بغیر کچھ کیے دولت کمانے میں مدد دینے والے ذرائع

(پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
پیسہ کمانے کےلئے کام کرنا پڑتا ہے بلکہ سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔مگر خوش قسمتی سے دولت کمانے کے کچھ ذرائع کےلئے کچھ زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی، جس کےلئے موبائل ایپس، بنیادی سرمایہ کاری ٹولز اور دیگر حکمت عملیوں کا شکرگزار ہونا چاہیے، جن کے ذریعے اضافی آمدنی بغیر کچھ کیے حاصل کی جاسکتی ہے۔یہاں آپ ایسے ہی ذرائع جان سکیں گے جن کے ذریعے کم از کم محنت کرکے پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔
1:۔۔۔ویب سائٹ بنائیں اور اشتہارات سے کمائیں
اگر آپ کسی موضوع کے ماہر ہیں مگر وہ موضوع کسی کتابی پراجیکٹ یا آن لائن کورس کےلئے فٹ نہیں، تو ویب سائٹ بنالیں۔ ورڈ پریس یا کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم کے ذریعے ویب سائٹ بنائی جاسکتی ہے، جہاں آن لائن اشتہارات فروخت کیے جاسکتے ہیں، جیسے گوگل کے ذریعے، تو جب بھی سائٹ پر کوئی آپ کے کام پر پڑھے گا تو کچھ اضافی آمدنی آپ کے حصے میں آجائے گی۔
2:۔۔۔یوٹیوب ویڈیو گائیڈ
اگر تو آپ کسی چیز کے ماہر ہیں مگر کتاب، آن لائن کورس یا ویب کے ذریعے اسے بیان نہیں کیا جاسکتا تو یوٹیوب ویڈیو بنانے کے بارے میں سوچیں۔ یوٹیوب میں مختلف موضوعات پر ہزاروں بلکہ لاکھوں گائیڈز موجود ہیں، اگر آپ اسمارٹ فون کے کسی فنکشن کے ماہر ہیں تو آپ اس پر ویڈیو بناسکتے ہیں یا جو آپ چاہیں۔ یوٹیوب میں بھی ویڈیوز پر اشتہارات ملتے ہیں اور لوگ مخصوص موضوعات کو سرچ کرتے ہوئے آپ کی ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں اور اشتہاری آمدنی لامحدود عرصے تک ملتی رہتی ہے۔
3:۔۔۔ویب سائٹ ہے تو ریفر لنکس کیلئے استعمال کریں
آپ کی ویب سائٹ کسی بھی موضوع پر ہو یا بلاک ہو، اس میں کسی پراڈکٹ کے بارے میں ریفر لنکس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ویب سا ئٹس جیسے اِمیزون کسی پراڈکٹ کے یو آر ایل کا کوڈ شامل کرنے دیتی ہیں، اگر اس یوآر ایل سے کوئی پراڈکٹ فروخت ہوتی ہے تو آمدنی کا کچھ حصہ آپ کو ملے گا۔
4:۔۔۔ایپس ریفر کریں
اگر تو آپ کوئی ایپ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو ریفر کے ذریعے کافی کما سکتے ہیں، اوبر یا دیگر متعدد موبائل ایپس میں ہر اس شخص کو کچھ کریڈٹ دیا جاتا ہے جو ایسے افراد کو ایپ ریفر کرے جو اسے خریداری کےلئے استعمال کرے۔
5:۔۔۔بنگ استعمال کریں
مائیکرو سافٹ ریورڈز پروگرام کے تحت یہ کمپنی گوگل کی بجائے اس کے براﺅزر بنگ کو استعمال کرنے پر معاوضہ دیتی ہے، تاہم یہ سہولت کچھ ممالک تک محدود ہے مگر آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔
6:۔۔۔زیادہ منافع دینے والے سیونگ اکاﺅنٹ میں رقم جمع کرنا
جب سیونگ اکاﺅنٹس میں رقم کی بچت کی جاتی ہے تو بینکوں کی جانب سے انٹرسٹ کی مد میں اضافی رقم دی جاتی ہے، کئی بار یہ انٹرسٹ کم ہوتا ہے جبکہ کئی بار زیادہ۔ جب آپ زیادہ انٹرسٹ ریٹ والے سیونگ اکاﺅنٹ کا انتخاب کرتے ہیں تو رقم کی مقدار میں اضافہ بھی زیادہ ہوتا ہے، مگر ایسے اکاﺅنٹس کےلئے بچت بہت زیادہ کرنا پڑتی ہے۔
7:۔۔۔اپنی تصاویر فروخت کریں
ویب سائٹس جیسے میڈیا سائٹس، کو اپنے مواد کےلئے اچھی تصاویر کی ضرورت ہوتی ہے، کئی بار یہ کام سٹاف فوٹوگرافر کرتے ہیں، جبکہ زیادہ تر فوٹوز سروسز جیسے گیٹی وغیرہ، اسی طرح سٹاک امیج سروس جیسے شٹر اسٹاک کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ شٹر اسٹاک اور آئی اسٹاک میں کوئی بھی اپنی تصاویر جمع کراکے اس سروس کا حصہ بن سکتا ہے، جس کےلئے کچھ ان سروسز کی گائیڈلائنز پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد جب کوئی بھی اس تصویر کو ڈاﺅن لوڈ کرتا ہے تو اس کی فیس آپ کو ملے گی، اگر آپ شوقیہ فوٹوگرافر ہیں تو یہ کچھ اضافی رقم کمانے کا آسان ذریعہ ہے۔
8:۔۔۔رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری
اس کےلئے ہاتھ میں زیادہ نقدی کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس کا صلہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، اگر آپ کسی رئیل اسٹیٹ پر سرمایہ کاری کرتے ہیں تو کرائے کی مد میں کافی رقم کما سکتے ہیں، یقیناً اس میں کافی مشکلات بھی ہوتی ہیں یعنی کافی سرمایہ ہاتھ میں ہونا چاہیے اور سرمایہ کاری کے بعد کرائے کا آسانی سے حصول وغیرہ۔ مگر ان پر قابو پالیا جائے تو جلد کافی زیادہ اضافی آمدنی ہونے لگتی ہے۔
9:۔۔۔موبائل ایپ بنائیں
اسمارٹ فون تو اب ہر ایک کے ہاتھ میں ہے تو اس کےلئے ایپس بنانا کافی آمدنی کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کچھ ویب سائٹس جیسے کوڈ اکیڈمی وغیرہ سے آپ اس کےلئے درکاری کوڈ کو آسانی سے سیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کی ایپ اچھی ہو اور لوگ اسے پسند کریں گے تو اس سے دو ذرائع سے آمدنی ہوسکتی ہے، ایک تو ایپل کے ایپ اسٹور یا اینڈرائیڈ کے گوگل پلے اسٹور سے چارج کرنا اور دوسرا اشتہارات کی فروخت کے ذریعے۔
بشکریہ ۔۔۔ڈان نیوز

