پاکستانی جاب مارکیٹ کی صورتحال اور انٹرپرینیور شپ کی اہمیت

  وطن عزیز میں نوجوانوں کی اکثریت تعلیم حاصل کرنے

کے بعد نوکری کی تلاش شروع کرتی ہے۔ جب وہ جاب

مارکیٹ میں جاتے ہیں تو ان کو اندازہ ہوتا ہے کہ نوکری

تلاش کرنا کافی مشکل کام ہے کیونکہ کمزور معاشی حالات

اور بے شمار دیگر وجوہات کے سبب یہاں بےروزگاری کی

شرح بہت بلند ہے۔

    میڈیا میںایسی رپورٹس کی بہتات ہے کہ فلاں سرکاری

نوکری کےلئے جس میں صرف دس/بارہ سیٹیں تھی، 30

ہزار سے زائد افراد نے اپلائی کردیا۔ وفاقی حکومت کے

مقابلہ کے امتحان (سی ایس ایس) میں تقریباً بیس ہزار سے

زائد طلبہ وطالبات شرکت کرتے ہیں، جبکہ اس میں

200 کے قریب سیٹیں ہوتی ہیں۔ اب آپ خود ہی اندازہ

لگائیے کہ تقریباً 100 افراد کا ایک سیٹ کےلئے مقابلہ ہے۔

اس لیے اس میں جو کامیاب ہوتا ہے وہ واقعی خوش قسمت

ہوتا ہے۔

    ہم نے خود دیکھا ہے کہ 80 کی دہائی کے اختتام تک

بھی ”بی کام“ کرنےوالوں کو فوری نوکری مل جاتی تھی۔

پھر ہم نے دیکھا کہ جو لڑکے لڑکیاں، کمپیوٹر سائنس میں

”بی سی ایس“ کرتے تھے، ان کو فوری نوکری مل جاتی

 تھی، لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ آج مارکیٹ میں ہزاروں ماسٹر

 ڈگری یافتہ، ایم بی اے، ایم سی ایس کرنےوالے بےروزگار

ہیں، جن کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق جاب میسر

نہیں، جس سے ہمارے نوجوانوں میں پریشانی بڑھ رہی ہے۔

جس کو جاب مل جاتی ہے وہ بھی پریشان:۔۔۔

    نوکری ملنا بہت مشکل عمل ہے۔ اچھا جن کو نوکری مل

جاتی ہے کیا وہ مطمئن ہیں؟ تو یقینا ہماری رائے سے آپ

متفق ہونگے کہ ۔۔۔ اکثریت اپنی جاب سے مطمئن نظر نہیں

آتی ۔۔۔ بےروزگاری کی بلند شرح کی وجہ سے اکثریت کو

ان کی تعلیم/تجربے سے کم درجے کی نوکری ملتی ہے۔ ۔۔ہم

ذاتی طور پر بہت سے ایسے افراد کو جانتے ہیں جنہوں نے

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی

ہوئی ہے، لیکن ان کو نوکری کمپیوٹر آپریٹر کی ملی ہے،

جسے وہ اپنے کمزور معاشی حالات اور دیگر عوامل کی

وجہ سے کرنے پر مجبور ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے

یہاںاکثر نوکری کرنےوالوں کو ”ذاتی نوکر“ تصور کیا جاتا

ہے، جس میں آپ کو بلاوجہ بہت باتیں سنائی جاتی ہیں۔

کانٹریکٹ میں درج کام کے علاوہ بھی دیگر بہت سارے کام

لیے جاتے ہیں جو انسان صرف اس لیے کرنے پر مجبور

ہوتا ہے کہ کہیں یہ نوکری بھی ہاتھ سے نہ چلی جائے اور

جو تنخواہ مہینے کے بعد ملتی ہے، وہ اتنی قلیل ہوتی ہے کہ ایک ہی دن میں خرچ ہو جاتی ہے۔

 اکثر نوکری کرنےوالوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ آفس میں

آپ جتنا مرضی اچھا کام کرلیں، لیکن آپ کو اس کا کوئی

اجر نہیں ملنا، کیونکہ ان کی تنخواہ فکس ہے، جس کا ان کی  کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں۔ بہت کم دفاتر میں یہ اصول  ہے کہ اگر آپ زیادہ اچھا کام کریں تو آپ کی تنخواہ زیادہ  ہوسکتی ہے۔ اس طرح کی وجوہات سے نوکری کرنےوالوں  کی اکثریت بددلی اور شدید فرسٹریشن کا شکار نظر آتی ہے۔  وہ نوکری کر بھی رہے ہوتے ہیں اور شکوے شکایت بھی۔

کیا نوکری سے امیر ہوا جا سکتا ہے؟

پاکستان جیسے ملک میں آپ اگر امیر ہونا چاہتے ہیں یا

معاشی طور پر خوشحال ہونا چاہتے ہیں تو انتہائی معذرت

کےساتھ، نوکری اور حلال تنخواہ کے ساتھ آپ کےلئے یہ

کرنا اگر بالکل ناممکن نہیں، تو اتنا مشکل ضرور ہے کہ

اسے چند لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں کر پاتا۔ مثلاً مکان ہر

خاندان کی بنیادی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں میں پانچ مرلے

کے مکانات کی قیمت 40 سے 50 لاکھ روپے ہے۔ اب ذرا

تصور کریں ایک خاندان کا جس میں ایک آدمی نوکری کرتا

ہے۔ وہ اپنی تنخواہ میں سے ہر سال کتنی بچت کریں کہ اپنا

ذاتی مکان خرید سکیں؟ جبکہ پراپرٹی کی قیمت بھی چند

 سالوں میں دوگنی ہوجاتی ہے۔ اس لیے پاکستان میں نوکری

کرنےوالوں کی اکثریت اپنی تنخواہ کے ذریعے اپنا ذاتی

مکان تعمیر نہیں کرسکتی۔

انٹرپرینیورکی اہمیت

 انٹرپرینیور کا اصل اردو ترجمہ ”کاروباری شخص“ ہے۔

ویسے تو انٹرپرینیور شپ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے

 لگایا جاسکتا ہے کہ ”انٹرپرینیور شپ “ کو پاکستان کی تمام نجی و سرکاری یونیورسٹیز میں ایک کورس کا درجہ حاصل  ہے اور انٹرپرینیور شپ کا مضمون بطور خاص ڈگری  پروگرامز میں پڑھایا جا رہا ہے، جبکہ بعض یونیورسٹیز میں ”ایم بی اے“ میں اس مضمون کو خاص اہمیت دی جاتی ہے جس سے بڑے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

