About

نواسہ رسول اللہ کاغم اورانبیاءعلیہ السلام

Source: نواسہ رسول اللہ کاغم اورانبیاءعلیہ السلام

Advertisements

بغیر محنت آمدنی ،مگر کیسے؟

(پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
میڈیا میں آنیوالے ایسے اشتہارات جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بغیر کسی محنت کے ہر ماہ با آسانی لاکھوں رو پے کمائیے ، سراسر جھوٹ ہوتے ہیں کیونکہ گوگل ایڈسینس سے بہتر اور مستقل آمدنی کےلئے کافی محنت کرنی پڑتی ہے تاہم یہ بات درست ہے کہ اس سے مناسب ماہانہ آمدنی حاصل ہوتی ہے اوریہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ اتنی ہی محنت آئی ٹی سے وابستہ کسی اور فیلڈ میں کریں تو شاید اس سے زیادہ آمدنی حاصل ہوجائے۔زیادہ آمدنی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے اس بارے میں پہلی بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ گوگل نے آپ کو ڈالر نہیں دینے، بلکہ آپ نے گوگل کو ڈالر کما کر دینے ہیں، جس میں سے گوگل اپنا حصہ اٹھا کر باقی رقم آپ کو بھیج دیتا ہے۔اسلئے زیادہ آ مد نی کےلئے آپ کی ویب سائٹ یابلاگ کا مواد کارآمد، اچھا اورمعیاری ہونا ضروری ہے،البتہ یہ مواد کسی کی رسوائی کا باعث نہ ہو، فحش نہ ہو، حقو ق دانش (کاپی رائٹ) کی خلاف ورزی نہ ہو، یعنی آپ کا اپنا ہو، جرائم کی ترغیب دینے والا مواد نہ ہو۔ویب سائٹ،بلاگ خوبصورت اور جاذب نظر ہو، اور ڈیزائن ایسا ہونا چاہیے جسے قارئین با آسانی استعمال کرسکیں۔ ایسے مواد کا انتخاب کیا جائے جس میں انٹرنیٹ صارفین کی اکثریت پڑھنے،سننے اوردیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہو، جبکہ ہر روز اس میں کچھ نیا ضرور شامل ہو۔
گوگل ایڈسینس پروگرام چونکہ بنیادی طور پر ویب سائٹ سے منسلک ہے، اسلئے اس پروگرام کےساتھ شراکت داری کر کے کمانے کیلئے و یب سائٹ کے جملہ فنی اموراور مواد کی تیاری میں مہارت ہونی چاہیے۔اگر ان دونوں چیزوں پر مہارت نہیں تو پھر سرمایہ ہونا چاہیے، تاکہ مواد کی تیاری اور فنی امور کےلئے پیشہ ور افراد کی خدمات بعوض معاوضہ حاصل کی جاسکیں۔زیا دہ سے زیادہ آمدن اور کامیابی کیلئے نئے راستے تلاش کرنا بھی ضروری ہے تاکہ سائٹ یا بلاگ پر وزیٹرز کی تعداد بڑھے اور وہ زیادہ دیر تک سائٹ یا بلاگ پر موجود رہیں ۔کاپی پیسٹ والا آئیڈیا وقت برباد کرنے کے سواءکچھ نہیں ۔