پاکستانی خواتین کو انٹر پرنیورشپ کیلئے جرمنی کی پیشکش

(خصوصی رپورٹ،پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
جرمنی پاکستانی خواتین کو با اختیار بنانے اور انٹر پرنیورشپ کی طرف راغب کرنے کےلئے بھرپور تعاون فراہم کرئے گا،پاکستان میں متعین جرمن سفیر مارٹن نے کہا ہے کارپوریٹ سیکٹر بزنس اور انڈسٹری میں خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے،راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام ویمن آن کارپوریٹ بورڈ کے حوالے سے منعقدہ سیمینارمیں جرمن سفیرکا مزید کہنا تھا جرمنی نے چھوٹے اور د ر میانے درجے کی صنعت کو فروغ دے کر ترقی حاصل کی ہے جس میں خواتین کا حصہ نمایاں ہے پاکستان میں بھی خواتین کو کاٹیج انڈ سٹر ی میں آگے آنا ہو گا۔پاکستان میں کاروبار میں خواتین کی شرکت بہت محدود ہے ،انہیں مواقع ،معاونت اور اچھا ماحول فراہم کر نے کی ضرورت ہے ،کارپوریٹ سیکٹر میں مختلف بورڈز پر خواتین کا پہنچنا حوصلہ افزا ہے۔اس موقع پر ویمن آن بورڈ کی چیئر پرسن مسز راحت کونین کا کہنا تھا لیڈرشپ رول میں آگے آنے کےلئے محنت اور لگن کی ضرورت ہے بزنس خاص طور پر کارپوریٹ سیکٹر میں آگے آنے کےلئے بروقت فیصلہ سازی، جدت پسندی، معاشی جہتوں پر عبور حاصل کر کے ہی نام کمایا جا سکتا ہے پاکستان میں خو اتین تیزی کےساتھ ہر شعبے میں آگے آ رہی ہیں۔

Advertisements

کرپٹو کرنسی کی لت، علاج کےلئے پہلا طبی مرکز قائم

(تحریر:۔۔۔ندیم سبحان میو)
تصویر کے دو رخوں کے مانند ٹیکنالوجی کی ہر شکل بھی مثبت اور منفی پہلو رکھتی ہے۔ عقلمندی ٹیکنالوجی کا مثبت اور اعتدال میں رہتے ہوئے استعما ل کرنے میں ہے بصورت دیگر نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ اور اس کے مختلف پہلووں سے جسمانی و ذہنی نقصان اٹھا نے والے افراد کی بحالی پر دنیا بھر میں توجہ دی جارہی ہے۔
انٹرنیٹ کی لت کئی قسم کی ہوتی ہے۔ بعض نوجوان آن لائن گیم کھیلنے کے جنون میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ دن رات کمپیوٹر اسکرین پر نظریں جما ئے گیم کھیلنے میں مصروف ہوتے ہیں اور بالآخر بیمار ہوجاتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے بہت سے شائقین آن لائن جوا کھیلتے ہیں، ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا کی لت کا شکار ہے، جو دن اور رات کا بیشتر وقت سمارٹ فون یا کمپیوٹر کے ذریعے فیس بک ، ٹویٹر وغیرہ پر صرف کرتی ہے۔
انٹرنیٹ کے جنونیوں میں اب ایک اور کیٹیگری کا اضافہ ہوگیا ہے اور یہ ہے ورچوئل کرنسی یعنی کرپٹوکرنسی کے کاروبار سے وابستہ افراد۔ یہ لوگ آن لائن رہتے ہوئے کرپٹوکرنسی کی خریدوفروخت میں مصروف رہتے ہیں، ان کی شرح تبادلہ پر نظر رکھتے ہیں، ان کا دماغ ہر لمحے اسی ا±دھیڑ ب±ن میں لگا رہتا ہے، اور نگاہیں سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ پر جمی رہتی ہیں۔ یہ عادت بہ تدریج جنون میں بدل جاتی ہے۔ پھر انھیں اپنے اردگرد کا ہوش نہیں رہتا اور تمام تر توجہ کا مرکز صرف ورچوئل کرنسی ہوتی ہے۔ کھانے پینے اور دیگر معمولات زندگی سے غافل ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ بالآخر ذہنی و جسمانی صحت کے نقصان کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔
چین اور کئی دوسرے ممالک میں نوجوانوں سے انٹرنیٹ کی لت چھڑانے کےلئے باقاعدہ بحالی کیمپ وجود میں آچکے ہیں۔ یہاں آن لائن گیمنگ، سوشل میڈیا کے جنونیوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ اب اسکاٹ لینڈ میں کرپٹوکرنسی کے کاروبار کی لت کا شکار افراد کی بحالی کا مرکز قائم کردیا گیا ہے۔ اپنے طرز کا دنیا بھر میں یہ پہلامرکز ہے۔
پیبل شائر کے علاقے میں واقع کیسل کریگ ہاسپٹل میں قائم کردہ اس مرکز میں مریضوں کے علاج کےلئے وہی طریقے اختیار کیے جارہے ہیں جو جوے کی لت میں مبتلا افراد کے علاج کےلئے اپنائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق کرپٹوکرنسیوں جیسے بٹ کوا ئن کا لین دین انسانی رویے میں شدت پسندی، جنون اور وہی علامات پیدا کردیتا ہے جو جواریوں میں نظر آتی ہیں۔ کرپٹوکرنسی کے کاروبار سے منسلک افراد ہر لمحہ ان کرنسیوں کے اتار چڑھاو¿ پر نظر رکھنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں۔
ہسپتال میں جواریوں کے معالج کرس برن کے مطابق کرپٹوکرنسی کے کاروبار سے منسلک ہائی رسک، ہر پل کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاو¿ لوگوں کو کشش کرتا ہے۔ اس کاروبار سے جڑی سنسنی خیزی اور حقیقت سے فرار میں انھیں خاص کشش محسوس ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر حالیہ دنوں میں بٹ کوائن کی قیمتیں زمین سے آسمان پر پہنچ گئی تھیں۔ ایک بٹ کوائن کی قدر اٹھارہ انیس ہزار ڈالر تک چلی گئی تھی لیکن اب یہ قدرے منہ کے بل آگری ہے۔ اس عرصے کے دوران لوگوں نے بے انتہا نفع کمایا اور بے انتہا ہی نقصان بھی برداشت کیا۔ یہ کلاسیک ببل سچویشن ہے۔
کرپٹو کرنسی کے ’ متاثرین‘ کی صحیح تعداد ہنوز نامعلوم ہے، کیونکہ اس ضمن میں اب تک کوئی تحقیق یا سروے نہیں کیا گیا۔ البتہ ایک اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں ورچوئل کرنسی کے کاروبار سے جڑے افراد کی تعداد ایک کروڑ تیس لاکھ ہے۔ اگر ان افراد پر اس کاروبار کے وہی اثرات پڑ رہے ہیں جو کہ جوا کھیلنے والوں پر ہوتا ہے تو پھر یقیناً یہ تشویشناک بات ہوگی۔
گزشتہ برس اگست میں برٹش گیمبلنگ ایسوسی ایشن نے انکشاف کیا تھا 2012ءسے 2015ءکے دوران جوے کی لت کے باعث برباد ہونےوالے لوگوں کی تعداد 280000 سے بڑھ کر 430000 تک پہنچ چکی تھی۔ یعنی صرف تین سال کے دوران جوے کی لت کے ہاتھو ں زندگی تباہ کرنےوالے لوگوں کی تعداد میں 53 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا۔ اگر چند برسوں کے بعد کرپٹو کرنسی سے متعلق بھی اسی طرح کے اعدادوشمار سامنے آتے ہیں تو پھریقیناً ان لوگوں کی بحالی کےلئے عالمی پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت درپیش ہوگی۔