Advertisements

نوکری کیلئے انٹرویو میں کامیابی کے گُر

(سید اویس مختار)
کسی بھی ملازمت سے قبل انٹرویو سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے جس میں ایک اسامی کا ا±میدوار کمپنی یا ادارے کے نمائندوں کے سامنے مو جو د ہوتا ہے، یہ موقع ا±س کےلئے نہایت اہم ہوتا ہے کیونکہ ا±س موقع کا صحیح استعمال کرکے وہ اپنے آپ کو نوکری کےلئے اہل ثابت کرسکتا ہے۔
کئی ا±میدوار یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ انٹرویو میں بہت اچھی تیاری کرکے گئے تھے مگر انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوالات ایسے تھے جن کا جواب ا±ن سے بروقت نہ بن سکا۔ کچھ ا±میدواران انٹرویو کے موقع پر یک دم پریشانی اور کنفیوژن کا شکار ہوجاتے ہیں، بعض لوگ دوران انٹرویو بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر ا±س وقت نہیں بول پاتے، جبکہ کئی تو حد ہی کردیتے ہیں اور اپنی موجودہ نوکری کے حوالے سے مشکلا ت کا وہ رونا روتے ہیں کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔
اِس کارگزاری کے بعد جب ا±ن کو انٹرویو کرنے والی کمپنی کی جانب سے جوابی بلاوا نہیں آتا تو ا±س میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں، آپ نے انٹر ویو میں کارکردگی ہی ایسی دکھائی ہے کہ ا±س کے بعد کوئی توقع رکھنا ہی فضول ہے، مگر اچھی خبر یہ ہے مندرجہ ذیل چند نہایت سادی سی ہدایات پر عمل کرکے آپ یہ نتائج اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔
خود اعتمادی
جس طرح زندگی کے ہر موقع پر خود اعتمادی اہمیت رکھتی ہے ٹھیک ا±سی طرح انٹرویو کے دوران بھی خود اعتمادی اولین شرط ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ اعتماد پیدا کیسے ہوگا؟
خود اعتمادی، تین عوامل سے آتی ہے۔ سب سے پہلا عمل یہ کہ آپ کے مقصد پر آپ کا یقین ہو۔ یعنی جب آپ کا مقصد آپ کے ذہن میں واضح ہوگا تو یقیناً آپ کےلئے ا±س پر بات کرنا اور کسی دوسرے کو قائل کرنا کافی آسان ہوجائے گا، آپ اپنی بات کسی کے سامنے بھی بیان کر تے ہوئے زیادہ پ±ر اعتماد ہوں گے، لہٰذا ایک امیدوار کو یہ واضح طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ مکمل اعتماد کےساتھ ا پنی بات دوسروں کے سامنے بیان کرسکے۔ دوسرا عمل ہے اپنے مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ رکھنا اور تیسرا یہ کہ روایتی انٹرویو سوالات کے حوالے سے آپ پوری طرح خود کو تیار رکھیں۔
اپنے باڈی پوسچر (جسمانی کیفیت یا چال ڈھال) پر دھیان دیں
آپ کی شخصیت کا 70 فیصد اظہار آپ کی باڈی لینگویج ہی کردیتی ہے۔ جس وقت آپ انٹرویو دینے کےلئے کمرے میں داخل ہوتے ہیں، ا±س لمحے آپ کے چہرے کے تاثرات اور آپ کے منہ سے نکلے چند ابتدائی الفاظ آپ کا ایک تاثر قائم کردیتے ہیں، لہٰذا اپنا پہلا تاثر اچھا ڈالیں۔ جب آپ پ±راعتماد طریقے سے اندر داخل ہوں گے، مسکراتے ہوئے ا±ن کی جانب دیکھیں گے اور ہاتھ بڑھا کر ا±ن سے ہاتھ ملا ئیں گے تو یقیناً ا±ن کی نظر میں آپ کا پہلا تاثر اچھا جائے گا جوکہ آخر تک قائم رہے گا۔
واضح رہے بلاوجہ کی گرم جوشی کی بھی ضرورت نہیں۔ بعض لوگ ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتے۔ سلام ضرور کریں مگر مصافحہ ا±سی وقت کریں جب وہ خود ہاتھ آگے بڑھائیں۔ ک±رسی پر بیٹھنے میں آپ کا ڈھیلا انداز، بالوں سے کھیلنا، ہاتھ پاو¿ں ہلاکر اپنی کنفیوژن دکھلانا، ٹیبل بجانا، کچھ چبانا، نظریں نہ ملانا، یہ وہ چند خرابیاں ہیں جو آپ کو مسترد کروا سکتی ہیں۔ اپنے باڈی پوسچر کو آپ کیسے بہتر بنا کر اپنی شخصیت میں ایک چارم لاسکتے ہیں، اِس حوالے سے تفصیلی بات کسی دوسرے بلاگ میں کریں گے۔
مثبت سوچ رکھیں
دوسری اور اہم بات یہ کہ اپنی سوچ میں تبدیلی لے کر آئیں، ہم جیسا سوچتے ہیں، ہمارے ساتھ اکثر ویسا ہی ہوجاتا ہے، اِسے ’پاور آف سب کانشس مائنڈ‘ کہتے ہیں یعنی کہ آپ کے لاشعوری ذہن کی طاقت۔ یہ ایک کتاب کا نام ہے جو جوزف مرفی نے لکھی ہے۔ جوزف ا پنی اِس کتاب میں اِس موضوع پر بحث کرتے نظر آتے ہیں اور ا±نہوں نے مختلف مثالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں یا جو کچھ سوچتے ہیں اللہ کے حکم سے آپ کا لاشعور وہی کچھ حقیقت میں ڈھال کر آپ کے سامنے لے آتا ہے، لہٰذا اِس ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے ذہن کی یوں تربیت کریں کہ وہ آنےوالے واقعات کے حوالے سے مثبت سوچے۔ اِسی لیے انٹرویو دینے سے قبل آپ کے ذہن میں ایک تصوراتی خاکہ ہونا چاہیے کہ آپ انٹرویو دینے جا رہے ہیں اور انٹرویو میں بہت اچھا پرفارم کرنے کے بعد کامیاب ہوگئے ہیں، یو ں یقیناً آپ کے ساتھ اچھا ہی ہوگا۔
اپنی سوچ کو منتشر ہونے سے بچائیں۔ جتنا وقت انٹرویو کےلئے انتظار میں بیٹھیں ا±س دوران اپنے ذہن میں انٹرویو کے بارے میں سوچیں، یہ سوچیں کہ آپ سے کیا کیا سوالات پوچھے جاسکتے ہیں اور آپ ا±ن کا کیا جواب دیں گے۔ اپنے ذہن کو مطمئن رکھیں، اگر گھبراہٹ ہو تو کسی دوسرے ا±میدوار سے بات چیت کریں، آپس میں تعارف کریں، یوں دو فائدے ہوں گے، ایک تو آپ کا ذہن انٹرویو کے حوالے سے کسی منفی بات سے محفوظ رہے گا، دوسرا آپ کے پروفیشنل تعلقات بڑھیں گے۔
لباس
لباس نہ صرف صاف ستھرا اور موجودہ فیشن کے مطابق ہو بلکہ آرام دہ بھی ہونا ضروری ہے۔ بعض دفعہ ہم اچھا نظر آنے کےلئے اِس قدر بے آرام لباس پہن لیتے ہیں کہ انٹرویو کے موقع پر سارا اعتماد ا±س بے آرامی کی وجہ سے ختم ہوجاتا ہے۔ چنانچہ لباس کے حوالے سے یہ بات کا فی اہم ہے کہ لباس آرام دہ ہو اور آپ ا±س میں خود کو نارمل محسوس کریں۔ رنگوں کا انتخاب سمجھداری کے ساتھ کریں، بہت زیادہ شوخ رنگ نہ ہوں، بلکہ سادہ یا پھر ڈارک ہوں، کنٹراسٹ پر بھی دھیان دیں۔
آپ کی ڈریسنگ یہ بتاتی ہے کہ آپ نے اِس ملاقات کےلئے تیاری کی ہے، جس سے انٹرویو لینے والے پر بھی ایک اچھا تاثر جاتا ہے۔ ہر انٹر و یو پر تھری پیس سوٹ پہن لینا مناسب نہیں البتہ جس پوسٹ کےلئے آپ اپلائی کر رہے ہیں کم از کم ا±س لحاظ سے یا پھر ا±س سے ایک درجہ اوپر کا لباس استعمال کریں۔
یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ انٹرویو میں اچھا پہننے کےلئے شاہ خرچی کی ضرورت نہیں، آپ خاص انٹرویو کےلئے ایک لباس سنبھال کر رکھیں اور صر ف انٹرویو میں ہی ا±س کا استعمال کریں، واضح رہے یہ لباس اوپر دی گئی ٹپس کے مطابق مناسب اور آرام دہ ہو۔
سوالات کی تیاری
ہر انٹرویو میں تمام سوالات پچھلے انٹرویو سے مختلف نہیں پوچھے جاتے بلکہ کچھ سوالات تقریباً ہر انٹرویو میں ایک جیسے ہوتے ہیں، اِن سوالات کو ’روایتی انٹرویو سوالات‘ کہا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ سے آپ اِن تمام روایتی سوالات کی فہرست حاصل کرسکتے ہیں، مثلاً عام طور پر پہلا سوال کیا جاتا ہے کہ ’اپنے بارے میں بتائیں؟‘ یہاں آپ سے آپ کی پیشہ ورانہ اہلیت اور تجربے کی بابت دریافت کیا جارہا ہے۔ اِسی طرح ا یک اور سوال کہ ’اپنی اسٹرینتھس اور ویکنیسز (صلاحیتوں اور کمزوریوں) کے بارے میں بتائیں؟‘، اور ایسے ہی ایک اور سوال پوچھا جاتا ہے کہ ’آپ کیوں ملازمت تبدیل کرنا چاہ رہے ہیں؟‘، اِس کے علاوہ اور بھی بہت سے سوالات ہیں جو کہ روایتی انٹرویو سوالات کہلاتے ہیں جس کے بارے میں ہم آنے والے بلاگز میں تفصیلی بات کریں گے۔اِس تیاری کا فائدہ یہ ہے کہ جب انٹرویو میں آپ سے یہ سوالات پوچھے جائیں گے تو ا±س وقت آپ سوچنے کے بجائے براہِ راست سوالات کا جواب دینے کی پوزیشن میں ہوں گے، اور یوں اپنی حاضر جوا بی سے انٹرویو پینل پر ایک اچھا تاثر ڈال سکیں گے۔
اردو یا انگریزی کا استعمال
انٹرویو میں اردو کا استعمال زیادہ بہتر ہے یا انگریزی کا؟ یہ ایک اہم اور ذرا پیچیدہ سا سوال ہے۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ جس زبان میں آپ سے سوال کیا جائے آپ بھی ا±سی زبان میں جواب دیں۔ لیکن اگر سوال انگریزی میں کیا جائے اور آپ کی انگریزی اتنی اچھی نہ ہو کہ آپ ا±س سوال کا جواب انگریزی میں دے سکیں تو بہتر یہ ہے کہ سوال سمجھنے کے بعد ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں جواب دینے کے بجائے ا±ردو میں ہی جواب دیں، یوں آپ اپنی انگریزی کے حوالے سے اچھا تاثر نہیں بٹھا سکیں گے البتہ آپ اپنی پیشہ ورانہ اہلیت اور تجربے کے حوالے سے اپنا پیغام کافی بہتر انداز میں ا±ن تک پہنچا سکیں گے۔
ایمانداری ہی بہترین پالیسی ہے
کہتے ہیں کہ جو شخص سچ بولتا ہے ا±س کو کوئی بات یاد رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سچ بولتے ہوئے آپ کے الفاظ میں روانی اور لہجے میں اعتما د ہوگا، جبکہ جھوٹ اور بناوٹ آپ کے اعتماد کو متزلزل کردیں گے، لہٰذا انٹرویو دیتے ہوئے ہمیشہ سچ بات کریں، سچ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑ یں، یاد رکھیں کہ آپ چند ماہ میں ایک بار انٹرویو دیتے ہیں، جبکہ آپ کے سامنے موجود انٹرویو لینے والے کےلئے یہ روز کا کام ہے۔ جب آپ سے کوئی سوال کیا جائے تو آپ ا±س کا مختصر اور سیدھا جواب دیں، یہ نہ ہو کہ آپ اپنے لمبے اور ا±کتا دینے والے جوابات سے ا±س کی نظر میں اپنا غلط تاثر بٹھا دیں۔
آخری مگر بہت ہی اہم بات یہ کہ آپ کو معلوم ہوکہ آپ کے سی وی یا ریزیومے میں کیا لکھا ہوا ہے۔ عام طور پر لوگ کاپی کرنے میں بہت بار ایسی چیزیں بھی لکھ دیتے ہیں جن کے بارے میں ا±نہیں خود علم نہیں ہوتا، مثلاً کیریئر آبجیکٹیو جو کہ اکثر افراد کاپی پیسٹ کرتے ہیں جب ا یسے افراد سے دوران انٹرویو ا±ن کے آبجیکٹیو (مقصد) کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے کہ ا±س کی وضاحت کریں تو پھر ا±ن کے پاس یا تو کوئی جواب نہیں ہوتا اور جواب دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو ناکافی معلومات کی وجہ سے صحیح جواب نہیں دے پاتے۔
اِسی طرح بعض ا±میدوار اپنی جاب ڈسکرپشن لکھتے ہوئے اِس قدر مشکل الفاظ کا چناو¿ کرلیتے ہیں کہ ا±س حوالے سے انٹرویو میں جب پوچھا جاتا ہے تو ا±ن سے کوئی جواب نہیں بن پاتا، اِس لیے اپنے ریزیومے کے حوالے سے آپ کو لفظ بلفظ معلوم ہونا چاہیے کہ ا±س میں کیا کیا لکھا ہے اور کس مقصد کے تحت لکھا ہے تاکہ جب آپ سے اِس حوالے سے کوئی سوال کیا جائے تو آپ ا±س کا جواب بغیر کسی توقف اور سمجھداری سے دے سکیں۔

 

فری لانسنگ کےلئے بہترین اورمستند پلیٹ فارمز

(رپورٹ ،پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
پاکستان میں آن لائن کمائی کا جب بھی ذکر ہو تو عموماً لوگوں کے ذہن میں ڈیٹا اینٹری (Data Entry)، ایڈ پوسٹنگ (Ad Posting) یا لنک بلڈنگ (Link Building) وغیرہ کا خیال آتا ہے۔ شروع شروع میں یہ کام کافی تیزی سے پھیلا اور بہت سے لوگ اس سے مستفید بھی ہوئے تھے، لیکن گزشتہ چند سالوں میں اس کام میں بہت زیادہ فراڈ (دھوکہ دہی) دیکھنے کو ملا ہے۔
لوگوں کو کام کا لالچ دے کر چند ہزار روپے رجسٹریشن کے عوض وصول کیے جاتے اور ایک گمنام ویب سائٹ پر ان کا اکاو¿نٹ بنا دیا جاتا۔ ا س ویب سائٹ پر کتنا کام کیا اور کتنے پیسے کمائے کی تفصیل درج ہوتی جو کہ ذیادہ تر غلط بیانی پر مبنی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ایک حد مقرر کر دی جاتی کہ کم از کم اتنی رقم ہو تو ہی پیسے نکلوائے جا سکتے ہیں۔ اوّل تو بیشتر لوگ اس حد کو چھونے سے پہلے ہی دل برداشتہ ہو کر چھوڑ دیتے اور جو لو گ دل جمعی کےساتھ لگے رہتے انہیں آخر میں کچھ حاصل نہ ہوتا۔ایسا نہیں اس کام میں کسی کو کمائی نہیں ہوئی، یقیناً ہوئی ہوگی، ورنہ یہ کام اتنا مشہور نہ ہوتا۔ لیکن 100 میں سے صرف 5 لوگوں کو ہی فائدہ ہوا ہو گا۔
یہاں ایک اور بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ ایڈ پوسٹنگ/ لنک بلڈنگ وغیرہ ڈیٹا اینٹری اور SEO (سرچ انجن آپٹمائزیشن) کی شاخیں ہیں۔ اگر قارئین میں سے کوئی اس کام سے منسلک ہے تو میرا مشورہ ہے کہ اس کام کے باقاعدہ کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔ اگر آپ وہ کرلیں تو آپ کا ہنر مزید نکھر جائے گا اور کمائی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
پلیٹ فارمز کی بات کی جائے تو فری لانسنگ متعدد طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ آپ براہِ راست کلائنٹ کو تلاش کر کے کام لے سکتے ہیں، لیکن اس میں کافی وقت لگ جاتا ہے؛ جبکہ دوسری طرف پکی پکائی دیگ بھی موجود ہے۔ جہاں آپ کو نہ تو کلائنٹ تلاش کرنے پڑیں گے اور نہ ہی کمائی کےلئے انتظار، مفت اکاو¿نٹ بنائیں اور کام شروع کردیں۔ ان پلیٹ فارمز کو فری لانسنگ ویب سائٹ یا مارکیٹ پلیس (market place) کہا جاتا ہے۔
اس وقت سینکڑوں فری لانسنگ ویب سائٹس موجود ہیں اور بیشتر میں کام کرنے کا طریقہ کار تقریباً ایک جیسا ہے۔ اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں صرف پانچ بڑی ویب سائٹس کا ذکر کروں گا۔
1- Upwork
اس ویب سائٹ کا قیام 2015 میں دو مشہور ویب سائٹس oDesk اور Elance کے اشتراق کے بعد ہوا۔ یہ اس وقت دنیا میں سب سے بڑی ویب سائٹ ہے، کمائی کے اعتبار سے بھی اور کام کے لحاظ سے بھی۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کلائنٹس (clients) اپنے کام کی تفصیل مہیا کرتے ہیں اور فری لانسرز ان پر اپنے پروپوزلز ارسال کرتے ہیں، جس کا پروپوزل کلائنٹ کو پسند آجائے اسے کام مل جاتا ہے۔
کام کرنے کی نوعیت دو طرح کی ہوتی ہے۔ یا تو پورے کام کی ایک مقررہ قیمت طے کر لیں یا گھنٹوں کے حساب سے پیسے چارج کریں۔ البتہ دونوں صورتوں میں کام کرنے کے پیسے بروقت ملیں گے۔ اگر کسی وجہ سے کلائنٹ پیسے نہیں دیتا تو Upwork اس معاملے میں آپ کو پورا تعاون فراہم کرے گا۔
2- Fiverr
اسوقت Fiverr دنیا کی دوسری بڑی ویب سائٹ بن چکی ہے، کام ڈھونڈھنے کے اعتبار سے Fiverr ،Upwork سے قدرے مختلف ہے۔ یہاں پر آپ اپنے کام کی ایک سروس بناتے ہیں جسے gig کہا جاتا ہے۔ Gig میں آپ اپنے کام کی نوعیت اور قیمت وغیرہ کی تفصیل بیان کرتے ہیں، ہر gig کی کم سے کم قیمت $5 ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اس سے ذیادہ نہیں کما سکتے۔ جتنا بڑا کام ہوگا اس کے پیسے بھی اسی مناسبت سے طے کر لیے جائیں گے۔ یہاں پیسے کے معاملات کی فکر کرنے کی بالکل ضرورت نہیں کیونکہ کام کے آغاز میں ہی Fiverr کلائنٹ سے سارے پیسے وصول کر لے گا اور کام ختم ہونے کے بعد آپ کے پیسے آپ کے اکاو¿نٹ میں شامل ہو جائیں گے۔
ان دو ویب سائٹس کے علاوہ فری لانسنگ کےلئے بہترین ویب سائٹس Freelancer.com ،Peopleperhour.com اور Guru.com ہیں۔ ان تینوں ویب سائٹس پر بھی کام وافر مقدار میں موجود ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اس وقت سینکڑوں فری لانسنگ ویب سائٹس موجود ہیں۔ کسی بھی ویب سائٹ پر کام کرنے سے پہلے بس دو چیزیں مدِنظر رکھیں۔ ایک تو یہ کہ روزانہ کی بنیاد پر کتنی جابزپوسٹ ہوتی ہیں، اور دوسرا کیا کام کے پیسے ملتے ہیں یا نہیں۔ ساتھ ہی اس ویب سائٹ کی Terms of service بھی پڑھنی چاہیے۔ عمومی طور پر کام کرنے کا طریقہ کار تو ایک سا ہوتا ہے لیکن پھر بھی ہر ویب سائٹ کی اپنی پا لیسی ہوتی ہے، اگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو ویب سائٹ آپ کا اکاو¿نٹ بند کرسکتی ہے۔
آخر میں ایک اور غلط فہمی دور کرنا چاہوں گا کہ فری لانسنگ صرف ڈویلپمنٹ (development)، ڈیزائنگ(designing) اور لکھنے (writing) کے کام تک محدود نہیں۔ یقیناً ان کاموں کی ڈیمانڈ اور قیمت زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سے آسان کام ہیں جنہیں کرکے اچھی کمائی کی جا سکتی ہے۔