یعنی گوگل ایڈسینس پروگرام میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے نئے آئیڈیاز جن سے لوگوں کی توجہ حاصل کی جاسکے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ویب سائٹ پر مواد باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنا بھی کامیابی کی ایک شرط ہے ،اگر آپ کسی ویب سائٹ کو اپنا حریف تصور کرتے ہیں، تواسکے مقا بلے میں اپنی سروس کوبہتر، منفرد اور ممتاز انداز میں پیش کریں ،اس بات پربھی غور و فکر کریں کہ ویب سائٹ پر ایسی کون سی انفارمیشن یا مواد پیش کی جائے جو پہلے سے انٹرنیٹ پر موجود نہ ہو، مگر اس کی انٹرنیٹ صارفین کو ضرورت بھی ہو،کس طرح زیادہ تعداد میں لوگوں کو اپنی ویب سائٹ پر زیادہ وقت کےلئے مصروف رکھاجاسکتا ہے ،کس طرح متوجہ کیا جا سکتا ہے کہ سستی ویب ٹریفک حاصل کی جائے۔
گوگل ایڈسینس میں شمولیت سے پہلے آپ کو گوگل ایڈسینس کے پروگرام اور پالیسی کا اچھی طرح مطالعہ کرنا چاہیے۔ پھر تھیم کے مطابق ایک ویب سائٹ،بلاگ سائٹ تیار کرنی ہے، جس میں ہر ہفتے کچھ بہتر اور معیاری مواد شامل کرنا ہے۔ اس کے بعد اپنی ویب سائٹ کی تشہیر کرنی ہوگی تاکہ ویب سائٹ کی ٹریفک بڑھے، جس کےلئے سوشل میڈیا اور اپنے دوستوں کو ای میل کرسکتے ہیں۔ تقریباً 90 سے 120 دن کے بعد جب آپ کی ویب سائٹ پر مناسب ٹریفک ہوجائے، تب آپ کو گوگل ایڈسینس اکاوئنٹ کےلئے اپلائے کرنا چاہیے۔ عموماً غیر معیا ر ی مواد اور نامناسب ٹریفک کی وجہ سے گوگل ایڈسینس اکاوئنٹ کی درخواست مسترد کردی جاتی ہے۔جبکہ اکاﺅنٹ کی درخواست منظور ہونے کی صورت میں گوگل ٹیم کی جانب سے سائٹ اور مواد کو بہتر کرنے کےلئے ہر ہفتے تجویز بھیجی جاتی ہیں جن پر عمل کر کے ویب ٹریفک اور آمدنی بہتر کی جا سکتی ہے ، اسی طرح یوٹیوب پر بھی گوگل ایڈسینس ٹیم نے کافی تعداد میں ویڈیوز اپ لوڈ کر رکھی ہیں جن سے استفادہ حاصل کر کے اپنے ٹارگٹ تک پہنچا جا سکتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیادہ اور مستحکم آمدنی کیلئے ایسی ویب سائٹ ہونی چاہیے جو امریکہ ، برطانیہ کے قارئین کی ضروریات کو پوری کرتی ہو کیونکہ پاکستان اور بھارت کے ویب صارف کے وزٹ اور کلک کی قیمت جبکہ امریکہ ، بر طا نیہ کے ویب صارفین کے وزٹ اور کلک کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے،مثال کے طور پر اگر آپ کی ویب سائٹ پر روزانہ تین سو افراد پاکستانی آتے ہیں تو 2 ڈالر یومیہ آمدنی ہوگی جبکہ اتنی ہی تعداد میں امریکی ویب صارفین کے وزٹ سے آمدنی 12 ڈالر یومیہ متوقع ہے۔
اب آخری سوال آپ کے ذہنوں میں یہ گونج رہا ہوگا کہ ان تمام مراحل کو آپ طے بھی کر لیں تو رقم کیسے اور کب ملے گی ؟تو اس حوالے سے
ہر ماہ کے آخر میں اگر آمدنی سو ڈالر سے زیادہ ہو تو گوگل اس رقم کو اگلے ماہ کے آخر میں بھیجتا ہے۔ مثلاً ماہ ستمبرکی ادائیگی اکتوبر کے آخری عشرہ میں وصول ہوگی۔ گوگل پاکستان کے اندر ویسٹرن یونین کے ذریعے رقم منتقل کرتا ہے۔ ویسٹرن یونین سے رقم آپ اپنے بینک اکاو¿نٹ میں منتقل کرواسکتے ہیں یا ان کے دفتر جا کر خود وصول کرسکتے ہیں۔