Advertisements

مناسب پیشے کا انتخاب، نئی نسل کا اہم مسئلہ

(سید اویس مختار)
اگر آپ بھی بہتر شعبے اور نوکری حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو بلاگ سیریز کا آغاز کیا جا رہے ہے، جس میں تمام مسائل کا حل پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ سیریز کا پہلا بلاگ ہے۔
’آپ نے کون سی انجینئرنگ کی ہے؟‘
’جی میں ایک الیکٹرونکس انجینئر ہوں۔
’اور آپ کس پیشے سے وابستہ ہیں؟‘
’جی ایک انشورنس کمپنی میں جاب کرتا ہوں۔‘
’کیا انشورنس اور الیکٹرونکس انجینئرنگ کا کوئی تعلق بنتا ہے؟‘ میں نے سوال کیا۔
’سر، گھر چلانے کےلئے پیسوں کا تعلق بنتا ہے۔‘ ایک مسکراتا ہوا جواب ملا۔
اِسی طرح ایک دوسرے دوست جو سافٹ ویئر انجینئرنگ کرنے کے بعد آج کل سافٹ اسکل ٹریننگ سے وابستہ ہیں، ان سے پوچھا: ’آپ کی سافٹ ویئر انجینئرنگ کا کیا ہوگا؟‘
جواب ملا، اصولاً تو سافٹ ویئر انجینئرنگ میری فیلڈ ہی نہیں تھی۔ شروع میں کسی نے مناسب رہنمائی نہیں کی جس کی وجہ سے میں نے یہاں داخلہ لے لیا تھا۔ بعد ازاں ہر گزرتے دن کے ساتھ اِس میں دلچسپی کم ہونے لگی اور اب تو یہ عالم ہے کہ سافٹ اسکلز ٹریننگ کے علاوہ کوئی اور کام کرنے کا دل نہیں کرتا۔ یہاں دل بھی لگتا ہے، پیسہ بھی ہے اور کام بھی بہت ہے۔
تعلیم و پیشے کے حوالے سے رہنمائی کی عدم دستیابی آج کل ہر دوسرے نوجوان کا مسئلہ ہے۔ آج ہمارے درمیان کا ہر دوسرا نوجوان اپنے پیشے کو لے کر ایک اضطراب اور بے چینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ کوئی یہ شکوہ کرتا ہے ا±س کی نوکری اِس قابل نہیں کہ بنیادی ضروریات کو پورا کیا جاسکے، کہیں ڈگریاں ہیں پر نوکری نہیں، کسی کے پاس سند کوئی اور تو پیشہ کچھ اور ہے۔ کہیں تو نوکری بھی ہے، پیسہ بھی اور ڈگری بھی مگر کام میں دلچسپی کا فقدان ہے۔اِن سب مسائل کا ایک ہی حل ہے: پیشے کے حوالے سے رہنمائی، جسے ہم کریئر کونسلنگ کہتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے فی الوقت اِس حوالے سے ہمارے پاس وہ کون سے ایسے ذرائع موجود ہیں جو اِس ضمن میں قابلِ اعتبار اور قابلِ عمل ہیں اور وہ کون سا رویہ ہے جس سے احتراز کرنا ہے۔
ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں بچے مستقبل کی منصوبہ سازی کرتے وقت والدین سے مشورہ نہ صرف اپنا فرض سمجھتے ہیں، بلکہ ا±س مشورے پر عمل کرنا بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ مثلاً ایک طالبعلم کی خواہش ہے کہ آگے جاکر وہ تجریدی آرٹس کا شعبہ چنے مگر والدین اِس بات پر راضی نہیں، تو ا±س صورت میں وہ طالب علم تعظیم کے ہاتھوں مجبور ہوجائے گا۔ سوال یہ ہے کیا 40، 30 سال پہلے فارغ التحصیل ہو نےوالے والدین آج کے دور کے بدلتے تقاضوں، زمینی حالات، جاب مارکیٹ اور سب سے بڑھ کر اپنے بچوں کی دلچسپی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ا±ن کی بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں؟
میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہمارے معاشرے کے والدین دنیا میں موجود 12 ہزار پیشوں کو چھوڑ کر اپنے بچے کو محض ڈا کٹر یا پھر انجینئر بننے کا مشورہ نہ دیتے۔یہی وہ وجہ ہے ہم اپنے اطراف میں دیکھتے ہیں کہ والدین کی جانب سے نوجوانوں کو صرف 2 آ پشن دیے جاتے ہیں، اور اِس بات پر مجبور کیا جاتا ہے وہ ا±ن ہی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ وہ بچہ جو کہ اِن دونوں میں دلچسپی نہیں رکھتا مگر مجبوراً والدین کی ناراضی کے ڈر سے ا±ن کو اختیار کرتا ہے، اور اپنی ساری زندگی ایک ادھیڑ بن میں گزار دیتا ہے۔
پھر اِن 2 پیشوں کےلئے معاشرے کا یہی جنون ہے کہ جہاں کسی سرکاری یونیورسٹی میں میڈیکل یا انجینئرنگ کی 400 سیٹیں ہوں، وہاں 200 ہزار طلباءداخلہ ٹیسٹ دینے پہنچے ہوئے ہوتے ہیں، اور سیٹیں 80 اور 90 فیصد مارکس کی بلند ترین شرح پر ملتی ہیں، جس سے نسبتاً کم مارکس حاصل کرنےوالے بچے اِس ایک داخلہ ٹیسٹ کو ہی اپنی قابلیت کا معیار سمجھ کر ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں اور والدین کے طعنے بردا شت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
پیشے کا انتخاب کسی ماہر کیریئر کونسلر سے مشورے کے بعد کرنا چاہیے۔ پاکستان میں گویہ رواج بہت کم ہے اور اِس طرح کے پروفیشنل بھی بہت کم ہیں۔ چند جامعات میں اگر اِس طرح کے ماہرین موجود ہیں بھی تو ا±ن کا کام اب کونسلنگ کے نام پر جامعہ میں موجود ڈگری پروگرا مز کی مارکیٹنگ کرنا رہ گیا ہے۔اگر آپ کسی ماہر کیریئر کونسلر سے رابطے میں نہیں ہیں تو آپ یہ کام خود بھی کرسکتے ہیں، البتہ اِس کےلئے ضروری ہے کہ آپ نیچے دیے گئے چار مراحل پر عمل کریں۔
اپنے آپ کو پہچانیں
اپنی صلاحیتوں کے بارے میں جانیں، جس پیشے کو آپ اختیار کرنا چاہتے ہیں ا±س کام کو کرنے کی صلاحیت آپ کے اندر ہونی چاہیے۔ کچھ لوگوں کے اندر پیدائشی تخلیقی صلاحیتیں ہوتی ہیں، لہٰذا یہ ا±ن پر منحصر ہے کہ اپنی فطری ترجیحات دریافت کریں۔ اِس کھوج میں لگ جائے کہ ا±ن میں وہ کون سی خداداد صلاحیت ہے جس کا استعمال وہ اپنے پیشے میں کرسکتے ہیں۔
