ کوائن، لائٹ کوائن، اور پاک کوائن سمیت تمام ورچوئل کرنسیوں کی مدد سے ہونےوالے کسی بھی لین دین کو مشکوک قرار دے کر سٹیٹ بینک کو مطلع کریں۔اپنے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن میں سٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی ورچوئل کرنسی پاکستان میں قانونی طور پر رقم کی حیثیت نہیں رکھتی اور اس کی خرید و فروخت یا ان کے لین دین کےلئے کو ئی بھی شخص یا ادارہ ملک میں لائسنس نہیں رکھتا۔ملک میں قائم تمام بینکوں کو یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے صارفین کو کوئی خد مات فراہم نہ کریں بلکہ اگر انھیں معلوم ہو کہ کوئی شخص ورچوئل کرنسی کا لین دین کر رہا ہے تو اسے مشکوک قرار دے کر سٹیٹ بینک کو اطلاع د یں ۔
یوں تو دنیا بھر میں مختلف نوعیت کی کرپٹو کرنسیاں استعمال ہوتی ہیں لیکن ان میں سب سے معروف بٹ کوائن ہے۔ ان کرپٹو کرنسیوں کا مقصد روایتی کرنسی جیسے ڈالر، یورو اور پاو¿نڈ کا نعم البدل ہونا ہے،لیکن روایتی کرنسی کے برعکس کرپٹو کرنسی کو حکومت یا بینک جاری نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی نگرانی کرتے ہیں۔بلکہ یہ کرنسیاں کمپیوٹر پر ریاضی کے پیچیدہ فارمولوں کی مدد سے بنائی جاتی ہے اور اس عمل کو ‘مائننگ’ کہا جاتا ہے۔اس عمل کے ذریعے بنائی گئی رقم کی نگرانی دنیا بھر میں قائم کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے کی جاتی ہے اور اس میں رقم حاصل کرنےوا لے شخص کو ان کی اصل شناخت کے بجائے کمپیوٹر پر دیے گئے ورچوئل پتے کے ذریعے پہچانا جاتا ہِے۔کریپٹو کرنسیوں کے حوالے سے قانون سازی کم ہونے کی وجہ سے کئی جرائم پیشہ عناصر نے کرپٹوکرنسی کو اپنا لیا ہے اور پولیس کو ان عناصر کو پکڑنے میں کافی دشواری پیش آر ہی ہے۔گزشتہ سال بٹ کوائن کی قیمت کا شدید اتار چڑھاو¿ جاری رہا اور اس کی قیمت 19000 ڈالر سے بھی زیادہ ہوگئی تھی تاہم اب وہ اس سے کافی کم سطح پر پہنچ چکی ہے۔

پاکستان میں ورچوئل کرنسی غیر قانونی قرار

(پاکستان آن لائن ٹریڈرز رپورٹ)
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ورچوئل کرنسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے ایسی ورچوئل کرنسیوں کے اجرا، فروخت، خریداری اور تبا دلے کی اجازت نہیں دی۔سٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ بٹ کوائن، لائٹ کوائن، ون کوائن اور ڈاس کوائن کی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔کراچی میں کسی بھی ورچوئل کرنسی کی بطور لیگل ٹینڈر کوئی حیثیت نہیں ہے، پاکستان میں کسی شخص یا ادارے کو ایسی ورچوئل کرنسیوں کے اجرا، فروخت، خریداری اور تبادلے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

 