گوگل سے ڈالرز کمانے کے طریقے

۔۔ پاکستان آن لائن ٹریڈرز۔۔۔
انٹرنیٹ سے کمانے کے مختلف طریقے ہیں لیکن گوگل سے کیسے کمایا جا سکتا ہے اس مضمون میں آپ کو تفصیل سے بتایا جائےگا۔ پا کستا ن آن لائن ٹریڈرزیوٹیوب سے آمدنی کے بارے میں تو آپکو بتا چکے ہیں اور گزشتہ مضامین میںایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ سے متعلق بھی کچھ آگاہی فراہم کی جا چکی ہے ، اب آپکو گوگل ایڈسینس کے بارے میں مفید معلومات فراہم کی جائیں گی تاکہ آپ آسان اور بہتر اندا ز میں آمدن کرسکیں۔
دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل ہے اور اس کا اشتہارات نشر کرنے کا پروگرام گوگل ایڈسینس کہلاتا ہے، جس میں شامل ہونے کیلئے ضروری ہے کہ آپ کے پاس اپنی کوئی ذاتی ویب سائٹ ہو، جس پر آپ گوگل کو اشتہارات نشر کرنےکی اجازت دے سکیں۔ گوگل اشتہارات دینے والوں سے سائٹ پر اشتہارات دکھانے کے پیسے نہیں لیتا، بلکہ جب کوئی اس اشتہار کلک کرتا ہے، تب ان سے فی کلک کے حساب سے رقم وصول کی جاتی ہے اور حاصل ہونےوالی آمدنی اس ویب سائٹ اور گوگل کے مابین ایک طے شدہ فارمولا کے تحت تقسیم ہوتی ہے۔
اگر آپ انٹرنیٹ پر اپنی ویب سائٹ،بلاگ پر اشتہارات کے ذریعے آمدنی کے خواہشمند ہیں، تو سب سے مو¿ثر اور آسان طریقہ یہ ہے کہ گوگل کی ایڈسینس سروس حاصل کر یں ،جس سے اشتہارات کی تیاری،وصولی، کمپنیز سے رابطہ، رقم کی وصولی، اشتہارات کے جملہ دفتری امور وغیرہ کی ذمہ داری گوگل ایڈسینس کے ذمہ ہو جاتی ہے ۔
گوگل ایڈسینس پروگرام میں ویسے تو ہر کوئی شامل ہوسکتا ہے لیکن کامیابی صرف ان ہی افراد کو ملتی ہے جو انٹرنیٹ پر لوگوں کےلئے مفید سرگرمیاں اور دلچسپ مواد فراہم کرتے ہیں، کیونکہ اس میں کامیابی کا جملہ انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کی ویب سائٹ یا بلاگ کو کتنے لوگ وزٹ کر تے ہیں ۔یہ تو عام فہم بات ہے کہ لوگ ایسی ہی ویب سائٹس اور بلاگز پر بار بار آتے ہیں جن میں دلچسپ اور تازہ ترین مواد ہر وقت موجود رہتا ہے۔اس لئے جو بھی پڑھا لکھا شخص اپنے فارغ وقت میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ذریعے لوگوں کو بہترین اور ان کی پسند پر مبنی معلومات وغیرہ مہیاکر سکتاسکتا ہے، توگوگل ایڈ سینس سے وہ خاطر خواہ ماہانہ آمدن کا حامل ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں افراد گوگل ایڈ سینس سے منسلک ہیں، جن میں کمپیوٹر سائنس،آئی ٹی سے وابستہ افراد، تخلیق کار، استاد، لکھاری، بلاگرز، صحافی، گھریلو خواتین، طلبہ ، ڈاکٹرز، جز وقتی ملازمت پیشہ افراد اور دیگر شامل ہیں۔ گوگل ایڈسینس سے کتنی آمدن ہو سکتی ہے، تو یہ آپ کی صلاحیتوں پر منحصر ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ماہانہ 10،20 ہزار روپے سے لے کر 10 لاکھ روپے تک کما رہے ہیں۔ گوگل کمپنی کا کہنا ہے اس نے 2014 میں 10ارب ڈالرز ایڈسینس پروگرام میں شریک افراد میں تقسیم کیے۔
مواد کس زبان میں ہونا چاہیے؟
گوگل ایڈسینس پروگرام میں شامل ہونے کےلئے لازمی ہے کہ آپ کی ویب سائٹ،بلاگ کا پرائمری مواد انگریزی زبان میں ہو جبکہ گوگل ایڈسینس کچھ دیگر زبانوں کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔لیکن ابھی تک گوگل ایڈسینس اردو کو سپورٹ نہیں کرتا، (بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، گوگل آئندہ سال اردو زبان کو بھی شامل کرنےوالا ہے) ویسے بھی اردو یا غیر منظور شدہ زبانوں میں موجود ویب سائٹس پر آمدن نہ ہونے کے برابر ہے، اسلئے بہتر یہی ہے کہ آپ کا مواد انگریزی یا دیگر منظور شدہ زبانوں میں ہو۔۔۔ جاری ۔۔۔

یوٹیوب سے آمدن کیسے ہو؟ یوٹیوب ہی سے سیکھیں

(پاکستان آن لائن ٹریڈرزرپورٹ)
ویسے تو بے شمار لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آپ کو آن لائن کمانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں، لیکن عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ ان میں سے اکثر فراڈ ہیں، اور ان کے پاس کوئی خاص علم نہیں ہوتا۔ان کی طرف وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ آپ خود سیکھنے کی کوشش کریں۔ تقریباً تمام ہی ضروری معلومات آپ کو خود یوٹیوب سے مل سکتی ہیں۔ اس کےلئے ’ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان‘ کے اس موضوع پر ویڈیو لیکچرز موجود ہیں جو ویڈیو کی تیاری میں کافی مدد گار ہوسکتے ہیں۔ان پروگرام کے کورس کوڈز ۔۔۔ایم سی ڈی 403، میوزک پروڈکشن۔۔۔ایم سی ڈی 404، ا?ڈیو ویڑوئل ایڈیٹنگ۔۔۔ایم سی ڈی 503، نیوز اینڈ کرنٹ افیئرزہیں ۔ان پر کئی گھنٹوں کی ویڈیوز آن لائن فری میں دستیاب ہیں۔ آپ یوٹیوب پر کورس کو نام سے سرچ کرسکتے ہیں اور یوں آپ کو مکمل ویڈیو کورس دستیاب ہوجائے گا۔
بس اگر آپ کو ویڈیو کو بطور میڈیم استعمال کرنے کا شوق ہے یا آپ پہلے سے اس فیلڈ سے منسلک ہیں، تو آپ کو ضرور اس سمت میں بھی کوشش کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے اس سے آپ کو کافی مالی فائدہ حاصل ہو۔اس لئے فارغ رہنے سے کچھ کوشش کرنا زیادہ بہتر ہے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ آپ ناکام ہو جائیں گے اور کوئی آمدنی نہیں ہوگی۔ لیکن پھر بھی آپ بہت کچھ سیکھ چکے ہوں گے، جیسا کہ ونسٹن چرچل نے کہا تھا “جذبہ ماند پڑے بغیر ایک ناکامی سے دوسری ناکامی تک جانے کا نام ہی کامیابی ہے۔”