کچھ خاص صلاحیتیں آپ کی بچپن سے کی گئی تربیت کے دوران آپ کے اندر شامل ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر جن گھروں میں بچوں کو کتابوں سے رغبت دلائی جاتی ہے، ا±ن کے اندر لکھنے کی صلاحیت کتابیں نہ پڑھنے والے بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ وہ بچے اپنی اِس صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے شعبے کے متعلق مضامین لکھ سکتے ہیں اور نام اور پیسہ دونوں کما سکتے ہیں۔
کچھ بچے ہمیں ایسے نظر آتے ہیں جو باتونی ہوتے ہیں، تو کچھ خاموش طبع، اور ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو بچپن ہی سے قائدانہ صلاحیت رکھتے ہیں، گھر میں جو بھی شرارتیں ہوں ا±س میں ا±نہی کی کارستانی ہوتی ہے۔
ایسے بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو یہ صلاحیتیں ا±ن میں پنپتی رہتی ہیں، یوں وہ یقیناً اس ہنر کو مسلسل استعمال کرنے کی وجہ سے منصوبہ بندی اور قیادت کا خاصہ تجربہ حاصل کرلیتے ہیں اور ا±ن کو کسی بھی شعبے میں قائدانہ کردار ادا کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔اِسی طرح جو شخص بچپن سے ہی پبلک اسپیکنگ کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ اگر ٹیچنگ کے شعبے میں جانا چاہے تو ا±سے عدم اعتماد جیسا مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔ لہٰذا اِس بات کو سمجھنا ہے کہ آپ کے اندر وہ کون سی قدرتی صلاحیت موجود ہے جس کے عین موافق آپ نے اپنے پیشے کو چننا ہے۔
اپنی دلچسپی جانیں
یہ مرحلہ بھی آپ کی اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے کہ آپ کو کس کام میں زیادہ دلچسپی محسوس ہوتی ہے، کیا آپ لوگوں سے ملنے جلنے اور بات
چیت میں پہل کرنے کو بہت اچھا سمجھتے ہیں؟ اگر ہاں تو پھر آپ کے لیے ایسے کام کو کرنے میں بہت آسانی ہوگی جس میں آپ کو روزانہ نت نئے افراد سے ملنے اور بات چیت کرنے کے مواقع ملیں، مثلاً سیلز یا پبلک ریلیشز۔اگر آپ کو زیادہ لوگوں سے میل جول پسند نہیں اور آپ اپنے آپ میں مگن رہنے والے انسان ہیں تو پھر آپ کو یقیناً ایسے شعبے بہتر لگیں گے جس میں آپ کی زیادہ لوگوں سے ملاقات نہ ہو۔ صرف آپ ہوں اور آپ کا کام، جیسے کہ ریسرچ کا شعبہ، یا سوشل میڈیا مارکیٹنگ یا لکھنے لکھانے کا پیشہ۔
ایسا شعبہ جس میں آپ کی دلچسپی اور پسندیدگی دونوں برقرار ہوں تو ا±س کا فائدہ یہ ہے کہ ایسے شعبے میں آپ اگر 24 گھنٹے بھی کام کرتے ر ہیں تو تھکن آپ کے اور کام کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکے گی۔ اِس طرح آپ ا±ن لوگوں سے زیادہ کارکردگی دکھا سکیں گے جو ا±س شعبے میں بِناءدلچسپی کے فقط روزی کمانے کی خاطر موجود ہیں۔ یوں آپ کو ا±س شعبے میں کام کرنے کا ایک الگ فائدہ ملے گا۔
کیا اس شعبے میں پیسہ ہے؟
یوں تو کوئی بھی پیشہ اختیار کرنے کا سب سے بڑا مقصد رزق حلال کمانا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنا ہی ہوتا ہے، اِس لیے آپ کا شعبہ ایسا ہونا چاہیے جس میں آپ باآسانی اتنا پیسہ کما سکیں کہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرسکیں۔ بہت دفعہ ہم اپنے پیشے سے، جس میں ہماری دلچسپی بھی ہوتی ہے، اس لیے بددل ہوجاتے ہیں کہ ا±س میں ہم سے جتنا کام لیا جاتا ہے اتنی ا±س کی اجرت نہیں ہوتی یعنی محنت کا وہ پھل نہیں ملتا جس کے ہم طلبگار ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارا ا±س کام سے دل ا±ٹھ جاتا ہے ساتھ ہی ہماری کارکردگی بھی گر جاتی ہے۔لہٰذا پیشے کو اختیار کرتے ہوئے ا±س کی مارکیٹ میں مانگ کو سمجھیں اور یہ بھی سروے کریں کہ ابتداءمیں اور پھر 5 سال کے بعد ا±س پیشے میں کس قدر پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔
کیا کوئی شعبہ آپ کے نظریات سے مطابقت رکھتا ہے؟
اور آخری اور سب سے اہم نقطہ یہ کہ وہ پیشہ آپ کے نظریات، آپ کی اقدار کے مطابق اور اخلاقی اعتبار سے مناسب ہو۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ کچھ ایسے پیشے اختیار کرلیتے ہیں جو ا±ن کے اپنے نظریات کے مطابق نہیں ہوتے، یا جن کو ا±ن کا خاندان یا ا±ن کا معاشرہ ایک بہتر پیشہ نہیں سمجھتا جس کی وجہ سے وہ اپنی کمیونٹی سے کٹ جاتے ہیں۔یوں پیسہ کمانے کی جدوجہد میں وہ اپنی خاندانی اور سماجی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھتے ہیں۔ ظاہر ہے اگر آپ اِس دنیا میں آئے ہیں تو پیسہ کمانے کے علاوہ آپ کی ایک معاشرتی زندگی ہوتی ہے جس کا آپکو خیال رکھنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر آج بھی بہت سے مذہبی طبقات میں بینکاری کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ کئی بار ایسا ہوا اور دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی فرد بینکاری کے پیشے کو اختیار کرتا ہے تو ا±س کے رشتے دار ا±س کا سوشل بائیکاٹ کرجاتے ہیں جس کا بڑا منفی اثر ا±س فرد کی سوچ اور خاندان پر پڑتا ہے۔
لہٰذا کوئی بھی پیشہ اختیار کرتے وقت اِس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ اخلاقی اور نظریاتی اعتبار سے وہ آپ کے اور آپ کے ملنے جلنے والوں کے اذہان سے میل کھاتا ہو۔جب اِن چاروں نکات کو یکجا کرکے آپ اپنے لیے کوئی شعبہ چنیں گے تو یہ ایک آزمائی ہوئی بات ہے کہ وہ پیشہ ہر حوالے سے بہترین ثابت ہوگا اور ا±س میں آپ کا کردار مثالی ہوگا۔۔۔(بشکریہ ڈان نیوز)۔۔۔