کیا آپ اچھی نوکری کے متلاشی ہیں ۔۔۔؟

(رپورٹ :پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
دنیا میں معیشت بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور دنیا میں وہی قومیں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں جو اپنی معیشت کو تعلیم کی بنیاد پر استو ا ر کر رہی ہیں۔ بدلتی ہوئی اِس دنیا میں ہر فرد کےلئے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ کسی بھی میدان میں کام کی خصوصی مہارت حاصل کرے ۔ خصو صی مہارت کے حامل افراد ہی اب اچھی نوکریاں حاصل کر سکیں گے۔و وکیشنل ایجوکیشن ،پیشہ ورانہ تعلیم دینے والے ادارے ہی کسی فرد کو خصوصی تعلیم مہیا کرسکتے ہیں اور انہیں معاشرے کا کارآمد اور خودمختار فرد بنا سکتے ہیں۔
ووکیشنل ایجوکیشن ،پیشہ ورانہ تعلیم کا مطلب کسی فرد یا افراد کو کسی خاص کام میں تعلیم کے ذریعے ماہر بناناہے۔ یہ مہارت زیادہ ترتجارت، کا ر یگری،تکنیک کار، ماہرِفنیات، انجینئرنگ،فنِ حساب،اکاوئنٹنگ،نرسنگ،طب، فنِ تعمیر اور قانون میں ہو سکتی ہے۔اسی طرح اِن سب پیشوں میں سے مزید درجہ بندی کی جا سکتی ہے اور خصوصی مہارت کے مزید مضا مین متعارف کروائے جا سکتے ہیں۔جیسا کہ صحت کے شعبے میں مساج تھراپی،غذا کے ماہرین اور اسی طرح کے اور بھی مضامین شامل کئے جا سکتے ہیں۔ اِس طریقے سے کوئی بھی فرد اپنی خواہش اور د لچسپی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے لئے شعبے کا انتخاب کرسکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آج ووکیشنل ایجوکیشن ،پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت کیوں بڑھ گئی ہے اِس سلسلے میں اگر ہم اعدادوشمار کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے 1950ءمیں 80فیصد نوکریاں غیر ہنرمند افراد کے پاس تھیں جبکہ آج کل 85فیصد نوکریاں ہنرمند لوگوں کے پاس ہیں۔اس بہت بڑی تبدیلی کی وجہ سے آج وکیشنل ایجوکیشن ،پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی سماجی و اقتصادی انقلاب برپا ہونے کو ہے۔ نوکریوں اور صنعتوں میں کام کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے او ر اسی طرح بہتر معیار کےلئے ہنر مند ہونا لازم ہو گیا ہے۔اگر پاکستان کو دیکھا جا ئے تو ایک کثیر آبادی والا ملک ہے اور اِس کی زیادہ آبادی نوجو ا نوں پر مشمل ہے اسی لیے ہمیں اِس شعبہ میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ابھی تک کی صورتحال کے مطابق پاکستان میں کل 3581 پیشہ و ر ا نہ تعلیم کے ادارے TVET (Technical Vocational Education and Training)کے نام سے پورے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ اِن میں سے 1177 سرکاری اور 2404 غیر سرکاری ادارے ہیں۔ مزید تفصیل میں جا کر دیکھا جائے تو پنجاب میں کل 1817، سندھ میں 585 ،کے پی کے میں 599، بلوچستان میں125،گلگت بلتستان میں 175،آزاد کشمیر میں 114، فاٹا میں 61 اور وفاقی دارالحکومت میں کل 103ادارے کام کر رہے ہیں۔پاکستان میں یہ طرزِ تعلیم عمومی طور پر سیکنڈری سطح سے متعارف کروایا جاتا ہے۔
یہ دور گلوبلائزیشن کا دور ہے اور اس دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کےلئے ضروری ہے ہم اپنے نوجوانوں کو ہنر مند بنائیں تاکہ ہم دنیا میں کم قیمت کےساتھ ساتھ معیار ی اشیاءکو بھی پوری دنیا میں متعارف کرواسکیں۔مقابلے کے اس دور میں کم قیمت ، اعلیٰ معیار،نئی اشیاءکو متعارف کروانے ، معیاری خدمات دینے کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ بیسویں صدی تک پیشہ ورانہ تعلیم بہت ہی محدود سمجھی جا تی تھی اور زیادہ تر آٹو موبائل ، ویلڈر اور الیکٹریشن کی تعلیم کو ہی پیشہ ورانہ تعلیم سمجھا جاتا تھامگر21ویں صدی کے شروع سے ہی دنیا میں ٹیکنالوجی میں جدت نے نئے شعبوں کو جنم دیاہے جس سے صنعت میں ووکیشنل ایجوکیشن ،پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے،اسیلئے حکومتوں اور غیر سرکاری لوگوں نے ادارے بنانے شروع کئے۔زیادہ تر ادارے عوامی فنڈ اور غیر سرکاری اداروں نے بنائے اور اپرنٹس شپ کے ذریعے لوگوں کو ہنر مند بنانے کا آغاز کیاگیا۔آج وکیشنل ایجوکیشن ،پیشہ ورانہ تعلیم ایک بہت ہی تبدیل شدہ شکل اختیار کر چکی ہے،یہ تعلیم ہمیں پرچون ( ر یٹیل ) ،سیاحت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کاسمیٹک، روایتی دستکاری اور گھریلو صنعتکاری غرض کہ ہر شعبہ زندگی میں نظر آتی ہے۔
اِس ساری بحث سے ہمیں وکیشنل ایجوکیشن،پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہو جانا چاہئے۔ سب والدین کی خواہش ہوتی ہے ا±ن کے بچے وائٹ کالر نوکری کریں اور بلیو کالر نوکری کو اچھا نہیں سمجھا جاتااور یہ سوچ ہمارے معاشرے کےلئے انتہائی تباہ کن ہے خاص طور پر موجودہ صدی میں یہ خیال ہماری نسلوں کےلئے نقصان دہ ہے۔والدین کو اپنے بچوں کے اندر یہ شعور پیدا کرنا چاہئے کہ وہ اپنے پسند کا جو بھی ہنر حا صل کرنا چاھتے ہیں وہ اس کی حوصلہ افزائی کریں گے۔اِس میں کسی بھی قسم کی کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے لوگوں کو ہنرمند بنائیں اور ہمارے لوگ بجائے نوکریوں کو تلاش کرنے کے اپنا کام کرنے کو ترجیح دیں اِس طرح ہم اپنے ملک میں سمال انڈسٹری یا کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دے سکیں گے۔ہم لوگوں کوہنرمند بنا کر ایگریکلچر اور مائنگ جیسے شعبوں میں روزگار مہیا کرسکتے ہیں۔
دنیا میں کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے ووکیشنل ایجوکیشن ،پیشہ ورانہ تعلیم کو اپنے سکولوں اور کالجز میں لازمی قرار دیا ہے اور وہ اِس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ ووکیشنل ایجوکیشن ،پیشہ ورانہ تعلیم ا±ن کے بچوں کے مستقبل کےلئے کتنی اہم ہے۔یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے کو ئی قوم عالمی منڈی میں اپنا مقام بنا سکتی ہے۔
خوشی کی بات ہے کچھ اداروں نے اِس سلسلے میں خود عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے معاشرے کے غریب طبقہ سے بچوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن د ےکر ا±ن کےلئے نوکریوں کا بھی اہتمام کیا ہے۔ یہ عمل بہت حوصلہ افزا ءہے اور حکومتوں کو بھی اسی طرح کے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ا گر ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط سماجی اور اقتصادی معاشرہ قائم کریں تو ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانا ہو گا۔خاص طور پر یہ چیز ہمارے لئے اور بھی اہم ہو جاتی ہے جبکہ ہم چائینہ کےساتھ مل کرسی پیک( CPEC) بنانے جا رہے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب ہما ر ے ملک میں لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہونےوالے ہیں اور اگر ہم نے اپنے جوانوں کو ہنر مند نہ بنایا تو پھر یہ جگہ غیر لوگ آکر پوری کریں گے اور فائدہ دوسرے لوگ اٹھا ئیں گے۔حکومت کو چاہئے وقت کی نزاقت کو سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ادارے بنائے اور اپنے نوجو ا نو ں کوآنےوالے وقت کےلئے تیار کرے۔اب معاشرے کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے اور نئی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔
تربیتی کمپنیوں کی اہمیت اِس دور میں بہت بڑھ گئی ہے،تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ہنر مند بنایا جا سکے اور آنےوالے مسائل اور مشکلات کا مقا بلہ کیا جا سکے۔ان اہم باتوں سے ہٹ کر جو کہ ا±وپر بیان کی گئی ہیں پیشہ ورانہ تعلیم کے کچھ اہم فوائد درج ذیل ہیں۔
۔ووکیشنل ایجوکیشن،پیشہ ورانہ تعلیم کسی بھی صورت میں آپ کا وقت، پیسہ اور طاقت بچا سکتی ہے۔
۔ پیشہ ورانہ تعلیم کا حامل شخص اپنا کام کر سکتا ہے یا پھر جز وقتی نوکری بھی کر سکتا ہے۔
۔ پیشہ ورانہ تعلیم کسی بھی شخص کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث ہوتی ہے۔
۔ پیشہ ورانہ تعلیم موجودہ دور کی صنعت کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔
۔ پیشہ ورانہ تعلیم میں انسان سیکھنے اور کمانے کا عمل ہمہ وقت جاری رکھ سکتا ہے۔
۔ پیشہ ورانہ تعلیم کسی بھی انسان کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
(بلاگرڈاکٹر مریم چغتائی پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ماہرِ تعلیم ہیں،مساوی اور قومی تقاضوں کے تحت تعلیم مہیا کرنے کی حامی اوراِس نظام کے نفاذ کیلئے کوشاں ہیں۔(بشکریہ روزنامہ پاکستان)۔