یوٹیوب چینل کیسے بنتا اور چلتا ہے

(پاکستان آن لائن ٹریڈرزرپورٹ)
ویڈیو کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والے 18 سال سے زائد عمر کے افراد یوٹیوب پر اپنا ذاتی چینل قائم کرسکتے ہیں، جس کا طریقہ کار بہت آسان ہے،جو صرف ایک ای میل ایڈریس کی مدد سے بنایا جا سکتاہے، چینل قائم کرنے کے بہت سے فوائد ہیں، جس میں اس کا بالکل مفت ہونا، اس کا مشہور ہونا، تازہ ویڈیو مواد کا خودکار طریقے سے سرچ انجن میں شامل ہونا وغیرہ شامل ہیں۔اہم بات یہ ہوتی ہے کہ کس قسم کا مواد نشر کیا جاسکتا ہے؟
یوں تو رجسٹرڈ اکاوئنٹ ہولڈرز کو لامحدود ویڈیو مواد نشر کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں، جن میں یہ مواد کسی کی رسوائی کا باعث نہ ہو، فحش نہ ہو، چوری شدہ نہ ہو، یعنی آپ کا اپنا ہو، جرائم کی ترغیب دینے والا مواد نہ ہو، وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیںآپ اپنی پسند کا کوئی بھی مواد نشر کرسکتے ہیں۔لیکن سب سے ضروری یہ ہے کہ وہ مواد آپ کے ناظرین کی دلچسپی کا ہو، ورنہ نہ تو آپ کا یوٹیوب چینل مقبول ہوگا، اور نہ ہی آمدنی ہوگی۔ اس لیے ویڈیو کی تیاری میں لوگوں کی دلچسپی کا کوئی نہ کوئی عنصر لازمی ہو۔ ایسی ویڈیو اپ لوڈ نہ کریں جو یوٹیوب کے پروگرام اور پالیسی کےخلاف ہو، ورنہ آپ کا چینل یا ایڈسینس اکاو¿نٹ بند بھی ہوسکتا ہے۔
ویڈیو مواد کی تیاری کرتے وقت کچھ بنیادی باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔اول پکچر اور آواز اچھی کوالٹی کی ہو۔ویڈیو مختصر ہو: سوشل میڈیا پر لوگ ایسے مضامین اور ویڈیوز نہیں پڑھتے اور دیکھتے جو زیادہ طویل ہوں، چند منٹ کی ویڈیو تیار اور اپ لوڈ کرنا جہاںآسان ہوگا، وہیں ناظرین بھی بور نہیں ہوں گے، ویڈیو کے تیاری کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کریں جو آپ کے متوقع ناظرین کی پسند کے ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ ناظرین مل سکیں۔
یوٹیوب پر اپنے چینل قائم اور اچھی ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے بعد آمدنی شروع نہیں ہو جائے گی، بلکہ آپ کو اپنے وزیٹرز،ناظرین تک اپنا پیغام پہنچانا ہوگا، یعنی اپنے چینل کی مارکیٹنگ آپ کو خود ہی کرنی ہوگی۔اس کےلئے آپ سوشل میڈیا کی دوسری سائٹس مثلاً فیس بک، فین بکس، ٹوئٹر اور دوستوں کو ای میل کر کے کرسکتے ہیں،پ سوشل میڈیا پیجز پر باقاعدہ اشتہار بھی دے سکتے ہیں تاکہ آپ کی ویب ٹریفک زیادہ ہو۔
ویب ٹریفک بڑھنا یا اپنے چینل کی مارکیٹنگ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ گوگل ایڈسینس کی آمدنی وزیٹرز کی تعداد سے منسلک ہے۔ ایڈسینس کے اشتہارات جو آپ کی ویڈیو میں نشر ہوتے ہیں، ان پر ہر کلک کے پیسے ہوتے ہیں، اور عموماً ایک ہزار ویوز پر ایک مخصوص رقم ادا کی جاتی ہے۔ یعنی زیادہ آمدنی کےلئے زیادہ ویب ٹریفک ضروری ہے۔