بِٹ کوائن کرنسی،پاکستان کے مالیاتی مسائل کا حل؟

(تحریر:۔۔۔محمد منیر طاہر،ڈنمارک)
سترہویں صدی میں جب بارٹر سسٹم ختم ہوا اور بینک نوٹس کا آغاز ہوا تو لوگ ایک بڑے عرصے تک ا±سے قبول نہ کرسکے حالانکہ نوٹ کی رقم کے پیچھے ا±سکی حقیقی مالیت چاندی کی صورت میں موجود تھی، بہرحال یہ نوٹ بیسویں صدی تک چلتے رہے۔ لیکن آج استعمال ہونےوا لے نوٹ کی حقیقی قیمت موجود نہیں اس نوٹ کی حقیقی قدر صرف وہ اعتماد ہے جو ہم مالیاتی اداروں پر کرتے ہیں۔ لیکن یہ اعتماد بھی اسوقت پارہ پار ہ ہوگیا جب 2008ءمیں عالمی مالیاتی بحران آیا، حکومتیں اور بینک مالی و معاشی مسائل میں مبتلا ہوگئے۔ خصوصاً امریکی و یورپی حکومتوں نے دھڑا دھڑ نوٹ چھاپے تاکہ بحران میں پھنسے مالیاتی اداروں کو سہارا دے سکیں۔ جس کے نتیجے میں کئی بینک اور ہزار ہا کاروباری ادارے د یو ا لیہ ہوئے۔یوں بینکوں پر سے عوام کا اعتماد جاتا رہا اور تجارت کی دنیا میں خلا آگیا جس نے اکیسویں صدی کی کرنسی کی ایک ایسی جہت سے رو شناس کروایا جس کا تصورآج سے پہلے موجود نہیں تھا، اس کا نام کرپٹو کرنسی ہے جوکہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اور مالیاتی ادارے اور حکومتیں اس کے پیچھے کھڑی ہونے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں لیکن مجھے اس امر میں کوئی شک نظرنہیں آتاکہ آئندہ دور ڈیجیٹل ایج ہے اور با قی ہرچیز کی طرح کرنسی بھی ڈیجیٹل ہی چلے گی، اگر پاکستان جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرکاری سطح پر اس کے آغاز کےلئے اقدامات کرسکے تو عالمی معیشت کو اپنی مٹھی میں کرسکتا ہے۔
تذبذب کا شکار لوگ پانامہ اور سوئٹزرلینڈ کی مثالیں سامنے رکھتے ہوئے سوچیں کیسے ان ممالک نے غیر قانونی پیسے کو قانونی شکل دے کر دنیا بھر سے کرپٹ لوگوں کا پیسہ اپنے بینکوں میں جمع کیا اوراس وقت دنیا کی مضبوط ترین معیشت بن چکے ہیں۔ پاکستان کےلئے اس میں یوں بھی کشش ہے کہ بِٹ کوائن کا نااہل سیاست دانوں اور لالچی بینک کاروں سے کوئی تعلق نہیں جن کے باعث ہمارا ملک اور ہماری معیشت زوا ل پذیر ہے۔ مزید یہ کہ اس کی بدولت نہ صرف فراڈ سے بچاو ملے گا بلکہ افراط زر بھی جنم نہیں لے گا کیونکہ یہ ڈیجیٹل کرنسی معین وقت ہی میں جنم لیتی ہے اور اس کی تعداد بھی مقرر ہے۔
بِٹ کوائن دراصل ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔ اسے سمجھنے کےلئے آپ کو ٹیکنالوجی کے ایک بالکل نئے رخ کو اپنے ذہن میں اتارنا پڑتا ہے۔ مگر بنیا د ی طور پر کرپٹو کرنسیاں مکمل طور پر روایتی پیسے سے مختلف نہیں ہیں۔ فی الوقت یہ مکمل آزاد کرنسی ہے، جو کمپیوٹر کی مدد سے بنتی ہے۔ یہ کرنسی حسا بی عمل لوگرتھم کی بنیاد پر کام کرتی ہے، جو کہ کرپٹولوجی اور کرپٹو گرافیکل تکنیک سے تیار کی جاتی ہے اسلئے اس میں فراڈ اور جعلسازی کی گنجا ئش ہی موجود نہیں۔ جس کےلئے کمپیوٹر کو انٹر نیٹ سے منسلک کر کے، کمپیوٹر کے پروسیسر سے کام لیا جاتا ہے۔ جس کمپیوٹر کا پروسیسر جتنا طاقتور ہو تا ہے، اتنی جلد وہ حسابی عمل لوگرتھم کا سوال حل کرکے بِٹ کوائن بناتا ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہ 2009ءمیں متعارف ہوئی اور فروری 2011ءمیں ایک بِٹ کوائن کی مالیت ایک امریکی ڈالر کے برابر پہنچ گئی۔ پھر اس ابھرتی ڈیجیٹل کرنسی نے مڑکر نہ دیکھا اور چھلانگیں مارتی ترقی کرنے لگی۔ اوآخر2013ءتک اس کی قدروقیمت اتنی بڑھ گئی کہ یہ ممکن ہوگیا کہ صرف ایک بِٹ کوائن (برابر 1151ڈالر) سے 25گرام سونا خریدنا جاسکے۔