اچھی ملازمت تلاش کرنے کے آسان اور سودمند آن لائن طریقے

(سید اویس مختار)
چند دن قبل ایک انجینئر دوست سے ملاقات ہوئی، باتوں باتوں میں معلوم ہوا محترم بس کچھ ہی دن میں پاس آو¿ٹ ہونےوالے ہیں۔ جب پوچھا ملازمت کے حوالے سے کیا پلاننگ ہے؟ کہاں کہاں اپلائی کیا؟ تو فخر سے جواب دیا بہت سی جگہوں پر کیا ہے اور ساتھ ہی ایک شکوہ بھی جوڑ دیا کہ مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا۔
تھوڑا اور کریدا یہ ’بہت جگہوں‘ سے کیا مراد ہے؟
تو جواب ملا پوری 10 جگہوں پر اپلائی کرچکا ہوں۔ 10 کا ہندسہ سن کر مجھے رحم تو بہت آیا مگر محترم کے سنجیدہ رویے پر کہا دوست یہ جو 10 ہے اِس کےساتھ ایک اور زیرو لگاو¿، پھر کہنا بہت سی جگہیں۔
میرے ایسا کہنے کی وجہ صاف تھی، اگر تو آپ ایک غیر معمولی طالبعلم رہے ہیں جیسے پوزیشن ہولڈر یا کوئی اسکالرشپ ہولڈر، پھر تو کمپنیاں خود ہی آپ سے رابطہ کرلیتی ہیں، لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور آپ ایک اوسط طالبعلم ہیں تو پھر آپ کو ملازمت حاصل کرنے کےلئے کافی محنت کرنی پڑے گی، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ موجودہ مارکیٹ میں نوکری کےلئے مقابلہ بہت سخت ہے، لہٰذا آپ کو ملازمت کےلئے اپلائی کرنے کے حوالے سے مختلف طریقوں کی معلومات ہونا بہت ضروری ہیں تاکہ آپ اپنے انٹرویو کے مواقع بڑھا سکیں۔ درج ذیل میں ہم چند ایسے ہی طریقے بتا رہے ہیں جو آپ کو ملازمت کے حصول میں مددگار ثابت ہوں گے۔
براہِ راست اپلائی کرنا
آپ کو سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آپ نے جس شعبے میں گریجوئیشن کیا ہے ا±س کا استعمال کہاں کہاں پر ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کم فہمی کی وجہ سے ہم اپنے ذہن میں ایک محدود دائرہ بنا لیتے ہیں، اور ا±سی حساب سے ملازمت تلاش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے آپشنز بھی محدود ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا سب سے پہلے اِس بات پر تحقیق کریں کہ آپ نے جس شعبے یا مضمون کی تعلیم حاصل کی ہے ا±س کا استعما ل کہاں کہاں پر ہے۔ پھر آپ ایسی تمام متعلقہ کمپنیوں یا اداروں کی ایک فہرست تیار کریں جہاں آپ کے شعبے کا کام موجود ہے، یوں آپ کے پاس ایک وسیع فہرست تیار ہوجائے گی۔ آپ باری باری ا±ن تمام کمپنیوں یا اداروں کی ویب سائٹس پر جاکر ملازمتوں کے مواقع تلاش کرسکتے ہیں اور خالی آسامیوں پر اپلائی کرسکتے ہیں۔
ایک دوسرا طریقہ بھی ہے جس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ بہت سی کمپنیوں کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی آسامی خالی ہوتی ہے تو وہ انہیں موصول ہونےوالی تمام سی ویز کا ریکارڈ اپنے ڈیٹا بینک میں محفوظ کرلیتی ہیں تاکہ کسی صورت اگر وہی یا کوئی دوسری آسامی خالی ہو تو ا±نہیں نئے سرے سے تمام سی وی دوبارہ جمع نہ کرنی پڑیں بلکہ ڈیٹا بینک میں سے ہی کسی ایک کو چن لیا جائے یوں ا±نہیں اپنا مطلوبہ ا±میدوار ا±سی ڈیٹا بینک سے حاصل ہوجاتا ہے۔
اِس طریقے پر عمل کرنے کےلئے آپ کے پاس کمپنیوں کے ای میل ایڈریسز کا ہونا ضروری ہے، یوں آپ جب اِن کمپنیوں کو ای میل کریں گے تو چند جگہوں سے آپ کو جواب موصول ہوگا آسامی بھری جاچکی ہے یا پھر کوئی آسامی خالی نہیں ہے لیکن آپ کی معلومات آئندہ آنےوالی خالی آسامی کےلئے ڈیٹا بینک میں محفوظ رکھی جا رہی ہیں اور حسبِ ضرورت آپ سے دوبارہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
یہ طریقہ اس قدر کارگر ہے مجھے خود بہت سی ایسی کمپنیوں کی جانب سے انٹرویو کالز آئیں جہاں میں نے دو سے تین سال قبل سی وی بھیجی تھی۔ اس طریقے کے تحت کمپنی کی جانب سے فوراً انٹرویو کال آنے کا امکان کم ہوتا ہے کیونکہ کمیونیکیشن (مواصلات) کی زبان میں اس طرح کی ای میل کو اَن سولیسیسیٹ ایمیل (بن مانگی ای میل) کہا جاتا ہے یعنی کہ کسی کے گھر بغیر دعوت پہنچ جانا، ظاہر سی بات ہے وہ یا تو آپ کا خیال کرے گا یا پھر نظر انداز۔ لیکن فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کی سی وی ان کے ڈیٹا بینک میں موجود رہے گی جو مستقبل کی آسامیوں کےلئے کام آسکتی ہے۔
اخبارات
اخبارات پر آسامیاں تلاش کرنا سب سے پ±رانا اور آزمودہ طریقہ ہے۔ اخبارات میں آئی ہوئی آسامیوں پر اگر اپلائی کیا جائے تو ادارے جواب بھی فوراً دیتے ہیں کیونکہ ایک کمپنی صرف ا±س وقت ہی اخبارات میں اشتہار دیتی ہے جب ا±نہیں آسامی پر کسی فرد کی اشد ضرورت ہو لہٰذا نوکری کی تلاش کےلئے اخبارات کا استعمال کرنا بہت سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔
اتوار کو آنےوالے اردو اور انگریزی اخبارات میں موجود ملازمتوں کے صفحے پر تمام اشتہارات کو ایک ایک کرکے بغور پڑھیں اور ا±س میں اپنی تعلیم کے متعلقہ شعبے کی ملازمت تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کئی لوگ بڑے اشتہار تو پڑھتے ہیں لیکن چھوٹے یعنی کلاسیفائڈ کو نظر انداز کردیتے ہیں، حالانکہ ا±ن میں بھی ایسی کئی آسامیاں موجود ہوسکتی ہیں جو آپ کی تعلیمی قابلیت اور تجربے پر پورا اترتی ہیں، لہٰذا یاد رکھیں کہ ہر اشتہار اہم ہے!
ایک اور ضروری بات یہ کہ اخبارات میں مختلف اشتہارات کےساتھ مختصراً ملازمت سے متعلق ذمہ داریاں بھی لکھی ہوتی ہیں (جسے جاب ڈ سکر پشن بھی کہا جاتا ہے) اگر کسی اشتہار کے ساتھ ایسی مزید معلومات درج ہیں اور آپ کے پاس مطلوبہ تجربہ اور قابلیت ہے تو اپنی سی وی میں ضرور شامل کریں اور ملازمت کے حصول کےلئے اپنے چانسز بڑھائیں۔ اِس حوالے سے مزید معلومات اگلے بلاگ میں کریں گے جہاں انشاءاللہ ہم سی وی کو بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف طریقوں پر بات کریں گے۔
جاب پورٹل
جاب پورٹل دراصل وہ ویب سائٹس ہیں جو کمپنیوں اور ملازمت کے م±تلاشی افراد کےلئے پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔ میں خود بھی جاب پورٹل کا کافی زیادہ استعمال کرتا ہوں اور مجھے اِس کا بہت فائدہ بھی حاصل ہوا ہے، کئی انٹریوز کے بلاوے مجھے اِنہی جاب پورٹلز کے ذریعے آئے ہیں۔
جب بھی کوئی ملازمت کے مواقع ڈھونڈنے کا طریقہ پوچھتا ہے تو میں اِن جاب پورٹلز کا مشورہ ضرور دیتا ہوں لیکن اکثر مجھے جواب ملتا ہے کہ جاب پورٹل مو¿ثر نہیں۔ دراصل یہاں مسئلہ جاب پورٹل کا نہیں ہے بلکہ ا±ن افراد کی پورٹل پر بنی پروفائل کا ہے۔ جب میں ا±ن افراد کی پروفائل کا معائنہ کرتا ہوں تو مجھے ا±ن کی پروفائل میں بہت سی کمیاں نظر آتی ہیں۔ اگر آپ ملازمت تلاش کرنے کےلئے جاب پورٹل کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو چند باتوں کا ضرور خیال رکھیں:
اپنی پروفائل پکچر ضرور لگائیں جوایک پروفیشنل پورٹریٹ ہو۔
اپنی پروفائل کو 100 فیصد مکمل کریں ا±س میں ناکافی معلومات نہ ہوں۔
جو کچھ بھی لکھیں، ایمانداری کے ساتھ سچ لکھیں۔
تمام ٹیکسٹ میں کی ورڈ کا استعمال ضرور اور جا بجا کریں۔ (کی ورڈ وہ لفظ ہوتا ہے جو آپ کی پوری جاب پروفائل کو ڈیفائن کرتا ہے جیسے ایچ آر، پے رول، کوالٹی، فارما، وغیرہ۔)
اگر آپ نے مذکورہ تمام شرائط پوری کی ہیں تو اِس کا مطلب آپ اِن جاب پورٹلز کا درست استعمال کر رہے ہیں اور یقیناً جب آپ اِس طر یقے کے تحت ملازمت کےلئے اپلائی کریں گے تو آپ کو کمپنیوں یا اداروں کی جانب سے جواب ضرور موصول ہوگا، چند اہم جاب پورٹلز مند ر جہ ذیل ہیں:
بیت ڈاٹ کام (Bayt.com) — مشرق وسطی میں جاب تلاش کرنے کے حوالے سے ایک مفید پلیٹ فارم ہے۔
روزی ڈاٹ پی کے (rozee.pk) — پاکستان میں ملازمت تلاش کرنے کے حوالے سے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔
لنکڈ ان ڈاٹ کام (linkedin.com) — جاب سرچ کے حوالے سے بھی اور انڈسٹری میں تعلقات بنانے کے حوالے سے ایک اچھا پلیٹ فارم ہے۔ موجودہ دور میں ریفرنس بھی جاب کا ایک اہم ذریعہ ہے، لہٰذا آپ کے مختلف پروفیشنل افراد سے تعلقات آپ کو ایک اچھی ملازمت دلوا سکتے ہیں۔
انڈیڈ ڈاٹ کام (Indeed.com) — اِس وقت سب سے بہترین جاب سرچ انجن ہے، آپ کی فیلڈ سے متعلقہ ملازمت دنیا میں کسی بھی ویب سائٹ پر موجود ہو (چاہے وہ کسی جاب پورٹل پر ہو یا پھر کسی کمپنی کی اپنی ویب سائٹ پر) یہ سرچ انجن اِس کا براہِ راست آن لائن لنک ڈھونڈ لاتا ہے۔
جاب فیئرز
جاب فیئرز میں آپ کو براہِ راست کمپنی کے نمائندوں سے ملنے اور بات کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ آپ ا±ن سے ملاقات میں وہ اثر ڈال سکتے ہیں جو شاید سی وی اور کور لیٹر کے ذریعے ڈالنا ممکن نہ ہو۔ مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں کی جانب سے اپنے طلباءاور سابقین کےلئے اِس طرح کے جاب فیئرز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کی جامعہ میں کسی ایسے پروگرام کا انعقاد ہو رہا ہے تو ا±س میں ضرور شرکت کریں۔
ذاتی روابط
موجودہ دور میں جس کے جتنے زیادہ اور مو¿ثر ذاتی روابط ہوں، وہ پروفیشنل دنیا میں اتنا ہی کامیاب ہے۔ ملازمت کی تلاش کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔ بہت سی موجودہ کمپنیوں کی پالیسیوں کے مطابق وہ ا±ن افراد کو ترجیح دیتی ہیں جن کا ا±ن کی کمپنی میں کام کرنےوالے کسی ملازم
سے ربط ہو تاکہ پس منظر کی چھان بین کرنے میں آسانی رہے، لہٰذا اگر آپ کے پاس کسی بھی کمپنی کے ملازم کا ریفرنس ہے تو آپ کمپنی کی نظر میں ایک قابل ترجیح فرد ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا جتنے زیادہ روابط اتنے زیادہ ملازمت کے مواقع!ا±مید ہے جب آپ اِن طریقوں پر عمل کریں گے تو انٹرویو کال آنے کے مواقع اور امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔ یہ بات یاد رکھیں کسی بھی کام میں کامیابی حاصل کرنے کےلئے مستقل مزاجی ضروری ہے، لہٰذا مذکورہ طریقوں کےساتھ ملازمت کی تلاش مستقل طور پر جاری رکھیں، ایسا نہ ہو ایک دو دفعہ کرنے پر اور اچھے نتائج نہ ملنے پر مایوس ہوجائیں، کوشش کرتے رہیں ایک دن ضرور آپ کا ہوگا۔
۔۔۔بشکریہ ڈان نیوز ۔۔۔۔۔