بٹ کوائن کرنسی کی سائنس: کیا اس میں انویسٹمنٹ کرنی چاہیے؟

(تحریر:۔۔۔۔حیدر جناح)
آج کل میرے کئی دوست بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی کی دنیا میں پوری طرح غرق ہیں۔ سب نے مل کر واٹس ایپ پر ایک گروپ بنا رکھا ہے جہاں سب ایک دوسرے کو نئی نئی کرنسیوں کے بارے میں دلچسپ آرٹیکل اور ریسرچ پیپرز بھیجتے ہیں۔شروع میں تو میں نے نظر انداز کیا لیکن پھر اخبارات میں بٹ کوائن کی بڑھتی ہوئی قیمت کے بارے میں پڑھا تو جھنجھلا کے مگر رازداری میں نکموں کے بھیجے ہوئے ریسرچ پیپرز بھی پڑھے۔21جولائی کو میں نے بغیر کسی کو بتائے بیگم کے سونے کے بعد 100 پاو¿نڈ کے بٹ کوائن ایک موبائل ایپ کے ذریعے خرید لئے۔ 100پاو¿نڈ میں بٹ کوائن کی چند چھینٹیں ملی۔ میں 0.06566672 بٹ کوائن کا مالک بن چکا تھا۔ کچھ عرصے بعد دیکھا تو یہ 100پا و¿ نڈ 140 اور پھر اکتوبر 2017 کے دوسرے ہفتے میں میرے 100پاو¿نڈ 204 پاو¿نڈ بن گئے۔ پہلی بار اپنے دوستوں پر فخر ہوا اور یوں میں بھی کرپٹو کرنسی کی دنیا میں کود پڑا۔
ڈیجیٹل کرنسی کیا ہے؟
عموماً ڈیجیٹل کرنسی کو ورچوئل (خیالی یا مجازی) کرنسی بھی کہتے ہیں۔ کرنسی کو ورچوئل کہنا اکثر ڈیجیٹل کرنسی ماہرین کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ وہ اس لئے کہ ” ورچوئل” لفظ یعنی “اصل جیسے” کےلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن “اصل ” کےلئے نہیں جبکہ ڈیجیٹل کرنسی ایک الیکٹرونک رجسٹر میں محفوظ کی جاسکتی ہے۔ چینی زبان میں لفظ “ورچوئل ” کا ترجمہ (Created from nothing)ہے یعنی ایک ایسی چیز جو کسی بھی شہ سے نا بنی ہو۔دراصل یہ ورچوئل کرنسی ایک حقیقت ہے اور موجود ہے اس لئے ورچوئل کو ڈیجیٹل کرنسی کہا جائے تو بہتر ہے۔ “ڈیجیٹل کرنسی ” انکرپشن (خفیہ کاری) کے ذریعے پیدا ہوتی ہے اور انکرپشن ہی کے ذریعے اس کی مانیٹرنگ بھی کی جاتی ہے۔
ٹرانسیشکن ایک پبلک لیجر(Ledger) میں محفوظ ہوجاتی ہیں جسے ٹرانسیکشن بلاک چین بھی کہتے ہیں۔
نئی اور جدید کرنسی پیدا کرنےوالے اس عمل کو “مائننگ” کہتے ہیں۔ آج پوری دنیا میں انفرادی اور اداروں کی سطح پر ڈیجیٹل کرنسی کا تبادلہ عام ہوچکا ہے۔ کرپٹو کرنسی دراصل صرف بیس سال پرانی ہے۔
بٹ کوائن کی تاریخ
ریسرچ کے مطابق ” بٹ گولڈ ” پہلی ڈیجیٹل کرنسی تھی جو کہ 1997-1998 میں ڈی سینٹر لائزڈ ڈیجیٹل کرنسی کے طور پر سامنے آئی۔ “ساتوشی ناکاموتو ” نامی ایک صاحب / صاحبہ یا گروپ نے اسی ڈیجیٹل کرنسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تفصیلی پیپر شائع کیا اور کچھ ہی دن میں بٹ کوائن سامنے آیا۔
2007 سے بٹ کوائن کو لوگوں نے سنجیدگی سے لینا شروع کردیا۔ آج سب سے زیادہ کامیاب ڈیجیٹل کرنسی یعنی 1 بٹ کوائن 4000 پاﺅنڈ سے زیادہ کا ہے۔ دنیا میں ایک ہزار سے زیادہ کرپٹو کرنسیز ٹریڈنگ کےلئے موجود ہیں۔ اس مارکیٹ کی سرمایہ کاری 100 بلین ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
مغربی دنیا میں رہنے والے دوست یہ بات جانتے ہیں کہ آن لائن شاپنگ کا رجحان پچھلے پانچ سال میں کس قدر بڑھ چکا ہے۔کرپٹو کرنسی اسی طرح استعمال ہوتی ہے جس طرح آپ پے پال (PayPal) یا کریڈٹ کارڈ سے آن لائن شاپنگ کرتے ہیں۔
کچھ بڑی آن لائن کمپنیز نے اب کرپٹو کرنسی قبول کرنا شروع کردی ہے۔ امریکہ کی مشہور ٹریول ویب سائٹ “ایکسپیڈیا” اب بٹ کوائن قبول کرتی ہے ، یعنی آپ اپنی اگلی چھٹیاں بٹ کوائن کے ذریعے بک کرسکتے ہیں۔ ویب سائٹ آپ کی بٹ کوائن ادائیگی کو قبول کرلیتی ہے اور باآسانی اسے ڈالر میں تبدیل کردیتی ہے۔
یہاں یہ بتانا بے حد ضروری ہے کہ بٹ کوائن کا کوئی “مالک یا اونر ” نہیں ہے۔ یہ کرنسی “ریگولیٹڈ ” بھی نہیں ہے۔ یہ کرنسی ایک دوست سے دوسرے دوست تک کسی بینک یا انسٹی ٹیوشن کے عمل دخل کے بغیر منتقل کی جاسکتی ہے ، یعنی باقاعدگی سے کوئی ٹریس نہیں کرسکتا کیونکہ یہ کرنسی ملکوں کے قوانین اور اکنامکس کے کئی اصولوں سے مبرا ہے۔
یہ کرنسی انٹرنیٹ کی طرح ڈی سینٹرلائزڈ ہے یعنی جیسے انٹرنیٹ کا کوئی دیس نہیں ہے اس کرنسی کا بھی کوئی وطن نہیں ہے۔ یہ کرنسی صرف اس لئے آج تک زندہ ہے کیونکہ کروڑوں کمپیوٹر ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔
کیا یہ پیسے چوری ہوسکتے ہیں؟
یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کا جواب ہے، جی ہاں۔ یہ پیسے بھی چوری ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ کے بٹ کوائن والٹ کی اسناد چوری ہوگئی تو سمجھیں بٹ کوائن بھی گئے۔ ” بٹ کوائن والٹ ” ایک بٹوا ہے جس میں آپ اپنے بٹ کوائن محفوظ رکھتے ہیں۔ ہر بٹوے کا ایک ایڈریس ہوتا ہے جو کہ حروف تہجی اور نمبروں (ایلفابیٹس اینڈ نمبرز) کا ایک مجموعہ ہوتا ہے۔ اس بٹوے کو استعمال کرنے کےلئے آپ کے پاس ایک ’کی‘ یعنی چابی ہونا ضروری ہے۔یہ پرائیویٹ ’چابی‘ ایک پاسورڈ ہے جو آپ خود منتخب نہیں کرسکتے۔ آپ کی چابی آپ کے بٹوے کے اڈریس سے ماخوذ ایک خاص ایلگوریتھم (algorithm) ہے جو آپ خود بھی نہیں جان سکتے۔اگر آپ کبھی بٹوے کا ایڈریس بھول بھی گئے تو آپ کی چابی سے آپ کے سارے اگلے پچھلے والٹ یعنی بٹوے کھولے جاسکتے ہیں۔ یوں کہیے آپ بیوی کو بتائے بغیر اَن گنت بٹوے (والٹ ) رکھ سکتے ہیں مگر آپ کی یہ چابی کسی کے ہاتھ لگ گئی تو آپ اپنی ڈیجیٹل کرنسی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
ہر طرح کی سرمایہ کاری میں خطرہ ہوتا ہے مگر کرپٹو کرنسی کا موازنہ اگر روایتی سرمایہ کاری سے کیا جائے جیسے جائیداد اور اسٹاکس تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کرپٹو کرنسی کو زیادہ خطرہ لاحق ہو گا کیونکہ بہت نئی ہے اور فطراً زیادہ رسکی ہے۔ہندوستان اور چائنا کی حکومتوں نے بھی لوگوں کو حال ہی میں برطانیہ کے ایف سی اے سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔یعنی مارکیٹ میں جعلی ڈیجیٹل کرنسی بھی مل رہی ہے اور لوگ باآ سا نی بیوقوف بن رہے ہیں۔
کیا آپ کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنا چاہیے ؟
اس کےلئے آپ کو ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے ملک کے قوانین کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کسی ماہر سے ملنے کی ضرورت ہے جو آپ
کو اس کرنسی میں سرمایہ کاری کے منفی اور مثبت عناصر کے بارے میں صحیح سے سمجھا سکے۔ فی الحال میں نے کل 300 پاو¿نڈ کی سرمایہ کاری کر ر کھی ہے اگر اگلے سال تک یہ پیسے د±گنے ہوگئے تو میں ایک دوست سے لگائی گئی شرط ہار جاو¿ں گا اور آدھے پیسے مجھے اپنے ایک دوست کو د ینا ہوں گے جو شرط جیت جائے گا۔ جعلی کرپٹو کرنسی اور لالچی دوستوں سے ہوشیار رہیے یہی آپ کےلئے بہتر ہے۔
لکھاری حیدر جناح برطانیہ میں ایک بینکر ہیں۔