ویڈیو بنائیں ، سوسائٹی کی خدمت کےساتھ پیسے کمائیں

(پاکستان آن لائن ٹریڈرزرپورٹ)
عہد حاضر میں اگر آپ کے پاس فارغ وقت ہے تو اسے سوشل میڈیا پر مفت میں خرچ کرنے سے بہتر ہے آپ یوٹیوب پر کچھ مفید کام کریں جس سے نہ صرف آپ کو کچھ آمدنی ہو بلکہ ہماری انٹرنیٹ سوسائٹی کو بھی فائدہ ہو۔اس طرح معاشرے کی خدمت کےساتھ ساتھ اضافی آمدنی بھی ہوسکتی ہے اور اگر زیادہ سنجیدگی کےساتھ یہ کام کریں تو نوکری سے زیادہ آمدنی بھی ممکن ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ یوٹیوب کو استعمال کر کے لاکھوں ڈالر سالانہ کما رہے ہیں، اس ضمن میں ان کی مستقل مزاجی ، تخلیقی صلاحیتوں اور محنت و لگن کا کافی عمل دخل ہے۔
ویسے تو یوٹیوب پر کام ہر وہ شخص کر سکتا ہے جس کو اس کا شوق ہو، لیکن ویڈیو مواد کی تیاری بہرحال ایک مشکل مرحلہ ہے، اسلئے یہ ان افراد کےلئے زیادہ موزوں ہے جو ویڈیو کو بطور میڈیم استعمال کر سکتے ہیں، مثلاً تخلیق کاروں، اساتذہ، وڈیو بلاگز، صحافی، فنکار، گلوکار، جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکشن کے طلبہ و طالبات وغیرہ۔
یوٹیوب دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ ہے جس پر کوئی بھی شخص یا کمپنی اپنی ویڈیو اپ لوڈ کر سکتی ہے، جبکہ کوئی بھی شخص بغیر کسی ممبر شپ کے یہ ویڈیو دیکھ سکتا ہے۔یوٹیوب سوائے قابل فروخت ویڈیو مواد کے کسی بھی صارف سے ویڈیو نشر کرنے یا یوٹیوب پر شائع شدہ ویڈیو دیکھنے کےلئے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ۔ویسے تو یوٹیوب 2005 میں قائم ہوئی لیکن اس کی اصل ترقی اسوقت ہوئی جب اس کو دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل انکارپوریٹڈ نے 2006 میں خرید لیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب گوگل،یوٹیوب نہ تو دیکھنے والے سے اور نہ ہی ویڈیو اپ لوڈ کرنےوالے سے پیسے لیتے ہیں ، تو اخراجات کون ادا کرتا ہے؟
اسکا سادہ سا جواب ٹی وی اور اخبارات کی طرح گوگل اور یوٹیوب اشتہارات سے خوب منافع کماتے ہیں۔ گوگل کو کل آمدنی کا 95 فیصد حصہ اشتہارات سے حاصل ہوتا ہے۔
یوٹیوب سے آمدنی کے طریقے :۔۔۔1: یوٹیوب کا پارٹنرشپ پروگرام۔۔۔2: ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ
یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام کیا ہے؟
اس پروگرام کے ذریعے یوٹیوب آپ کی تیار کردہ ویڈیو سے ہونےوالی آمدنی کا کچھ حصہ آپ کو دیتی ہے، اول تو یو ٹیوب پارٹنرشپ پروگرام میں ہر ایک کو شامل نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ دوم اگر آپ کی ویڈیو میں جان ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اس کو پسند کرتی ہے، تو اس کو یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام میں شامل کیا جاتا ہے، جس سے معقول آمدنی ہوسکتی ہے۔ یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام کے لیے لازمی ہے کہ آپ کا ویڈیو مواد معیاری ہو اور زیادہ سے زیادہ ناظرین کی دلچسپی سے متعلق ہو، تاکہ آپ کے چینل کو زیادہ سے زیادہ لوگ سبسکرائب کریں۔
ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ
بہت سے لوگ اس چیز بارے میں علم رکھتے ہونگے ،تاہم جن بھائی بہنوں کو اس کے بارے میں علم نہیں، ان کےلئے عرض ہے کہ کوئی بھی ویب سائٹ یا بلاگ سائٹ اپنی ویب سائٹ پر اشتہارات کی ذمہ داری گوگل کے سپرد کر دیتی ہیں، جس پر گوگل اپنی مرضی سے اشتہارات شائع کرتا ہے، اور اشتہارات سے جو آمدنی ہوتی ہے، وہ گوگل اور ویب سائٹ کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔
آج کل اس کی شرحِ تقسیم 32:68 ہے۔ یعنی ہر سو ڈالر میں سے 68 ڈالر ویب سائٹ کو اور 32 ڈالر گوگل میں تقسیم ہوتے ہیں۔ گوگل ایڈ سینس سے دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ویب سائٹس منسلک ہیں۔ خود پاکستان میں تقریباً تمام ہی بڑی ویب سائٹس کی زیادہ تر آمدنی گوگل ایڈسینس سے ہوتی ہے۔
ایڈسینس کی ایک اور قسم ’ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ‘ ہے، جس میں یوٹیوب پر ویڈیو کے اندر اشتہارات نشر ہوتے ہیں، جس سے حاصل ہونےوالی آمدنی ویڈیو اپ لوڈ کرنےوالے اور گوگل کے درمیان ایک خاص شرح سے تقسیم ہوتی ہے۔ ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ کے بھی کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ اگر آپ گوگل کی پالیسیوں کے مطابق کام کرتے ہیں تو اس سے اچھی خاصی ماہانہ آمدنی ہوتی ہے………. جاری