 

عام آدمی کہاں سرمایہ کاری کرے۔۔؟

(پاکستان آن لائن ٹریڈرز رپورٹ)
آپ نے کچھ پیسے بچا رکھے ہیں، جنہیں بہتر اور محفوظ جگہ لگا کر منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں تودرج ذیل بلاگ آپ کی رہنمائی میں اہم ثابت ہو سکتا ہے ۔ضرورپڑھیں۔
گزشتہ روز ایک مرتبہ پھر شیخو جی اور خیالی صاحب کی جوڑی چائے کے ہوٹل پر بیٹھی تھی ۔ندیم بھائی بھی کسی لیبر یونین کی میٹنگ نمٹا کروہاں پہنچ گئے ہیں، ا±ن کےساتھ ایک اور صاحب بھی تھے، پینٹ شرٹ میں ملبوس اور گلے میں ٹائی باندھے کسی بینکار جیسے لگ رہے تھے۔
شیخو جی نے ندیم بھائی کو دیکھتے ہی کہا کیا ہواندیم بھائی صاحبزادہ تو غائب ہی ہوگیا ہے؟ کہہ گیا تھا سرمایہ کاری کا کوئی اچھا طریقہ بتا ئے گا مگر وہ تو ایسا غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
خیالی صاحب اِس بات پر ہنس دیے اور ریاض بھائی نے بھی ہلکی مسکراہٹ کےساتھ جواب دیا نوجوان آج کل کچھ مصروف ہے اِسلئے نہیں آیا، کل ہی کہہ رہا تھا اچھے منافع کےلئے شیخو جی کو قومی بچت میں سرمایہ کاری کا مشورہ دیں ا±س میں سرمایہ بھی محفوظ ہے اور مناسب منافع بھی ہے ۔
نوجوان کہہ رہا تھا وہ شیخو جی کو سمجھا دے گا مگر میں نے منع کردیا۔ بھائی اِن سے ملو یہ ہیں میرے دوست غلمان حیدر جوقومی بچت میں کام کر ر ہے ہیں۔ میں نے اورغلمان بھائی نے محنت کش حقوق کےلئے بہت جدوجہد کی ہے، اب یہ تو افسر ہوگئے ہیں اور یہ بھی ریٹائر ہونےوالے ہیں۔ قومی بچت کے بارے میں اِنہی سے پوچھ لیتے ہیں۔
خیالی صاحب نے کہا ارے یہ تو بہت اچھا کام ہوگیا۔ اِس موقع سے تو ہم ضرور فائدہ ا±ٹھائیں گے۔ تو غلمان بھائی یہ بتائیں قومی بچت کا ادارہ ہے کیا اور یہ کس قدر منافع دیتا ہے؟
چونکہ غلمان بھائی ایک لیبر لیڈر رہے تھے تو یہ کیسے ممکن ہے وہ مختصر بات کرتے؟ انہوں نے ادارے کی تاریخ سے بات شروع کی۔ بھائی بات دراصل یہ ہے جیسا کہ آپ کو پتہ ہے انگریزوں نے ہی برِصغیر میں اکثر اداروں کی بنیاد ڈالی۔ ریلوے لائن بھی ا±نہی کی بچھائی ہوئی ہے ، اِسی طرح ا±نہوں نے ہی قومی بچت کا ادارہ بھی متعارف کروایا، جسے قائم ہوئے اب لگ بھگ 144 سال ہوچکے ہیں۔
اِس ادارے کی بنیاد ا±س وقت ڈالی گئی تھی جب انگریز حکومت کو پہلی جنگِ عظیم اور دوسری جنگِ عظیم میں سرمائے کی ضرورت پڑی۔ برٹش حکومت نے پ±رکشش شرح منافع پر عوام سے سرمایہ جمع کیا اور اِس تجربے کے بعد 1873ءمیں گورنمنٹ نے سیونگ بینک ایکٹ کے ذر یعے ایک ادارہ قائم کیا اور قیامِ پاکستان کے بعد بھی ادارہ قائم رہا جو اب تک فعال ہے۔
بھائی دیکھیں حکومت کو ہر مرتبہ بجٹ میں خسارہ ہوتا ہے اور اِس خسارے کو پورا کرنے کےلئے حکومت مختلف بینکوں، آئی ایم ایف، عالمی بینک اور نہ جانے کس کس سے قرض لیتی ہے۔ اِسی طرح کا قرض وہ عوام سے بھی لیتی ہے جس کا ذریعہ قومی بچت کی اسکیمیں ہیں۔ قومی بچت حکومت کو عوام کی بچت تک رسائی کا اہم ذریعہ فراہم کرتی ہے۔
اچھا تو یہ بھی قرض حکومت کو ہی دیتے ہیں،خیالی صاحب بولے۔
شیخو جی نے بات کاٹتے ہوئے کہا بھائی غلمان اورندم کےلئے بھی تو چائے منگوالو۔
خیالی صاحب بولے جی ہاں چلو اس بہانے ہم بھی ایک ایک اور چائے پی لیں گے
توغلمان بھائی آپ کیا کہہ رہے تھے، خیالی صاحب نے گفتگو کا ر±خ ایک مرتبہ پھر غلمان بھائی کی طرف موڑ دیا۔
قومی بچت کا ادارہ عام افراد کے علاوہ بوڑھے اور پینشنرز کو سب سے زیادہ شرح منافع پر سرمایہ کاری کا موقع دیتا ہے۔ اِس حوالے سے یہ ادارہ مختلف بچت اسکیموں کو متعارف کراچکا ہے، جس میں بچت سرٹیفکیٹ اور اکاو¿نٹس دونوں شامل ہیں۔ ادارہ قومی بچت میں 70 لاکھ افراد نے 3500 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔
یہ بات سن کر شیخو جی کی دلچسپی میں اضافہ ہوگیا اور ا±نہوں نے کہا کون کون سی اسکیمیں ہیں؟
غلمان حیدر صاحب نے پھر بولنا شروع کردیا پرائز بانڈ ، سیونگ سرٹیفکیٹ اور سیونگ اکاونٹس ہیں۔ پرائز بانڈز، 2 سو، 750، 7500، 40 ہزار اور 40 ہزار پریمیم بانڈز جاری کیے جاتے ہیں۔
2 سو روپے کے پرائز بانڈ پر انعام 7 لاکھ 50ہزار روپے ہے جبکہ 40 ہزار روپے کے بانڈ پر انعام کی رقم 7 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے۔ ابھی حکومت نے نیا پرائز بانڈ 40 ہزار روپے کا جمع کرایا ہے، جس پر 8 کروڑ روپے کا پہلا انعام ہے اور ہر 6 ماہ بعد منافع بھی ہے۔
ندیم بھائی جو اِس دوران کسی فون کال پر مصروف ہوگئے تھے پرائز بانڈ کا سن کر ا±چھل پڑے اور ایک دم فون کاٹ کر کہا، غلمان بھائی شیخو جی کو پرائز بانڈ کا لالچ نہ دیں، اگر بے چارے کا کوئی بھی انعام نہ نکلا یا چھوٹا موٹا انعام نکلا تو کیا کرے گا۔ ویسے بھی یہ پرائز بانڈز تو امیروں کے کالے دھن کو سفید کرنے کےلئے ہیں، جس سیاستدان بیوروکریٹ کی دولت کا حساب لیں پتہ لگے گا پرائز بانڈز سے دولت کمائی ہے۔
شیخو جی بولے وہ کیسے ؟ ندیم بھائی بولے بھائی یہ جو لوٹی ہوئی دولت لوگوں نے جمع کی ہوئی ہے ا±س کو سفید کرنے کےلئے دکھاتے ہیں 7 کروڑ روپے انعامی بانڈ میں ملے اور ایک جھٹکے میں دھن کالے سے سفید۔
غلمان حیدر گویا ہوئے ندیم بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، حقیقت یہی ہے۔ اِسی لیے اب 40 ہزار والے بانڈ پر شناختی کارڈ لازمی کردیا ہے اور یہ پاکستان کا پہلا رجسٹرڈ بانڈ ہے۔
ویسے بھی اب ادارے کو جدید بنایا جارہا ہے، ابھی چند دن قبل ہی میری برانچ کمپیوٹرائزڈ ہوئی ہے اور سنا ہے سمندر پار پاکستانیوں کےلئے ڈالر اور سود سے پاک بانڈز کے علاوہ دہشت گردی میں شہید ہونےوالوں کے اہل خانہ کےلئے بھی خصوصی سرمایہ کار اسکیمیں لائی جارہی ہیں، جس کا اعلان آئندہ چند مہینوں میں ہوجائے گا۔ مگر میرے خیال میں شیخو جی کےلئے بہتر ہے وہ قومی بچت میں بہبود سرٹیفکیٹ یا پنشنر بینیفٹ اکاو¿نٹ کھول لیں۔
شیخو جی بولے اچھا اِن کے بارے میں تو کچھ بتاو¿ کتنا منافع مل رہا ہے۔
’کیوں نہیں، میں آپ کو تفصیل سے بتاتا ہوں،‘ غلمان حیدرنے حامی بھرتے ہوئے کہا ۔
پنشنرز بینیفٹ اکاو¿نٹ
یہاں صرف سرکاری، نیم سرکاری، مسلح افواج اور دیگر سرکاری اداروں سے ریٹائر افراد ہی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں اور ا±ن کی مدت میچورٹی 10 سال ہے۔ اِس میں 10 ہزار روپے سے لے کر فردِ واحد 50 لاکھ روپے تک سرمایہ کاری کرسکتا ہے، جبکہ جوائنٹ کھاتے کی صورت میں 1 کروڑ روپے تک سرمایہ کاری ہوسکتی ہے۔ منافع کی ادائیگی ہر ماہ کی جاتی ہے۔ اِن بچت کھاتوں میں سرمایہ کاری پر منافع 9.36 فی صد ہے اور ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر 780 روپے ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں۔
بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ
اِس میں بھی منافع 9.36 فیصد ہے۔ اِس سرٹیفکیٹ کو فی الحال روکا ہوا ہے اور دوبارہ ڈیزائن کیا جارہا ہے۔ اِس میں جو منافع دیا جارہا ہے وہ حکومت کو گراں گزر رہا ہے۔ اِس میں 60 سال کی عمر سے زیادہ کے شہری یا ریٹائرڈ افراد کو سرمایہ کاری کا حق دیا جاتا ہے۔ اِس کی بھی 10 سال کی میچورٹی ہے۔ اگر پہلے 4 سال میں رقم نکلوائی تو ایک فیصد سے لے کر 0.25 فیصد تک کٹوتی ہوسکتی ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ ٹیکس اور زکوٰة کی کٹوتی سے مستثنیٰ ہیں۔
شیخو جی فی الحال تو آپ اِن دو میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ اِس میں ماہانہ منافع بھی ہے اور سرمایہ بھی محفوظ ہے جبکہ ٹیکس کی کٹوتی بھی نہیں۔
خیالی صاحب بولے اچھا اگر موازنہ کرنا ہوکہ دیگر اسکیموں پر کیا منافع مل رہا ہے تو غلمان بھائی بولے وہ زیادہ پ±رکشش نہیں ہے۔
ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ
اِس سرٹیفکیٹ کی میچورٹی کا عرصہ 10 سال ہے۔ پانچ سو روپے سے لے کر 10 لاکھ روپے کے سرٹیفکیٹ دستیاب ہیں مگر سرمایہ کاری اور شہریت کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ اِس وقت شرح منافع 7.54 فیصد ہے اور ایک لاکھ روپے پر 10 سال کی میچورٹی پر سرمایہ کار کو 2 لاکھ 7ہزار روپے ملیں گے۔ اِس طرح 10 سال میں منافع ایک لاکھ سات ہزار روپے جبکہ ایک لاکھ روپے اصل زر ہے۔
فائلر کےلئے ٹیکس 10 فیصد جبکہ نان فائلرز کےلئے 17.5 فیصد ہے۔ 50 ہزار روپے سے کم سرمایہ کاری پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہے جبکہ سالانہ مقرر کردہ نصاب کے مطابق زکوٰة وصول کی جاتی ہے۔
ریگولر انکم سرٹیفکیٹ
اِن سرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری کی مدت 5 سال ہے۔ 50 ہزار روپے سے 10 لاکھ روپے تک کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ اِن سرٹیفکیٹس پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ آر آئی سی کو میچورٹی سے قبل کیش کروانے پر کٹوتی کی جاتی ہے۔ پہلے سال 2 فیصد جبکہ چوتھے سال میں 0.5 فیصد ہیں۔ اِن سرٹیفکیٹ پر سالانہ شرح منافع 6.54 فیصد ہے۔ یعنی ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ماہانہ 545 روپے ادا کیے جاتے ہیں۔
اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ
اِس سکیم پر ادارہ قومی بچت کی جانب سے 3 سال کی میچورٹی ہے۔ 6 ماہ سے قبل سرٹیفکیٹ کو کیش کرانے کی صورت میں کوئی منافع نہیں ملے گا۔ ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرنے پر 6 ماہ میں منافع 6 فیصد کی شرح سے 3 ہزار روپے سالانہ ادا کیے جائیں گے، جبکہ 3 سال مدت مکمل کرنے پر منافع 6.20 فیصد ہوجائے گا اور سالانہ 3100 روپے منافع ادا ہوگا۔ ٹیکس کی وہی شرائط لاگو ہیں۔
شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹ
یہ سرٹیفکیٹ ایک سال اور اِس سے کم م±دت کی سرمایہ کاری کےلئے ہیں۔ یہ سرٹیفکیٹ 3، 6 اور 12 ماہ کی م±دت کےلئے جاری ہوتے ہیں۔ 10 ہزار روپے سے 10 لاکھ روپے مالیت کے قلیل مدتی سرٹیفکیٹ جاری ہوسکتے ہیں۔
سرمایہ کاری کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ اِس سرٹیفکیٹ پر 3 ماہ کی سرمایہ کاری پر 5.6 فیصد منافع ہے اور ایک لاکھ روپے پر 1400 روپے منافع دیا جاتا ہے۔ 6 ماہ کی مدت کےلئے منافع کی شرح 5.62 فیصد ہے اور ایک لاکھ روپے پر 2810 روپے جبکہ 12 ماہ کی مدت کےلئے منا فع کی شرح 5.64 فیصد ہے اور ایک لاکھ روپے پر منافع 5640روپے ادا کیا جاتا ہے۔
سیونگ اکاو¿نٹ
چھوٹی بچت کرنے والوں کےلئے یہ اکاو¿نٹ جس میں 500 روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ ہفتے میں تین مرتبہ رقم نکلوائی جاسکتی ہے۔ یہ اکاو¿نٹس قومی بچت کے مراکز یا پوسٹ آفس پر کھولے جاسکتے ہیں۔ اِن بچت کھاتوں پر منافع 3.95 فیصد سالانہ کی شرح سے دیا جاتا ہے۔
اسپیشل سیونگ اکاو¿نٹ
عوام میں بچت کو فروغ دینے کےلئے یہ اکاو¿نٹ متعارف کرائے گئے ہیں۔ اِس میں کم از کم 500 روپے کے ڈیپازٹ پر منافع دیا جاتا ہے۔ منافع کا حساب کرتے وقت ہر 500 روپے پر منافع دیا جاتا ہے۔سرمایہ کاری کی کوئی حد مقرر نہیں مگر منافع ہر 6 ماہ بعد ادا کیا جاتا ہے۔ 6 ماہ سے قبل رقم نکلوانے کی صورت میں کوئی منافع ادا نہیں کیا جاتا ہے۔ اِس پر بھی منافع اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ کی شرح سے دیا جاتا ہے۔
خیالی صاحب بولے بینک اکاو¿نٹ کی جگہ قومی بچت میں سرمایہ کاری پر کم از کم ریٹائرڈ افراد کو بہتر منافع مل رہا ہے۔ شیخو جی اب قومی بچت کے بارے میں سوچنا شروع کردوں اگر بہبود سرٹیفکیٹ یا پنشنر اکاو¿نٹ کھولا تو 10 لاکھ روپے پر ماہانہ 7800 روپے مل جائینگے جو بینک سے تو بہتر ہی ہیں اور اِن پر ٹیکس کی بھی کوئی کٹوتی نہیں ہے۔
شیخو جی نے کہا ہاں بھائی سوچ تو میں بھی یہی رہا ہوں مگر گھر میں ایک مرتبہ مشورہ تو کرلوں۔
غلمان صاحب بولے تو خیالی صاحب آپ ہی کچھ سرمایہ کاری کرلیں نیشنل سیونگ میں۔
خیا لی صاحب نے جواب دیا غلمان صاحب میں نے کچھ بچت تو کی ہے مگر میں اِس کم ترین منافع پر کیا کروں گا؟ ابھی میری نوکری باقی ہے، میں تو کہیں اور سرمایہ کاری کا سوچ رہا ہوں۔
ندیم بھائی گویا ہوئے ارے بھائی کہاں۔
یار تمہارے بیٹے نے میوچل فنڈ یا اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا کہا ہے۔ ہے تو تھوڑا رسکی مگر آزما کر تو دیکھا جاسکتا ہے۔
ندیم بھائی بولے ہاں یہ تو ہے، تو پھر نوجوان سے کہتا ہوں بھائی تم خیالی صاحب کو بھی بتاو¿ وہ کیا کریں اور کہاں سرمایہ کاری کریں۔
ابھی یہی باتیں جاری تھیں بیک وقت شیخو جی اور خیالی صاحب کی موبائل فونز بج اٹھیں ، دونوں نے اپنی موبائل فونز پر نگاہیں گاڑھ دیں عالم پریشانی میں ایک ساتھ گویا ہوئے ندیم بھائی اور غلمان صاحب باقی تفصیل بعد میں ابھی چلتے ہیں ۔ندیم بھائی اور غلمان صاحب دونوں کو تکتے رہ گئے، شیخو جی اور خیالی صاحب نے دوڑیں لگا دیں۔ ندیم بھائی بولے لگتا ہے ہوم منسٹر ز کے بلاوے تھے ،غلمان حیدر بولے اچھا !ایسا بھی ہوتا ہے ۔؟