بغیر محنت آمدنی ،مگر کیسے؟

(پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
میڈیا میں آنیوالے ایسے اشتہارات جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بغیر کسی محنت کے ہر ماہ با آسانی لاکھوں رو پے کمائیے ، سراسر جھوٹ ہوتے ہیں کیونکہ گوگل ایڈسینس سے بہتر اور مستقل آمدنی کےلئے کافی محنت کرنی پڑتی ہے تاہم یہ بات درست ہے کہ اس سے مناسب ماہانہ آمدنی حاصل ہوتی ہے اوریہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ اتنی ہی محنت آئی ٹی سے وابستہ کسی اور فیلڈ میں کریں تو شاید اس سے زیادہ آمدنی حاصل ہوجائے۔زیادہ آمدنی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے اس بارے میں پہلی بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ گوگل نے آپ کو ڈالر نہیں دینے، بلکہ آپ نے گوگل کو ڈالر کما کر دینے ہیں، جس میں سے گوگل اپنا حصہ اٹھا کر باقی رقم آپ کو بھیج دیتا ہے۔اسلئے زیادہ آ مد نی کےلئے آپ کی ویب سائٹ یابلاگ کا مواد کارآمد، اچھا اورمعیاری ہونا ضروری ہے،البتہ یہ مواد کسی کی رسوائی کا باعث نہ ہو، فحش نہ ہو، حقو ق دانش (کاپی رائٹ) کی خلاف ورزی نہ ہو، یعنی آپ کا اپنا ہو، جرائم کی ترغیب دینے والا مواد نہ ہو۔ویب سائٹ،بلاگ خوبصورت اور جاذب نظر ہو، اور ڈیزائن ایسا ہونا چاہیے جسے قارئین با آسانی استعمال کرسکیں۔ ایسے مواد کا انتخاب کیا جائے جس میں انٹرنیٹ صارفین کی اکثریت پڑھنے،سننے اوردیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہو، جبکہ ہر روز اس میں کچھ نیا ضرور شامل ہو۔
گوگل ایڈسینس پروگرام چونکہ بنیادی طور پر ویب سائٹ سے منسلک ہے، اسلئے اس پروگرام کےساتھ شراکت داری کر کے کمانے کیلئے و یب سائٹ کے جملہ فنی اموراور مواد کی تیاری میں مہارت ہونی چاہیے۔اگر ان دونوں چیزوں پر مہارت نہیں تو پھر سرمایہ ہونا چاہیے، تاکہ مواد کی تیاری اور فنی امور کےلئے پیشہ ور افراد کی خدمات بعوض معاوضہ حاصل کی جاسکیں۔زیا دہ سے زیادہ آمدن اور کامیابی کیلئے نئے راستے تلاش کرنا بھی ضروری ہے تاکہ سائٹ یا بلاگ پر وزیٹرز کی تعداد بڑھے اور وہ زیادہ دیر تک سائٹ یا بلاگ پر موجود رہیں ۔کاپی پیسٹ والا آئیڈیا وقت برباد کرنے کے سواءکچھ نہیں ۔یعنی گوگل ایڈسینس پروگرام میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے نئے آئیڈیاز جن سے لوگوں کی توجہ حاصل کی جاسکے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ویب سائٹ پر مواد باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنا بھی کامیابی کی ایک شرط ہے ،اگر آپ کسی ویب سائٹ کو اپنا حریف تصور کرتے ہیں، تواسکے مقا بلے میں اپنی سروس کوبہتر، منفرد اور ممتاز انداز میں پیش کریں ،اس بات پربھی غور و فکر کریں کہ ویب سائٹ پر ایسی کون سی انفارمیشن یا مواد پیش کی جائے جو پہلے سے انٹرنیٹ پر موجود نہ ہو، مگر اس کی انٹرنیٹ صارفین کو ضرورت بھی ہو،کس طرح زیادہ تعداد میں لوگوں کو اپنی ویب سائٹ پر زیادہ وقت کےلئے مصروف رکھاجاسکتا ہے ،کس طرح متوجہ کیا جا سکتا ہے کہ سستی ویب ٹریفک حاصل کی جائے۔
گوگل ایڈسینس میں شمولیت سے پہلے آپ کو گوگل ایڈسینس کے پروگرام اور پالیسی کا اچھی طرح مطالعہ کرنا چاہیے۔ پھر تھیم کے مطابق ایک ویب سائٹ،بلاگ سائٹ تیار کرنی ہے، جس میں ہر ہفتے کچھ بہتر اور معیاری مواد شامل کرنا ہے۔ اس کے بعد اپنی ویب سائٹ کی تشہیر کرنی ہوگی تاکہ ویب سائٹ کی ٹریفک بڑھے، جس کےلئے سوشل میڈیا اور اپنے دوستوں کو ای میل کرسکتے ہیں۔ تقریباً 90 سے 120 دن کے بعد جب آپ کی ویب سائٹ پر مناسب ٹریفک ہوجائے، تب آپ کو گوگل ایڈسینس اکاوئنٹ کےلئے اپلائے کرنا چاہیے۔ عموماً غیر معیا ر ی مواد اور نامناسب ٹریفک کی وجہ سے گوگل ایڈسینس اکاوئنٹ کی درخواست مسترد کردی جاتی ہے۔جبکہ اکاﺅنٹ کی درخواست منظور ہونے کی صورت میں گوگل ٹیم کی جانب سے سائٹ اور مواد کو بہتر کرنے کےلئے ہر ہفتے تجویز بھیجی جاتی ہیں جن پر عمل کر کے ویب ٹریفک اور آمدنی بہتر کی جا سکتی ہے ، اسی طرح یوٹیوب پر بھی گوگل ایڈسینس ٹیم نے کافی تعداد میں ویڈیوز اپ لوڈ کر رکھی ہیں جن سے استفادہ حاصل کر کے اپنے ٹارگٹ تک پہنچا جا سکتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیادہ اور مستحکم آمدنی کیلئے ایسی ویب سائٹ ہونی چاہیے جو امریکہ ، برطانیہ کے قارئین کی ضروریات کو پوری کرتی ہو کیونکہ پاکستان اور بھارت کے ویب صارف کے وزٹ اور کلک کی قیمت جبکہ امریکہ ، بر طا نیہ کے ویب صارفین کے وزٹ اور کلک کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے،مثال کے طور پر اگر آپ کی ویب سائٹ پر روزانہ تین سو افراد پاکستانی آتے ہیں تو 2 ڈالر یومیہ آمدنی ہوگی جبکہ اتنی ہی تعداد میں امریکی ویب صارفین کے وزٹ سے آمدنی 12 ڈالر یومیہ متوقع ہے۔
اب آخری سوال آپ کے ذہنوں میں یہ گونج رہا ہوگا کہ ان تمام مراحل کو آپ طے بھی کر لیں تو رقم کیسے اور کب ملے گی ؟تو اس حوالے سے
ہر ماہ کے آخر میں اگر آمدنی سو ڈالر سے زیادہ ہو تو گوگل اس رقم کو اگلے ماہ کے آخر میں بھیجتا ہے۔ مثلاً ماہ ستمبرکی ادائیگی اکتوبر کے آخری عشرہ میں وصول ہوگی۔ گوگل پاکستان کے اندر ویسٹرن یونین کے ذریعے رقم منتقل کرتا ہے۔ ویسٹرن یونین سے رقم آپ اپنے بینک اکاو¿نٹ میں منتقل کرواسکتے ہیں یا ان کے دفتر جا کر خود وصول کرسکتے ہیں۔