مسافروں کیلئے پاکستانی کرنسی کی حد 10 ہزار روپے مقرر

خصوصی رپورٹ:۔۔۔۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کرنسی کی حد میں اضافے کے بعد پاکستان سے جانےوالے اور آنےوالے مسافر اپنے ساتھ 10 ہزار روپے کیش رکھ سکیں گے،تاہم بھارت کے معاملے میں اس حد کو 500 روپے سے بڑھا کر 3 ہزار روپے کیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کے غیر ملکی زرمبادلہ قوانین کے مطابق نئی مقررہ حد پاکستانی بینک نوٹوں کےلئے مخصوص ہے جبکہ مسافر 10 ہزار ڈالر یا اس کے مساوی کسی بھی کرنسی کے نوٹ لے کر سفر کرسکتے ہیں۔ مقررہ حد پر نظرثانی ’بین الاقوامی مسافروں کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے‘ کی گئی ہے۔وقت کےساتھ ساتھ سامان اور سہولیات کی قیمتوں میں ہونےوالے اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے مسافروں کی آسانی کےلئے کرنسی کی مقررہ حد میں اضافہ کیا گیا۔یاد رہے قبل ازیں بھارت کے علاوہ دیگر غیر ممالک کے مسافروں کو 3 ہزار روپے جبکہ بھارت آنے جانےوالے مسافروں کو 500 پاکستانی روپے لے کر سفر کرنے کی اجازت تھی۔اس حوالے سے آخری اعلامیہ 1992 میں جاری ہوا تھا،تاہم ان مقررہ حدود پر عملد ر آمد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، ایک مسافر کے مطابق وہ 20 سال سے زائد عرصے سے پاکستان سے اور پاکستان کی جانب سفر کرتا چلا آرہاہے تاہم انتظامیہ نے آج تک کبھی تلاشی ہی نہیں لی۔

فرسٹ اینول اوبور ڈائریکٹ بائنگ”ٹریڈ فیئر“جاری

رپورٹ:۔۔۔ پاکستان آن لائن ٹریڈرز ۔۔۔
پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد ہر گزرتے دن کےساتھ دونوں برادر ہمسایہ ممالک کے تجارتی تعلقات مزید بہتر ہو رہے ہیں جن کے ثمرات پاکستانی عوام کو بھی ملنا شروع ہو گئے ہیں اور پاکستانی مارکیٹوں میں چین کی بنائی ہوئی بیشتر مصنوعات بھی سستے داموں میں آنے لگی ہیں۔اسی سلسلے میں ایکسپو سنٹر لاہور میں ’فرسٹ انیول اوبور ڈائریکٹ بائنگ ٹریڈ فیئر‘کے نام سے ایک نمائش جاری ہے جس میں چین کی 80کمپنیوں نے اپنی مصنوعات نمائش کےلئے رکھی ہیں۔ان اشیا میں عام لوگوں کی بنیادی ضروریات سے لے کر گاڑیوں تک بہت سی چیزیں رکھی گئی ہیں جن کی ضرورت مارکیٹ میں موجود ہے۔ان اشیا کو مقامی لوگ براہ راست خرید سکتے ہیں۔نمائش میں موجود چینی کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اپنی مصنوعات کی نمائش کر کے انہیں بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے کیونکہ یہ کاروباری حضرات کےلئے بہت ہی دلکش مارکیٹ ہے،پاکستان میں انکی مصنوعات کو بہت اچھا رسپانس ملا ہے اور وہ اپنی اشیا کو یہاںپروموٹ کر کے بہت خوشی محسوس کررہے ہیں، انہوں نے گرمجوشی سے استقبال کرنے پر بھی پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