دسمبر 2013ءتک بِٹ کوائن کی تعداد دس ہزار تھی اورانکی مالیت پاکستانی کرنسی کے حساب سے ایک ارب پچاس کروڑ روپے تک جاپہنچی۔ بِٹ کوائن کی مقبولیت میں باقاعدہ اضافہ اس وقت ہوا جب دکان دار وتاجر اسے بطور کرنسی قبول کرنے لگے۔ اور یہ تھوڑے ہی عرصے میں مقبولیت کی انتہاءکو پہنچ چکی ہے آج ایک بِٹ کوائن کی قیمت 19 لاکھ پاکستانی روپوں سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ فی الوقت تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ 78 ہزار بِٹ کوائن گردش میں ہیں اور ان کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر محدود اضافہ ہو رہا ہے۔
دسمبر 2017 میں کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن (زیرِ گردش کرنسی ضرب قدر) 600 ارب ڈالر تھی اورماہرین کے نزدیک یہ ایک کھر ب ڈالر تک پہنچے گی۔ بِٹ کوائن کا حسابی ادارہ فی الوقت بلوک چین (block chain) ہے جو کہ ایک نئی طرح کا انٹرنیٹ ہے جس میں ڈیجیٹل معلومات ہر ایک دیکھ سکتا ہے مگر اسے کاپی نہیں کر سکتا۔ ہر دس منٹ میں ہونےوالی لین دین (transaction) کا ریکارڈ چیک کر کے محفوظ کر دیا جاتا ہے جسے بلوک کہتے ہیں۔ سارا ڈیٹا نیٹ ورک پر ہوتا ہے اس لیے ہر ایک اسے دیکھ سکتا ہے۔
حال ہی میں امریکی فیڈرل ریزرو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کریں گے۔ چین نے شروع میں بِٹ کوائن کو فروغ دیا مگر پھر ایکسچینج کے ذریعے کوائن حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی جس سے کرپٹو کرنسی ایکسچینج میں ہلچل مچ گئی۔ پیپلز بینک آف چائنا نے دسمبر کے اختتام پر اعلان کیا کہ اس نے بھی اپنی خودمختار کرپٹو کرنسی ڈیزائن کرنے کےلئے ٹیم تشکیل دےدی ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں حکومتیں اور کارپور یشنز اپنی اپنی ڈیجیٹل کرنسیاں لانچ کرنا چاہتی ہیں اور اس میں شک نہیں کہ برقی پیسہ ایک بالکل نیا روپ لے گا۔ اگرچہ حکومتِ پاکستان نے بھی بِٹ کوائن کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا باضابطہ موقف یہ ہے کہ وہ مستقبل میں بِٹ کوائنز یا کرپٹو کرنسیوں کو قانونی قرار دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ مگر اس کی وجہ سے پاکستان میں زیرِ زمین ایکسچینج کے پھلنے پھولنے پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ آ پ اب بھی فیس بک، واٹس ایپ، ویب سائٹس اور دیگر ذرائع سے بِٹ کوائنز کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔
بِٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں اس وقت تک کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں، یہ عالمی طاقتوں کی پابندیوں اور ورلڈ بینک کی اجا ر ہ داری سے عاجز، پاکستان جیسے ممالک کےلئے ایک نعمت سے کم نہیں کیونکہ یہ عالمی ساہوکاروں کی گرفت سے آزاد ہے۔ فی الوقت روایتی کر نسیوں کے برعکس کوئی بھی حکومت یا مرکزی بینک کرپٹو کرنسیاں جاری نہیں کرتا لیکن یہ صورتحال شاید زیادہ دیر نہیں رہے گی، پاکستان کے پا س اس کی ملکیت کا پہلا ملک بننے کا چانس موجود ہے وگرنہ جلد کوئی نہ کوئی ملک اسے اپنا کے یہ طاقت اپنے ہاتھ میں کرلے گا۔ اگرچہ جاپان کو اس حوالے سے استثناءحاصل ہے کیونکہ وہاں بِٹ کوائن قانونی ہے لیکن ابھی تک حکومت نے اس کو اپنایا نہیں اور ریگولیٹرز اور حکومتیں اسے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور اس کو پہلے اپنانے والا ملک یا ادارہ بادشاہ گر بن سکتا ہے۔ پاکستان اسکو اپنا کر اگر ایشین بلاک کو ساتھ ملا لے تو کم از کم ایشین بلاک میں مغربی کرنسیوں کی اجارہ داری ختم کرنا ممکن ہوسکتا ہے اور بعد ازاں یہی ایشین کرنسی بلاک عالمی لیول پر ایک نئی معاشی طاقت بن کر ابھر سکتا ہے۔
۔۔(بشکریہ، روزنامہ پاکستان)۔۔