گوگل سے ڈالرز کمانے کے طریقے

۔۔ پاکستان آن لائن ٹریڈرز۔۔۔
انٹرنیٹ سے کمانے کے مختلف طریقے ہیں لیکن گوگل سے کیسے کمایا جا سکتا ہے اس مضمون میں آپ کو تفصیل سے بتایا جائےگا۔ پا کستا ن آن لائن ٹریڈرزیوٹیوب سے آمدنی کے بارے میں تو آپکو بتا چکے ہیں اور گزشتہ مضامین میںایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ سے متعلق بھی کچھ آگاہی فراہم کی جا چکی ہے ، اب آپکو گوگل ایڈسینس کے بارے میں مفید معلومات فراہم کی جائیں گی تاکہ آپ آسان اور بہتر اندا ز میں آمدن کرسکیں۔
دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل ہے اور اس کا اشتہارات نشر کرنے کا پروگرام گوگل ایڈسینس کہلاتا ہے، جس میں شامل ہونے کیلئے ضروری ہے کہ آپ کے پاس اپنی کوئی ذاتی ویب سائٹ ہو، جس پر آپ گوگل کو اشتہارات نشر کرنےکی اجازت دے سکیں۔ گوگل اشتہارات دینے والوں سے سائٹ پر اشتہارات دکھانے کے پیسے نہیں لیتا، بلکہ جب کوئی اس اشتہار کلک کرتا ہے، تب ان سے فی کلک کے حساب سے رقم وصول کی جاتی ہے اور حاصل ہونےوالی آمدنی اس ویب سائٹ اور گوگل کے مابین ایک طے شدہ فارمولا کے تحت تقسیم ہوتی ہے۔
اگر آپ انٹرنیٹ پر اپنی ویب سائٹ،بلاگ پر اشتہارات کے ذریعے آمدنی کے خواہشمند ہیں، تو سب سے مو¿ثر اور آسان طریقہ یہ ہے کہ گوگل کی ایڈسینس سروس حاصل کر یں ،جس سے اشتہارات کی تیاری،وصولی، کمپنیز سے رابطہ، رقم کی وصولی، اشتہارات کے جملہ دفتری امور وغیرہ کی ذمہ داری گوگل ایڈسینس کے ذمہ ہو جاتی ہے ۔
گوگل ایڈسینس پروگرام میں ویسے تو ہر کوئی شامل ہوسکتا ہے لیکن کامیابی صرف ان ہی افراد کو ملتی ہے جو انٹرنیٹ پر لوگوں کےلئے مفید سرگرمیاں اور دلچسپ مواد فراہم کرتے ہیں، کیونکہ اس میں کامیابی کا جملہ انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کی ویب سائٹ یا بلاگ کو کتنے لوگ وزٹ کر تے ہیں ۔یہ تو عام فہم بات ہے کہ لوگ ایسی ہی ویب سائٹس اور بلاگز پر بار بار آتے ہیں جن میں دلچسپ اور تازہ ترین مواد ہر وقت موجود رہتا ہے۔اس لئے جو بھی پڑھا لکھا شخص اپنے فارغ وقت میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ذریعے لوگوں کو بہترین اور ان کی پسند پر مبنی معلومات وغیرہ مہیاکر سکتاسکتا ہے، توگوگل ایڈ سینس سے وہ خاطر خواہ ماہانہ آمدن کا حامل ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں افراد گوگل ایڈ سینس سے منسلک ہیں، جن میں کمپیوٹر سائنس،آئی ٹی سے وابستہ افراد، تخلیق کار، استاد، لکھاری، بلاگرز، صحافی، گھریلو خواتین، طلبہ ، ڈاکٹرز، جز وقتی ملازمت پیشہ افراد اور دیگر شامل ہیں۔ گوگل ایڈسینس سے کتنی آمدن ہو سکتی ہے، تو یہ آپ کی صلاحیتوں پر منحصر ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ماہانہ 10،20 ہزار روپے سے لے کر 10 لاکھ روپے تک کما رہے ہیں۔ گوگل کمپنی کا کہنا ہے اس نے 2014 میں 10ارب ڈالرز ایڈسینس پروگرام میں شریک افراد میں تقسیم کیے۔
مواد کس زبان میں ہونا چاہیے؟
گوگل ایڈسینس پروگرام میں شامل ہونے کےلئے لازمی ہے کہ آپ کی ویب سائٹ،بلاگ کا پرائمری مواد انگریزی زبان میں ہو جبکہ گوگل ایڈسینس کچھ دیگر زبانوں کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔لیکن ابھی تک گوگل ایڈسینس اردو کو سپورٹ نہیں کرتا، (بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، گوگل آئندہ سال اردو زبان کو بھی شامل کرنےوالا ہے) ویسے بھی اردو یا غیر منظور شدہ زبانوں میں موجود ویب سائٹس پر آمدن نہ ہونے کے برابر ہے، اسلئے بہتر یہی ہے کہ آپ کا مواد انگریزی یا دیگر منظور شدہ زبانوں میں ہو۔۔۔ جاری ۔۔۔