گریٹ آن لائن شاپنگ میلہ‘ 67فیصد تک رعایت حاصل کریں

رپورٹ :۔۔۔پاکستان آن لائن ٹریڈز۔۔۔
پاکستان کی سب سے بڑی آن لائن مارکیٹ پلیس ’دراز ڈاٹ پی کے (Daraz.pk)فخریہ طور پر ’گریٹ آن لائن شاپنگ میلے‘ کا انعقاد کرنے جا رہی ہے۔ یہ گریٹ آن لائن شاپنگ میلہ گروپ ایم (GroupM)کے اشتراک سے شہریوں، ٹیکنالوجی اور شاپنگ کو ایک کثیرالجہت ایونٹ میں سمونے کےلئے منعقد کیا جا رہا ہے۔ ای کامرس کی دنیا کی لیڈر ہونے کے ناطے ’دراز‘ اس میلے میں متاثرکن ڈیلز ، فلیش سیلز اوراشیاءپر 67فیصد سے زائد رعایت دینے جا رہی ہے۔یہ گریٹ آن لائن شاپنگ میلہ ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ اور ای کامرس کی دنیا میں نیا اور اہم سنگ میل ثابت ہو گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں یونی لیور، نیسلے، ایل اورئیل، پیپسی، شیورون، ڈبلیو بی ہیمنی اور دیگر سپانسرز کی طرف سے حیران کن آفرز پیش کی جائیں گی۔ میلے میں کریم، فوڈ پانڈا، پاک وہیلز، جواگو، پنک پیکسی، فائنڈ مائی ڈاکٹر اور پیزا ہٹ کا اشتراک بھی شامل ہو گا۔انٹرنیٹ کلچر اور آن لائن شاپنگ کے مختلف ذرائع سے لطف اندو ز ہونا لوگوں کےلئے خوشی، آسانی اور دوسرے لوگوں سے ربط کا باعث بنتا ہے۔ یہ میلہ ای کامرس کے اس کردار کو تسلیم کرنے کےلئے منعقد کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے ای کامرس لوگوں میں مستقل خوشیاں بانٹ رہی ہے۔ میلے میں مالیاتی اداروں، میڈیا، ٹیلی کام کمپنیوں، چو ٹی کے برانڈز، فیشن اور مختلف ایپلی کیشنز سمیت پورے ایکوسسٹم میں موجود پارٹنرز مل کر کام کریں گے تاکہ لوگوں کی زندگیوں پر ای کا مر س کے اثرات کو مزید گہرا کیا جا سکے۔دراز کا ڈ یجیٹل مارکیٹنگ لیڈر گروپ ایم کےساتھ اشتراک ایڈورٹائزرز اور دیگر متعلقہ شر ا کت دار و ں کےلئے خصوصی کشش کا باعث بنے گا۔دراز کا ”گریٹ آن لائن شاپنگ میلہ چوٹی کے برانڈز، بشمول فیس بک اور گوگل ایڈورٹائزنگ سالوشنز، کو ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں مزید سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے میں مددگار ثابت ہو گاجبکہ بڑے برانڈز کو ایک موقع دے گا کہ وہ آن لائن ٹریڈ کے ان میدانوں کا تجربہ کر سکیں اورای کامرس کی دنیا میں اپنی کاوشوں کا اندازہ لگا سکیں۔دراز ڈاٹ پی کے ماضی میں بھی اپنی کوشش اور تجربے سے لاکھوں کی تعداد میں صارفین کو یکجا کرنے کی صلاحیت کا لوہا منوا چکی ہے۔ دراز کے ’بلیک فرائی ڈے‘ ، موبائل ویک، اور یوم آزادی سیل اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں جن میں خریداروں کی اوسط لاکھوں میں رہی اور فروخت کنندگان کی ریکارڈ مصنوعات فروخت ہوئیں۔گریٹ آن لائن شاپنگ میلا 15ستمبر سے شروع ہو گا اور 21ستمبر تک جاری رہے گا۔ پہلے دن فونز اور ٹیبلیٹس، دوسرے دن بچوں سے متعلق اور گھریلواستعمال کی اشیاء، تیسرے دن ٹی وی اوردیگر الیکٹرانک اشیاء، چوتھے دن اپلائنسز، پانچویں دن مردوخواتین مردوخواتین کے فیشن سے اور چھٹے دن بیوٹی اور صحت سے متعلقہ اشیاءفروخت کےلئے پیش کی جائیں گی جبکہ میلے کے ساتویں اور آخری روز روزمرہ استعمال ، سفر، کھیل سے متعلق اشیاءاور گاڑیاں فروخت ہوں گی۔ ان تمام دنوں میں چوٹی کے متعلقہ برانڈز میلے میں شریک ہوں گے اور صارفین کو67فیصد تک کی بھاری رعایت پر اپنی مصنوعات آفر کریں گے۔