 

بغیر کچھ کیے دولت کمانے میں مدد دینے والے ذرائع

(پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
پیسہ کمانے کےلئے کام کرنا پڑتا ہے بلکہ سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔مگر خوش قسمتی سے دولت کمانے کے کچھ ذرائع کےلئے کچھ زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی، جس کےلئے موبائل ایپس، بنیادی سرمایہ کاری ٹولز اور دیگر حکمت عملیوں کا شکرگزار ہونا چاہیے، جن کے ذریعے اضافی آمدنی بغیر کچھ کیے حاصل کی جاسکتی ہے۔یہاں آپ ایسے ہی ذرائع جان سکیں گے جن کے ذریعے کم از کم محنت کرکے پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔
1:۔۔۔ویب سائٹ بنائیں اور اشتہارات سے کمائیں
اگر آپ کسی موضوع کے ماہر ہیں مگر وہ موضوع کسی کتابی پراجیکٹ یا آن لائن کورس کےلئے فٹ نہیں، تو ویب سائٹ بنالیں۔ ورڈ پریس یا کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم کے ذریعے ویب سائٹ بنائی جاسکتی ہے، جہاں آن لائن اشتہارات فروخت کیے جاسکتے ہیں، جیسے گوگل کے ذریعے، تو جب بھی سائٹ پر کوئی آپ کے کام پر پڑھے گا تو کچھ اضافی آمدنی آپ کے حصے میں آجائے گی۔
2:۔۔۔یوٹیوب ویڈیو گائیڈ
اگر تو آپ کسی چیز کے ماہر ہیں مگر کتاب، آن لائن کورس یا ویب کے ذریعے اسے بیان نہیں کیا جاسکتا تو یوٹیوب ویڈیو بنانے کے بارے میں سوچیں۔ یوٹیوب میں مختلف موضوعات پر ہزاروں بلکہ لاکھوں گائیڈز موجود ہیں، اگر آپ اسمارٹ فون کے کسی فنکشن کے ماہر ہیں تو آپ اس پر ویڈیو بناسکتے ہیں یا جو آپ چاہیں۔ یوٹیوب میں بھی ویڈیوز پر اشتہارات ملتے ہیں اور لوگ مخصوص موضوعات کو سرچ کرتے ہوئے آپ کی ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں اور اشتہاری آمدنی لامحدود عرصے تک ملتی رہتی ہے۔
3:۔۔۔ویب سائٹ ہے تو ریفر لنکس کیلئے استعمال کریں
آپ کی ویب سائٹ کسی بھی موضوع پر ہو یا بلاک ہو، اس میں کسی پراڈکٹ کے بارے میں ریفر لنکس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ویب سا ئٹس جیسے اِمیزون کسی پراڈکٹ کے یو آر ایل کا کوڈ شامل کرنے دیتی ہیں، اگر اس یوآر ایل سے کوئی پراڈکٹ فروخت ہوتی ہے تو آمدنی کا کچھ حصہ آپ کو ملے گا۔
4:۔۔۔ایپس ریفر کریں
اگر تو آپ کوئی ایپ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو ریفر کے ذریعے کافی کما سکتے ہیں، اوبر یا دیگر متعدد موبائل ایپس میں ہر اس شخص کو کچھ کریڈٹ دیا جاتا ہے جو ایسے افراد کو ایپ ریفر کرے جو اسے خریداری کےلئے استعمال کرے۔
5:۔۔۔بنگ استعمال کریں
مائیکرو سافٹ ریورڈز پروگرام کے تحت یہ کمپنی گوگل کی بجائے اس کے براﺅزر بنگ کو استعمال کرنے پر معاوضہ دیتی ہے، تاہم یہ سہولت کچھ ممالک تک محدود ہے مگر آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔
6:۔۔۔زیادہ منافع دینے والے سیونگ اکاﺅنٹ میں رقم جمع کرنا
جب سیونگ اکاﺅنٹس میں رقم کی بچت کی جاتی ہے تو بینکوں کی جانب سے انٹرسٹ کی مد میں اضافی رقم دی جاتی ہے، کئی بار یہ انٹرسٹ کم ہوتا ہے جبکہ کئی بار زیادہ۔ جب آپ زیادہ انٹرسٹ ریٹ والے سیونگ اکاﺅنٹ کا انتخاب کرتے ہیں تو رقم کی مقدار میں اضافہ بھی زیادہ ہوتا ہے، مگر ایسے اکاﺅنٹس کےلئے بچت بہت زیادہ کرنا پڑتی ہے۔
7:۔۔۔اپنی تصاویر فروخت کریں
ویب سائٹس جیسے میڈیا سائٹس، کو اپنے مواد کےلئے اچھی تصاویر کی ضرورت ہوتی ہے، کئی بار یہ کام سٹاف فوٹوگرافر کرتے ہیں، جبکہ زیادہ تر فوٹوز سروسز جیسے گیٹی وغیرہ، اسی طرح سٹاک امیج سروس جیسے شٹر اسٹاک کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ شٹر اسٹاک اور آئی اسٹاک میں کوئی بھی اپنی تصاویر جمع کراکے اس سروس کا حصہ بن سکتا ہے، جس کےلئے کچھ ان سروسز کی گائیڈلائنز پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد جب کوئی بھی اس تصویر کو ڈاﺅن لوڈ کرتا ہے تو اس کی فیس آپ کو ملے گی، اگر آپ شوقیہ فوٹوگرافر ہیں تو یہ کچھ اضافی رقم کمانے کا آسان ذریعہ ہے۔
8:۔۔۔رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری
اس کےلئے ہاتھ میں زیادہ نقدی کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس کا صلہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، اگر آپ کسی رئیل اسٹیٹ پر سرمایہ کاری کرتے ہیں تو کرائے کی مد میں کافی رقم کما سکتے ہیں، یقیناً اس میں کافی مشکلات بھی ہوتی ہیں یعنی کافی سرمایہ ہاتھ میں ہونا چاہیے اور سرمایہ کاری کے بعد کرائے کا آسانی سے حصول وغیرہ۔ مگر ان پر قابو پالیا جائے تو جلد کافی زیادہ اضافی آمدنی ہونے لگتی ہے۔
9:۔۔۔موبائل ایپ بنائیں
اسمارٹ فون تو اب ہر ایک کے ہاتھ میں ہے تو اس کےلئے ایپس بنانا کافی آمدنی کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کچھ ویب سائٹس جیسے کوڈ اکیڈمی وغیرہ سے آپ اس کےلئے درکاری کوڈ کو آسانی سے سیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کی ایپ اچھی ہو اور لوگ اسے پسند کریں گے تو اس سے دو ذرائع سے آمدنی ہوسکتی ہے، ایک تو ایپل کے ایپ اسٹور یا اینڈرائیڈ کے گوگل پلے اسٹور سے چارج کرنا اور دوسرا اشتہارات کی فروخت کے ذریعے۔
بشکریہ ۔۔۔ڈان نیوز