یوٹیوب سے آمدن کیسے ہو؟ یوٹیوب ہی سے سیکھیں

(پاکستان آن لائن ٹریڈرزرپورٹ)
ویسے تو بے شمار لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آپ کو آن لائن کمانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں، لیکن عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ ان میں سے اکثر فراڈ ہیں، اور ان کے پاس کوئی خاص علم نہیں ہوتا۔ان کی طرف وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ آپ خود سیکھنے کی کوشش کریں۔ تقریباً تمام ہی ضروری معلومات آپ کو خود یوٹیوب سے مل سکتی ہیں۔ اس کےلئے ’ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان‘ کے اس موضوع پر ویڈیو لیکچرز موجود ہیں جو ویڈیو کی تیاری میں کافی مدد گار ہوسکتے ہیں۔ان پروگرام کے کورس کوڈز ۔۔۔ایم سی ڈی 403، میوزک پروڈکشن۔۔۔ایم سی ڈی 404، ا?ڈیو ویڑوئل ایڈیٹنگ۔۔۔ایم سی ڈی 503، نیوز اینڈ کرنٹ افیئرزہیں ۔ان پر کئی گھنٹوں کی ویڈیوز آن لائن فری میں دستیاب ہیں۔ آپ یوٹیوب پر کورس کو نام سے سرچ کرسکتے ہیں اور یوں آپ کو مکمل ویڈیو کورس دستیاب ہوجائے گا۔
بس اگر آپ کو ویڈیو کو بطور میڈیم استعمال کرنے کا شوق ہے یا آپ پہلے سے اس فیلڈ سے منسلک ہیں، تو آپ کو ضرور اس سمت میں بھی کوشش کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے اس سے آپ کو کافی مالی فائدہ حاصل ہو۔اس لئے فارغ رہنے سے کچھ کوشش کرنا زیادہ بہتر ہے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ آپ ناکام ہو جائیں گے اور کوئی آمدنی نہیں ہوگی۔ لیکن پھر بھی آپ بہت کچھ سیکھ چکے ہوں گے، جیسا کہ ونسٹن چرچل نے کہا تھا “جذبہ ماند پڑے بغیر ایک ناکامی سے دوسری ناکامی تک جانے کا نام ہی کامیابی ہے۔”

یوٹیوب چینل کیسے بنتا اور چلتا ہے

(پاکستان آن لائن ٹریڈرزرپورٹ)
ویڈیو کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والے 18 سال سے زائد عمر کے افراد یوٹیوب پر اپنا ذاتی چینل قائم کرسکتے ہیں، جس کا طریقہ کار بہت آسان ہے،جو صرف ایک ای میل ایڈریس کی مدد سے بنایا جا سکتاہے، چینل قائم کرنے کے بہت سے فوائد ہیں، جس میں اس کا بالکل مفت ہونا، اس کا مشہور ہونا، تازہ ویڈیو مواد کا خودکار طریقے سے سرچ انجن میں شامل ہونا وغیرہ شامل ہیں۔اہم بات یہ ہوتی ہے کہ کس قسم کا مواد نشر کیا جاسکتا ہے؟
یوں تو رجسٹرڈ اکاوئنٹ ہولڈرز کو لامحدود ویڈیو مواد نشر کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں، جن میں یہ مواد کسی کی رسوائی کا باعث نہ ہو، فحش نہ ہو، چوری شدہ نہ ہو، یعنی آپ کا اپنا ہو، جرائم کی ترغیب دینے والا مواد نہ ہو، وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیںآپ اپنی پسند کا کوئی بھی مواد نشر کرسکتے ہیں۔لیکن سب سے ضروری یہ ہے کہ وہ مواد آپ کے ناظرین کی دلچسپی کا ہو، ورنہ نہ تو آپ کا یوٹیوب چینل مقبول ہوگا، اور نہ ہی آمدنی ہوگی۔ اس لیے ویڈیو کی تیاری میں لوگوں کی دلچسپی کا کوئی نہ کوئی عنصر لازمی ہو۔ ایسی ویڈیو اپ لوڈ نہ کریں جو یوٹیوب کے پروگرام اور پالیسی کےخلاف ہو، ورنہ آپ کا چینل یا ایڈسینس اکاو¿نٹ بند بھی ہوسکتا ہے۔
ویڈیو مواد کی تیاری کرتے وقت کچھ بنیادی باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔اول پکچر اور آواز اچھی کوالٹی کی ہو۔ویڈیو مختصر ہو: سوشل میڈیا پر لوگ ایسے مضامین اور ویڈیوز نہیں پڑھتے اور دیکھتے جو زیادہ طویل ہوں، چند منٹ کی ویڈیو تیار اور اپ لوڈ کرنا جہاںآسان ہوگا، وہیں ناظرین بھی بور نہیں ہوں گے، ویڈیو کے تیاری کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کریں جو آپ کے متوقع ناظرین کی پسند کے ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ ناظرین مل سکیں۔
یوٹیوب پر اپنے چینل قائم اور اچھی ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے بعد آمدنی شروع نہیں ہو جائے گی، بلکہ آپ کو اپنے وزیٹرز،ناظرین تک اپنا پیغام پہنچانا ہوگا، یعنی اپنے چینل کی مارکیٹنگ آپ کو خود ہی کرنی ہوگی۔اس کےلئے آپ سوشل میڈیا کی دوسری سائٹس مثلاً فیس بک، فین بکس، ٹوئٹر اور دوستوں کو ای میل کر کے کرسکتے ہیں،پ سوشل میڈیا پیجز پر باقاعدہ اشتہار بھی دے سکتے ہیں تاکہ آپ کی ویب ٹریفک زیادہ ہو۔
ویب ٹریفک بڑھنا یا اپنے چینل کی مارکیٹنگ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ گوگل ایڈسینس کی آمدنی وزیٹرز کی تعداد سے منسلک ہے۔ ایڈسینس کے اشتہارات جو آپ کی ویڈیو میں نشر ہوتے ہیں، ان پر ہر کلک کے پیسے ہوتے ہیں، اور عموماً ایک ہزار ویوز پر ایک مخصوص رقم ادا کی جاتی ہے۔ یعنی زیادہ آمدنی کےلئے زیادہ ویب ٹریفک ضروری ہے۔