Are You Ready to get results & sales ?

    Imagine that your business will explode with this advertisement system : Targeted visitors Quality Advertising Million of impressions Sell Your Products Fast & Easy Get Massive Exposure Advertising That Delivers Results. Advertise Anything at one click submission. Your Advertising get real visitors and clicks Put your website and business in front of the thousands of potential buyers Advertising That Delivers Results! Get real visitors Advertise Your Site, Business, Service & So Much More!     Guaranteed Large Traffic. One Stop For All Your Advertising Needs. Start Promoting of Your business, website, blog, services or products Worldwide at one click submission.

Join to Start Journey to Success

ویب سائٹ کیلئے ٹریفک اور کمائی ایک ساتھ

(تحریر:۔۔۔رجا حیدر )
پاکستان آن لائن ٹریڈرز کی ٹیم ایک عرصہ سے اپنے قارئین اور بالخصوص آن لائن کاروربار کرنےوالوں کی یقینی کامیابی کیلئے یا انٹر نیٹ پر اپنا کاروبار شروع کرنے کی خواہش رکھنے والوں کی رہنمائی کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے ، کافی دوستوں کی جانب سے اس پریشانی کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ ہم آن لائن کاروربار کرتے ہیں جس کیلئے ہم نے ویب سائٹ بھی بنا رکھی ہیں تاہم ان پر ٹریفک ہی نہیں آتی یا بہت ہی کم ہے جس کی وجہ سے کوئی فائدہ نہیں مل رہا ، ایسا انتہائی آسان اور کم خرچ طریقہ بتائیں جس سے ہمارا مسئلہ حل ہو سکے ۔
یہ تو ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی کاروبار ہو بغیر گاہک کے کسی طور کامیاب نہیں ہو سکتا ، جبکہ آن لائن کاروربار کیلئے تو یہ اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ اپنے ایسے ہی دوستوں اور قارئین کیلئے ہم وہ طریقے یہاں بیان کرنے جا رہے ہیں جن پرعمل کر کے آپ نہ صرف اپنی ویب سائٹ پر بہترین ٹریفک لا سکتے ہیں بلکہ اس کےساتھ ہی اپنی آمدن حاصل کر سکتے ہیں ، تو بغیر کچھ خرچ کئے اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک فلو بڑھانے کےسا تھ ساتھ آمدن میں اضافہ کیلئے ہماری دی گئی ہدایات کے مطابق عمل کریں اور یقینی نتائج حاصل کریں ۔
دوستو:۔۔۔۔ویب سائٹ پر ٹریفک لانا واقعی ایک مشکل ترین مرحلہ ہے اگر کوئی یہ مرحلہ طے کر لے تو اس کی آن لائن کاروبار میں کامیابی یقینی ہے ، لیکن بہت سے افراد اس مرحلے ہی میں ناکامی کے باعث اپنی باقی ماندہ محنت بھی ترک کر کے اپنی انوسٹمنٹ تک ضائع کردیتے ہیں یا ترک کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں لیکن ہم ایسے دوستوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مایوس نہ ہوں بلکہ ہماری ٹیم کا حصہ بن کر اپنی کامیابی یقینی بنانے سمیت اپنے عزیزو اقارب ، دوستوں اودیگر جاننے والوں کو بھی پاکستان آن لائن ٹریڈرز کا ممبر بننے اور ہماری دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کی ترغیب دے کر ان کی مدد کریں
دنیا بھر کے ممالک سے اپنی مرضی کی بغیر رقم خرچ کئے اپنی ویب سائٹ کیلئے حقیقی ٹریفک اوراسکے ساتھ ساتھ آمدن حاصل کرنے کیلئے ۔۔۔۔۔(یہاںکلک کریں)۔۔۔۔۔