دنیا بھر میں سر فہرست ڈیجیٹل (کرپٹو) کرنسیاں

٭ بٹ کوائن
بٹ کوائن رقم کی ادائیگی کےلئے دنیا کا سب سے منفرد ڈیجیٹل کرنسی کا نظام ہے۔ یہ پیسوں کی منتقلی اور وصولی کا دنیا کا پہلا ڈی سینٹرلائزڈ ”پیر ٹو پیر“ نیٹ ورک ہے، جو استعمال کنندہ کنٹرول کرتا ہے، جس کےلئے اسے کسی سینٹرل اتھارٹی یا مڈل مین کی ضرورت نہیں پڑتی۔ استعمال کنندہ کے نزدیک بٹ کوائن انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کے لیے نقد رقم کی طرح ہے۔ بٹ کوائن کی ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ سسٹم میں صرف دو کروڑ دس لاکھ بٹ کوائن ہی تخلیق کیے جاسکیں گے۔ اب تک ایک کروڑ دس لاکھ بٹ کوائن آچکے ہیں۔ بٹ کوائنز کو 8 ڈیسی مل (0.000 000 01 BTC) میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، مستقبل میں ضرورت پیش آنے پر اسے مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی بڑھتی ہوئی طلب اور کم ہوتی رسد کی وجہ سے اگلے پانچ سالوں میں اس کی مالیت موجودہ مالیت سے کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
٭ ایتھریم
یہ کرپٹو کرنسی کا پیر ٹو پیر اسمارٹ کونٹیکٹ پر مشتمل ایک ڈی سینٹرالائزڈ پلیٹ فارم ہے۔ اسے 2015 میں ویٹالک بٹرن نے ’نیکسٹ جنریشن کرپٹوکرنسی اینڈ ڈی سینٹرالائزڈ ایپلی کیشن پلیٹ فارم‘ کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ استعمال میں آسان اور زیادہ تر جگہ پر قابل قبول ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دو سال کے مختصر عرصے میں ایک ایتھریم کی قیمت 265 ڈالر کے مساوی
ہوچکی ہے۔
٭لٹ کوائن
لٹ کوائن کو اکتوبر 2011 میں جاری کیا گیا۔ اسے گوگل کے سابق ملازم چارلس لی نے بٹ کوائن کے متبادل کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ لٹ کوائن کو دیگر کرپٹو کرنسی کی طرح مائئنگ کے ذریعے حاصل کر کے خریدو فروخت اور خدمات حاصل کرنے کے لیے نقد رقم کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسے استعمال کرنے اور مائننگ کا طریقہ بھی کافی حد تک بٹ کوائن سے مماثلث رکھتا ہے۔ اس وقت ایک لٹ کوائن کی مالیت 45ڈالر ہے۔ اس وقت ایک کروڑ اسی لاکھ لٹ کوائن زیرگردش ہیں۔
٭زی کیش
زی کیش ایک ڈی سینٹرالائزڈ اور اوپن سورس پر مبنی کرپٹو کرنسی ہے، جسے 2016 میں متعارف کرایا گیا۔ زی کیش کی مقبولیت کی اہم وجہ اس کی منتخب شفاف ٹرانزیکشنز ہیں۔ زی کیش کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے استعمال کنندہ کی نجی معلومات کو محفوظ رکھتے ہوئے ہر بلاک چین میں ہونے والے ہر لین دین کے لیے اضافی سیکیوریٹی کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ اس کرپٹو کرنسی میں بھیجنے اور وصول کرنے کے ساتھ ساتھ بھیجی گئی تمام رقوم کی تفصیلات خفیہ رکھی جاتی ہیں۔ بٹ کوائن سے مماثل لیکن اس سے زیادہ محفوظ ہونے کی وجہ سے اس کی قدر چند ماہ کے عرصے میں ہی دو سو ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔
٭ڈیش
ڈیجیٹل کیش کے مخفف ڈیش نام کی اس کرپٹو کرنسی کو 2014 میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس کرنسی کو ڈارک کوائن کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا، جو معلومات خفیہ رکھنے کی اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ڈارک ویب سائٹس (ایسی ویب سائٹس جو سرچ انجن کی نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے، اسلحہ، منشیات، پورنو گرافی اور اس نوعیت کی دیگر خدمات فراہم کرتی ہیں) استعمال کرنے والوں کی اولین ترجیح بن چکی تھی۔ اس وقت مارکیٹ میں سات کروڑ ستر لاکھ ڈیش زیرگردش ہیں، جب کہ اس کی مالیت 196ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
کرپٹو کرنسی کے نام پر فراڈ!
کرپٹو کرنسی دنیا بھر میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے، لیکن اب بھی عوام کی اکثریت اس کے بارے میں اور اس کے ذریعے خرید و فروخت کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔ اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاطر اور مفاد پرست عناصر سادہ لوح افراد کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ ان ممالک میں بنگلادیش، انڈیا اور پاکستان سرفہرست ہیں جہاں جعل ساز لوگوں کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے نام پر بے وقوف بنا کر انہیں زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ کرپٹو کرنسی کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ کمی بھی ایک دم ہی ہوتی ہے اور یہ کام ایسا ہے جس کے لیے انٹرنیٹ اور آن لائن فاریکس مارکیٹ کی ابتدائی معلومات ہونا ضروری ہے۔ بہت سی ویب سائٹس آپ کو ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتی نظر آئیں گی، لیکن سوائے چند ایک کے ساری کمپنیاں آپ سے ڈالر، پاﺅنڈ، پاکستانی اور انڈین کرنسی میں رقوم وصول کر کے بھاگ جاتی ہیں۔ بٹ کوائن، لٹ کوائن، ایتھریم ، رپل، ڈوگ کوائن اور دیگر
سیکڑوں کرپٹو کرنسیز کی معلومات http://www.coinmarketcap.com سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