ویڈیو بنائیں ، سوسائٹی کی خدمت کےساتھ پیسے کمائیں

(پاکستان آن لائن ٹریڈرزرپورٹ)
عہد حاضر میں اگر آپ کے پاس فارغ وقت ہے تو اسے سوشل میڈیا پر مفت میں خرچ کرنے سے بہتر ہے آپ یوٹیوب پر کچھ مفید کام کریں جس سے نہ صرف آپ کو کچھ آمدنی ہو بلکہ ہماری انٹرنیٹ سوسائٹی کو بھی فائدہ ہو۔اس طرح معاشرے کی خدمت کےساتھ ساتھ اضافی آمدنی بھی ہوسکتی ہے اور اگر زیادہ سنجیدگی کےساتھ یہ کام کریں تو نوکری سے زیادہ آمدنی بھی ممکن ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ یوٹیوب کو استعمال کر کے لاکھوں ڈالر سالانہ کما رہے ہیں، اس ضمن میں ان کی مستقل مزاجی ، تخلیقی صلاحیتوں اور محنت و لگن کا کافی عمل دخل ہے۔
ویسے تو یوٹیوب پر کام ہر وہ شخص کر سکتا ہے جس کو اس کا شوق ہو، لیکن ویڈیو مواد کی تیاری بہرحال ایک مشکل مرحلہ ہے، اسلئے یہ ان افراد کےلئے زیادہ موزوں ہے جو ویڈیو کو بطور میڈیم استعمال کر سکتے ہیں، مثلاً تخلیق کاروں، اساتذہ، وڈیو بلاگز، صحافی، فنکار، گلوکار، جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکشن کے طلبہ و طالبات وغیرہ۔
یوٹیوب دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ ہے جس پر کوئی بھی شخص یا کمپنی اپنی ویڈیو اپ لوڈ کر سکتی ہے، جبکہ کوئی بھی شخص بغیر کسی ممبر شپ کے یہ ویڈیو دیکھ سکتا ہے۔یوٹیوب سوائے قابل فروخت ویڈیو مواد کے کسی بھی صارف سے ویڈیو نشر کرنے یا یوٹیوب پر شائع شدہ ویڈیو دیکھنے کےلئے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ۔ویسے تو یوٹیوب 2005 میں قائم ہوئی لیکن اس کی اصل ترقی اسوقت ہوئی جب اس کو دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل انکارپوریٹڈ نے 2006 میں خرید لیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب گوگل،یوٹیوب نہ تو دیکھنے والے سے اور نہ ہی ویڈیو اپ لوڈ کرنےوالے سے پیسے لیتے ہیں ، تو اخراجات کون ادا کرتا ہے؟
اسکا سادہ سا جواب ٹی وی اور اخبارات کی طرح گوگل اور یوٹیوب اشتہارات سے خوب منافع کماتے ہیں۔ گوگل کو کل آمدنی کا 95 فیصد حصہ اشتہارات سے حاصل ہوتا ہے۔
یوٹیوب سے آمدنی کے طریقے :۔۔۔1: یوٹیوب کا پارٹنرشپ پروگرام۔۔۔2: ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ
یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام کیا ہے؟
اس پروگرام کے ذریعے یوٹیوب آپ کی تیار کردہ ویڈیو سے ہونےوالی آمدنی کا کچھ حصہ آپ کو دیتی ہے، اول تو یو ٹیوب پارٹنرشپ پروگرام میں ہر ایک کو شامل نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ دوم اگر آپ کی ویڈیو میں جان ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اس کو پسند کرتی ہے، تو اس کو یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام میں شامل کیا جاتا ہے، جس سے معقول آمدنی ہوسکتی ہے۔ یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام کے لیے لازمی ہے کہ آپ کا ویڈیو مواد معیاری ہو اور زیادہ سے زیادہ ناظرین کی دلچسپی سے متعلق ہو، تاکہ آپ کے چینل کو زیادہ سے زیادہ لوگ سبسکرائب کریں۔
ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ
بہت سے لوگ اس چیز بارے میں علم رکھتے ہونگے ،تاہم جن بھائی بہنوں کو اس کے بارے میں علم نہیں، ان کےلئے عرض ہے کہ کوئی بھی ویب سائٹ یا بلاگ سائٹ اپنی ویب سائٹ پر اشتہارات کی ذمہ داری گوگل کے سپرد کر دیتی ہیں، جس پر گوگل اپنی مرضی سے اشتہارات شائع کرتا ہے، اور اشتہارات سے جو آمدنی ہوتی ہے، وہ گوگل اور ویب سائٹ کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔
آج کل اس کی شرحِ تقسیم 32:68 ہے۔ یعنی ہر سو ڈالر میں سے 68 ڈالر ویب سائٹ کو اور 32 ڈالر گوگل میں تقسیم ہوتے ہیں۔ گوگل ایڈ سینس سے دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ویب سائٹس منسلک ہیں۔ خود پاکستان میں تقریباً تمام ہی بڑی ویب سائٹس کی زیادہ تر آمدنی گوگل ایڈسینس سے ہوتی ہے۔
ایڈسینس کی ایک اور قسم ’ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ‘ ہے، جس میں یوٹیوب پر ویڈیو کے اندر اشتہارات نشر ہوتے ہیں، جس سے حاصل ہونےوالی آمدنی ویڈیو اپ لوڈ کرنےوالے اور گوگل کے درمیان ایک خاص شرح سے تقسیم ہوتی ہے۔ ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ کے بھی کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ اگر آپ گوگل کی پالیسیوں کے مطابق کام کرتے ہیں تو اس سے اچھی خاصی ماہانہ آمدنی ہوتی ہے………. جاری

مسافروں کیلئے پاکستانی کرنسی کی حد 10 ہزار روپے مقرر

خصوصی رپورٹ:۔۔۔۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کرنسی کی حد میں اضافے کے بعد پاکستان سے جانےوالے اور آنےوالے مسافر اپنے ساتھ 10 ہزار روپے کیش رکھ سکیں گے،تاہم بھارت کے معاملے میں اس حد کو 500 روپے سے بڑھا کر 3 ہزار روپے کیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کے غیر ملکی زرمبادلہ قوانین کے مطابق نئی مقررہ حد پاکستانی بینک نوٹوں کےلئے مخصوص ہے جبکہ مسافر 10 ہزار ڈالر یا اس کے مساوی کسی بھی کرنسی کے نوٹ لے کر سفر کرسکتے ہیں۔ مقررہ حد پر نظرثانی ’بین الاقوامی مسافروں کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے‘ کی گئی ہے۔وقت کےساتھ ساتھ سامان اور سہولیات کی قیمتوں میں ہونےوالے اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے مسافروں کی آسانی کےلئے کرنسی کی مقررہ حد میں اضافہ کیا گیا۔یاد رہے قبل ازیں بھارت کے علاوہ دیگر غیر ممالک کے مسافروں کو 3 ہزار روپے جبکہ بھارت آنے جانےوالے مسافروں کو 500 پاکستانی روپے لے کر سفر کرنے کی اجازت تھی۔اس حوالے سے آخری اعلامیہ 1992 میں جاری ہوا تھا،تاہم ان مقررہ حدود پر عملد ر آمد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، ایک مسافر کے مطابق وہ 20 سال سے زائد عرصے سے پاکستان سے اور پاکستان کی جانب سفر کرتا چلا آرہاہے تاہم انتظامیہ نے آج تک کبھی تلاشی ہی نہیں لی۔