مناسب پیشے کا انتخاب، نئی نسل کا اہم مسئلہ

(سید اویس مختار)
اگر آپ بھی بہتر شعبے اور نوکری حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو بلاگ سیریز کا آغاز کیا جا رہے ہے، جس میں تمام مسائل کا حل پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ سیریز کا پہلا بلاگ ہے۔
’آپ نے کون سی انجینئرنگ کی ہے؟‘
’جی میں ایک الیکٹرونکس انجینئر ہوں۔
’اور آپ کس پیشے سے وابستہ ہیں؟‘
’جی ایک انشورنس کمپنی میں جاب کرتا ہوں۔‘
’کیا انشورنس اور الیکٹرونکس انجینئرنگ کا کوئی تعلق بنتا ہے؟‘ میں نے سوال کیا۔
’سر، گھر چلانے کےلئے پیسوں کا تعلق بنتا ہے۔‘ ایک مسکراتا ہوا جواب ملا۔
اِسی طرح ایک دوسرے دوست جو سافٹ ویئر انجینئرنگ کرنے کے بعد آج کل سافٹ اسکل ٹریننگ سے وابستہ ہیں، ان سے پوچھا: ’آپ کی سافٹ ویئر انجینئرنگ کا کیا ہوگا؟‘
جواب ملا، اصولاً تو سافٹ ویئر انجینئرنگ میری فیلڈ ہی نہیں تھی۔ شروع میں کسی نے مناسب رہنمائی نہیں کی جس کی وجہ سے میں نے یہاں داخلہ لے لیا تھا۔ بعد ازاں ہر گزرتے دن کے ساتھ اِس میں دلچسپی کم ہونے لگی اور اب تو یہ عالم ہے کہ سافٹ اسکلز ٹریننگ کے علاوہ کوئی اور کام کرنے کا دل نہیں کرتا۔ یہاں دل بھی لگتا ہے، پیسہ بھی ہے اور کام بھی بہت ہے۔
تعلیم و پیشے کے حوالے سے رہنمائی کی عدم دستیابی آج کل ہر دوسرے نوجوان کا مسئلہ ہے۔ آج ہمارے درمیان کا ہر دوسرا نوجوان اپنے پیشے کو لے کر ایک اضطراب اور بے چینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ کوئی یہ شکوہ کرتا ہے ا±س کی نوکری اِس قابل نہیں کہ بنیادی ضروریات کو پورا کیا جاسکے، کہیں ڈگریاں ہیں پر نوکری نہیں، کسی کے پاس سند کوئی اور تو پیشہ کچھ اور ہے۔ کہیں تو نوکری بھی ہے، پیسہ بھی اور ڈگری بھی مگر کام میں دلچسپی کا فقدان ہے۔اِن سب مسائل کا ایک ہی حل ہے: پیشے کے حوالے سے رہنمائی، جسے ہم کریئر کونسلنگ کہتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے فی الوقت اِس حوالے سے ہمارے پاس وہ کون سے ایسے ذرائع موجود ہیں جو اِس ضمن میں قابلِ اعتبار اور قابلِ عمل ہیں اور وہ کون سا رویہ ہے جس سے احتراز کرنا ہے۔
ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں بچے مستقبل کی منصوبہ سازی کرتے وقت والدین سے مشورہ نہ صرف اپنا فرض سمجھتے ہیں، بلکہ ا±س مشورے پر عمل کرنا بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ مثلاً ایک طالبعلم کی خواہش ہے کہ آگے جاکر وہ تجریدی آرٹس کا شعبہ چنے مگر والدین اِس بات پر راضی نہیں، تو ا±س صورت میں وہ طالب علم تعظیم کے ہاتھوں مجبور ہوجائے گا۔ سوال یہ ہے کیا 40، 30 سال پہلے فارغ التحصیل ہو نےوالے والدین آج کے دور کے بدلتے تقاضوں، زمینی حالات، جاب مارکیٹ اور سب سے بڑھ کر اپنے بچوں کی دلچسپی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ا±ن کی بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں؟
میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہمارے معاشرے کے والدین دنیا میں موجود 12 ہزار پیشوں کو چھوڑ کر اپنے بچے کو محض ڈا کٹر یا پھر انجینئر بننے کا مشورہ نہ دیتے۔یہی وہ وجہ ہے ہم اپنے اطراف میں دیکھتے ہیں کہ والدین کی جانب سے نوجوانوں کو صرف 2 آ پشن دیے جاتے ہیں، اور اِس بات پر مجبور کیا جاتا ہے وہ ا±ن ہی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ وہ بچہ جو کہ اِن دونوں میں دلچسپی نہیں رکھتا مگر مجبوراً والدین کی ناراضی کے ڈر سے ا±ن کو اختیار کرتا ہے، اور اپنی ساری زندگی ایک ادھیڑ بن میں گزار دیتا ہے۔
پھر اِن 2 پیشوں کےلئے معاشرے کا یہی جنون ہے کہ جہاں کسی سرکاری یونیورسٹی میں میڈیکل یا انجینئرنگ کی 400 سیٹیں ہوں، وہاں 200 ہزار طلباءداخلہ ٹیسٹ دینے پہنچے ہوئے ہوتے ہیں، اور سیٹیں 80 اور 90 فیصد مارکس کی بلند ترین شرح پر ملتی ہیں، جس سے نسبتاً کم مارکس حاصل کرنےوالے بچے اِس ایک داخلہ ٹیسٹ کو ہی اپنی قابلیت کا معیار سمجھ کر ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں اور والدین کے طعنے بردا شت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
پیشے کا انتخاب کسی ماہر کیریئر کونسلر سے مشورے کے بعد کرنا چاہیے۔ پاکستان میں گویہ رواج بہت کم ہے اور اِس طرح کے پروفیشنل بھی بہت کم ہیں۔ چند جامعات میں اگر اِس طرح کے ماہرین موجود ہیں بھی تو ا±ن کا کام اب کونسلنگ کے نام پر جامعہ میں موجود ڈگری پروگرا مز کی مارکیٹنگ کرنا رہ گیا ہے۔اگر آپ کسی ماہر کیریئر کونسلر سے رابطے میں نہیں ہیں تو آپ یہ کام خود بھی کرسکتے ہیں، البتہ اِس کےلئے ضروری ہے کہ آپ نیچے دیے گئے چار مراحل پر عمل کریں۔
اپنے آپ کو پہچانیں
اپنی صلاحیتوں کے بارے میں جانیں، جس پیشے کو آپ اختیار کرنا چاہتے ہیں ا±س کام کو کرنے کی صلاحیت آپ کے اندر ہونی چاہیے۔ کچھ لوگوں کے اندر پیدائشی تخلیقی صلاحیتیں ہوتی ہیں، لہٰذا یہ ا±ن پر منحصر ہے کہ اپنی فطری ترجیحات دریافت کریں۔ اِس کھوج میں لگ جائے کہ ا±ن میں وہ کون سی خداداد صلاحیت ہے جس کا استعمال وہ اپنے پیشے میں کرسکتے ہیں۔
کچھ خاص صلاحیتیں آپ کی بچپن سے کی گئی تربیت کے دوران آپ کے اندر شامل ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر جن گھروں میں بچوں کو کتابوں سے رغبت دلائی جاتی ہے، ا±ن کے اندر لکھنے کی صلاحیت کتابیں نہ پڑھنے والے بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ وہ بچے اپنی اِس صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے شعبے کے متعلق مضامین لکھ سکتے ہیں اور نام اور پیسہ دونوں کما سکتے ہیں۔
کچھ بچے ہمیں ایسے نظر آتے ہیں جو باتونی ہوتے ہیں، تو کچھ خاموش طبع، اور ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو بچپن ہی سے قائدانہ صلاحیت رکھتے ہیں، گھر میں جو بھی شرارتیں ہوں ا±س میں ا±نہی کی کارستانی ہوتی ہے۔
ایسے بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو یہ صلاحیتیں ا±ن میں پنپتی رہتی ہیں، یوں وہ یقیناً اس ہنر کو مسلسل استعمال کرنے کی وجہ سے منصوبہ بندی اور قیادت کا خاصہ تجربہ حاصل کرلیتے ہیں اور ا±ن کو کسی بھی شعبے میں قائدانہ کردار ادا کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔اِسی طرح جو شخص بچپن سے ہی پبلک اسپیکنگ کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ اگر ٹیچنگ کے شعبے میں جانا چاہے تو ا±سے عدم اعتماد جیسا مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔ لہٰذا اِس بات کو سمجھنا ہے کہ آپ کے اندر وہ کون سی قدرتی صلاحیت موجود ہے جس کے عین موافق آپ نے اپنے پیشے کو چننا ہے۔
اپنی دلچسپی جانیں
یہ مرحلہ بھی آپ کی اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے کہ آپ کو کس کام میں زیادہ دلچسپی محسوس ہوتی ہے، کیا آپ لوگوں سے ملنے جلنے اور بات
چیت میں پہل کرنے کو بہت اچھا سمجھتے ہیں؟ اگر ہاں تو پھر آپ کے لیے ایسے کام کو کرنے میں بہت آسانی ہوگی جس میں آپ کو روزانہ نت نئے افراد سے ملنے اور بات چیت کرنے کے مواقع ملیں، مثلاً سیلز یا پبلک ریلیشز۔اگر آپ کو زیادہ لوگوں سے میل جول پسند نہیں اور آپ اپنے آپ میں مگن رہنے والے انسان ہیں تو پھر آپ کو یقیناً ایسے شعبے بہتر لگیں گے جس میں آپ کی زیادہ لوگوں سے ملاقات نہ ہو۔ صرف آپ ہوں اور آپ کا کام، جیسے کہ ریسرچ کا شعبہ، یا سوشل میڈیا مارکیٹنگ یا لکھنے لکھانے کا پیشہ۔
ایسا شعبہ جس میں آپ کی دلچسپی اور پسندیدگی دونوں برقرار ہوں تو ا±س کا فائدہ یہ ہے کہ ایسے شعبے میں آپ اگر 24 گھنٹے بھی کام کرتے ر ہیں تو تھکن آپ کے اور کام کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکے گی۔ اِس طرح آپ ا±ن لوگوں سے زیادہ کارکردگی دکھا سکیں گے جو ا±س شعبے میں بِناءدلچسپی کے فقط روزی کمانے کی خاطر موجود ہیں۔ یوں آپ کو ا±س شعبے میں کام کرنے کا ایک الگ فائدہ ملے گا۔
کیا اس شعبے میں پیسہ ہے؟
یوں تو کوئی بھی پیشہ اختیار کرنے کا سب سے بڑا مقصد رزق حلال کمانا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنا ہی ہوتا ہے، اِس لیے آپ کا شعبہ ایسا ہونا چاہیے جس میں آپ باآسانی اتنا پیسہ کما سکیں کہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرسکیں۔ بہت دفعہ ہم اپنے پیشے سے، جس میں ہماری دلچسپی بھی ہوتی ہے، اس لیے بددل ہوجاتے ہیں کہ ا±س میں ہم سے جتنا کام لیا جاتا ہے اتنی ا±س کی اجرت نہیں ہوتی یعنی محنت کا وہ پھل نہیں ملتا جس کے ہم طلبگار ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارا ا±س کام سے دل ا±ٹھ جاتا ہے ساتھ ہی ہماری کارکردگی بھی گر جاتی ہے۔لہٰذا پیشے کو اختیار کرتے ہوئے ا±س کی مارکیٹ میں مانگ کو سمجھیں اور یہ بھی سروے کریں کہ ابتداءمیں اور پھر 5 سال کے بعد ا±س پیشے میں کس قدر پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔
کیا کوئی شعبہ آپ کے نظریات سے مطابقت رکھتا ہے؟
اور آخری اور سب سے اہم نقطہ یہ کہ وہ پیشہ آپ کے نظریات، آپ کی اقدار کے مطابق اور اخلاقی اعتبار سے مناسب ہو۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ کچھ ایسے پیشے اختیار کرلیتے ہیں جو ا±ن کے اپنے نظریات کے مطابق نہیں ہوتے، یا جن کو ا±ن کا خاندان یا ا±ن کا معاشرہ ایک بہتر پیشہ نہیں سمجھتا جس کی وجہ سے وہ اپنی کمیونٹی سے کٹ جاتے ہیں۔یوں پیسہ کمانے کی جدوجہد میں وہ اپنی خاندانی اور سماجی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھتے ہیں۔ ظاہر ہے اگر آپ اِس دنیا میں آئے ہیں تو پیسہ کمانے کے علاوہ آپ کی ایک معاشرتی زندگی ہوتی ہے جس کا آپکو خیال رکھنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر آج بھی بہت سے مذہبی طبقات میں بینکاری کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ کئی بار ایسا ہوا اور دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی فرد بینکاری کے پیشے کو اختیار کرتا ہے تو ا±س کے رشتے دار ا±س کا سوشل بائیکاٹ کرجاتے ہیں جس کا بڑا منفی اثر ا±س فرد کی سوچ اور خاندان پر پڑتا ہے۔
لہٰذا کوئی بھی پیشہ اختیار کرتے وقت اِس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ اخلاقی اور نظریاتی اعتبار سے وہ آپ کے اور آپ کے ملنے جلنے والوں کے اذہان سے میل کھاتا ہو۔جب اِن چاروں نکات کو یکجا کرکے آپ اپنے لیے کوئی شعبہ چنیں گے تو یہ ایک آزمائی ہوئی بات ہے کہ وہ پیشہ ہر حوالے سے بہترین ثابت ہوگا اور ا±س میں آپ کا کردار مثالی ہوگا۔۔۔(بشکریہ ڈان نیوز)۔۔۔

بٹ کوائن کرنسی کی سائنس: کیا اس میں انویسٹمنٹ کرنی چاہیے؟

(تحریر:۔۔۔۔حیدر جناح)
آج کل میرے کئی دوست بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی کی دنیا میں پوری طرح غرق ہیں۔ سب نے مل کر واٹس ایپ پر ایک گروپ بنا رکھا ہے جہاں سب ایک دوسرے کو نئی نئی کرنسیوں کے بارے میں دلچسپ آرٹیکل اور ریسرچ پیپرز بھیجتے ہیں۔شروع میں تو میں نے نظر انداز کیا لیکن پھر اخبارات میں بٹ کوائن کی بڑھتی ہوئی قیمت کے بارے میں پڑھا تو جھنجھلا کے مگر رازداری میں نکموں کے بھیجے ہوئے ریسرچ پیپرز بھی پڑھے۔21جولائی کو میں نے بغیر کسی کو بتائے بیگم کے سونے کے بعد 100 پاو¿نڈ کے بٹ کوائن ایک موبائل ایپ کے ذریعے خرید لئے۔ 100پاو¿نڈ میں بٹ کوائن کی چند چھینٹیں ملی۔ میں 0.06566672 بٹ کوائن کا مالک بن چکا تھا۔ کچھ عرصے بعد دیکھا تو یہ 100پا و¿ نڈ 140 اور پھر اکتوبر 2017 کے دوسرے ہفتے میں میرے 100پاو¿نڈ 204 پاو¿نڈ بن گئے۔ پہلی بار اپنے دوستوں پر فخر ہوا اور یوں میں بھی کرپٹو کرنسی کی دنیا میں کود پڑا۔
ڈیجیٹل کرنسی کیا ہے؟
عموماً ڈیجیٹل کرنسی کو ورچوئل (خیالی یا مجازی) کرنسی بھی کہتے ہیں۔ کرنسی کو ورچوئل کہنا اکثر ڈیجیٹل کرنسی ماہرین کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ وہ اس لئے کہ ” ورچوئل” لفظ یعنی “اصل جیسے” کےلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن “اصل ” کےلئے نہیں جبکہ ڈیجیٹل کرنسی ایک الیکٹرونک رجسٹر میں محفوظ کی جاسکتی ہے۔ چینی زبان میں لفظ “ورچوئل ” کا ترجمہ (Created from nothing)ہے یعنی ایک ایسی چیز جو کسی بھی شہ سے نا بنی ہو۔دراصل یہ ورچوئل کرنسی ایک حقیقت ہے اور موجود ہے اس لئے ورچوئل کو ڈیجیٹل کرنسی کہا جائے تو بہتر ہے۔ “ڈیجیٹل کرنسی ” انکرپشن (خفیہ کاری) کے ذریعے پیدا ہوتی ہے اور انکرپشن ہی کے ذریعے اس کی مانیٹرنگ بھی کی جاتی ہے۔
ٹرانسیشکن ایک پبلک لیجر(Ledger) میں محفوظ ہوجاتی ہیں جسے ٹرانسیکشن بلاک چین بھی کہتے ہیں۔
نئی اور جدید کرنسی پیدا کرنےوالے اس عمل کو “مائننگ” کہتے ہیں۔ آج پوری دنیا میں انفرادی اور اداروں کی سطح پر ڈیجیٹل کرنسی کا تبادلہ عام ہوچکا ہے۔ کرپٹو کرنسی دراصل صرف بیس سال پرانی ہے۔
بٹ کوائن کی تاریخ
ریسرچ کے مطابق ” بٹ گولڈ ” پہلی ڈیجیٹل کرنسی تھی جو کہ 1997-1998 میں ڈی سینٹر لائزڈ ڈیجیٹل کرنسی کے طور پر سامنے آئی۔ “ساتوشی ناکاموتو ” نامی ایک صاحب / صاحبہ یا گروپ نے اسی ڈیجیٹل کرنسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تفصیلی پیپر شائع کیا اور کچھ ہی دن میں بٹ کوائن سامنے آیا۔
2007 سے بٹ کوائن کو لوگوں نے سنجیدگی سے لینا شروع کردیا۔ آج سب سے زیادہ کامیاب ڈیجیٹل کرنسی یعنی 1 بٹ کوائن 4000 پاﺅنڈ سے زیادہ کا ہے۔ دنیا میں ایک ہزار سے زیادہ کرپٹو کرنسیز ٹریڈنگ کےلئے موجود ہیں۔ اس مارکیٹ کی سرمایہ کاری 100 بلین ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
مغربی دنیا میں رہنے والے دوست یہ بات جانتے ہیں کہ آن لائن شاپنگ کا رجحان پچھلے پانچ سال میں کس قدر بڑھ چکا ہے۔کرپٹو کرنسی اسی طرح استعمال ہوتی ہے جس طرح آپ پے پال (PayPal) یا کریڈٹ کارڈ سے آن لائن شاپنگ کرتے ہیں۔
کچھ بڑی آن لائن کمپنیز نے اب کرپٹو کرنسی قبول کرنا شروع کردی ہے۔ امریکہ کی مشہور ٹریول ویب سائٹ “ایکسپیڈیا” اب بٹ کوائن قبول کرتی ہے ، یعنی آپ اپنی اگلی چھٹیاں بٹ کوائن کے ذریعے بک کرسکتے ہیں۔ ویب سائٹ آپ کی بٹ کوائن ادائیگی کو قبول کرلیتی ہے اور باآسانی اسے ڈالر میں تبدیل کردیتی ہے۔
یہاں یہ بتانا بے حد ضروری ہے کہ بٹ کوائن کا کوئی “مالک یا اونر ” نہیں ہے۔ یہ کرنسی “ریگولیٹڈ ” بھی نہیں ہے۔ یہ کرنسی ایک دوست سے دوسرے دوست تک کسی بینک یا انسٹی ٹیوشن کے عمل دخل کے بغیر منتقل کی جاسکتی ہے ، یعنی باقاعدگی سے کوئی ٹریس نہیں کرسکتا کیونکہ یہ کرنسی ملکوں کے قوانین اور اکنامکس کے کئی اصولوں سے مبرا ہے۔
یہ کرنسی انٹرنیٹ کی طرح ڈی سینٹرلائزڈ ہے یعنی جیسے انٹرنیٹ کا کوئی دیس نہیں ہے اس کرنسی کا بھی کوئی وطن نہیں ہے۔ یہ کرنسی صرف اس لئے آج تک زندہ ہے کیونکہ کروڑوں کمپیوٹر ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔
کیا یہ پیسے چوری ہوسکتے ہیں؟
یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کا جواب ہے، جی ہاں۔ یہ پیسے بھی چوری ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ کے بٹ کوائن والٹ کی اسناد چوری ہوگئی تو سمجھیں بٹ کوائن بھی گئے۔ ” بٹ کوائن والٹ ” ایک بٹوا ہے جس میں آپ اپنے بٹ کوائن محفوظ رکھتے ہیں۔ ہر بٹوے کا ایک ایڈریس ہوتا ہے جو کہ حروف تہجی اور نمبروں (ایلفابیٹس اینڈ نمبرز) کا ایک مجموعہ ہوتا ہے۔ اس بٹوے کو استعمال کرنے کےلئے آپ کے پاس ایک ’کی‘ یعنی چابی ہونا ضروری ہے۔یہ پرائیویٹ ’چابی‘ ایک پاسورڈ ہے جو آپ خود منتخب نہیں کرسکتے۔ آپ کی چابی آپ کے بٹوے کے اڈریس سے ماخوذ ایک خاص ایلگوریتھم (algorithm) ہے جو آپ خود بھی نہیں جان سکتے۔اگر آپ کبھی بٹوے کا ایڈریس بھول بھی گئے تو آپ کی چابی سے آپ کے سارے اگلے پچھلے والٹ یعنی بٹوے کھولے جاسکتے ہیں۔ یوں کہیے آپ بیوی کو بتائے بغیر اَن گنت بٹوے (والٹ ) رکھ سکتے ہیں مگر آپ کی یہ چابی کسی کے ہاتھ لگ گئی تو آپ اپنی ڈیجیٹل کرنسی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
ہر طرح کی سرمایہ کاری میں خطرہ ہوتا ہے مگر کرپٹو کرنسی کا موازنہ اگر روایتی سرمایہ کاری سے کیا جائے جیسے جائیداد اور اسٹاکس تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کرپٹو کرنسی کو زیادہ خطرہ لاحق ہو گا کیونکہ بہت نئی ہے اور فطراً زیادہ رسکی ہے۔ہندوستان اور چائنا کی حکومتوں نے بھی لوگوں کو حال ہی میں برطانیہ کے ایف سی اے سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔یعنی مارکیٹ میں جعلی ڈیجیٹل کرنسی بھی مل رہی ہے اور لوگ باآ سا نی بیوقوف بن رہے ہیں۔
کیا آپ کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنا چاہیے ؟
اس کےلئے آپ کو ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے ملک کے قوانین کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کسی ماہر سے ملنے کی ضرورت ہے جو آپ
کو اس کرنسی میں سرمایہ کاری کے منفی اور مثبت عناصر کے بارے میں صحیح سے سمجھا سکے۔ فی الحال میں نے کل 300 پاو¿نڈ کی سرمایہ کاری کر ر کھی ہے اگر اگلے سال تک یہ پیسے د±گنے ہوگئے تو میں ایک دوست سے لگائی گئی شرط ہار جاو¿ں گا اور آدھے پیسے مجھے اپنے ایک دوست کو د ینا ہوں گے جو شرط جیت جائے گا۔ جعلی کرپٹو کرنسی اور لالچی دوستوں سے ہوشیار رہیے یہی آپ کےلئے بہتر ہے۔
لکھاری حیدر جناح برطانیہ میں ایک بینکر ہیں۔