 

پاکستان, آن لائن ٹریڈرز میں کئی گنا اضافہ

پی او ٹی (خصوصی رپورٹ)امسال اب تک 2018ءمیں دنیا میں ریٹیل فروخت کا 10 فیصد حصہ انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری پر مشتمل ہے۔یہ بات مارکیٹ ریسرچر کمپنی پرائس وا ٹر ہاﺅس” کوپر“ کے ’گلوبل کنزیومر انسائٹ سروے‘ برائےسال 2018 میں سامنے آئی ہے ،جس میں بتایا گیاہے کمپنی کی جا نب سے لگائے گئے تخمینے کے مطابق 2017 میں دنیا بھرمیں ای-کامرس(آن لائن ٹریڈ) کے ذریعے ہونےوالی فروخت 23 کھرب ار ب ڈالر ریکارڈ کی گئی جو 2016 کے مقابلے میں 24.8 فیصد زائد تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستان میں امسال جنوری تا مارچ گھر و ں سے کی جانےوالی آن لائن خریداری 4.4 ارب روپے رہی، اس بڑھتے ہوئے رجحان کی تصدیق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے بھی ہوئی ہے۔جس کے مطابق مالی سال 2018 کی دوسرے سہہ ماہی کے دوران آن لائن فروخت کنندگان کی تعداد 905 تھی جو تیسری سہہ ماہی میں اضافے کے بعد 1 ہزار 23 ہوگئی، مرکزی بینک کا کہنا ہے آمدنی میں اضافہ، مواصلاتی رابطوں کی بہتری، انٹرنیٹ تک رسائی اور آن لائن بینکنگ، پاکستان میں آن لائن ٹریڈ( ای-کامرس )صارفین کی تعداد میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے اطلاعات و مواصلات کی جانب سے اس ضمن میں لگائے گئے تخمینے کے مطابق انٹرنیٹ استعمال کرنےوالے 4 کروڑ 46 لاکھ فعال صارفین میں سے انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری کرنےوالوں کی تعداد 22 فیصد ہے، جو 4 سال قبل محض 2 فیصد تھی۔
مارکیٹنگ کنسلٹینسی فرم کیپاﺅس (Kepios) کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں اسوقت سوشل میڈیا استعمال کرنےوالے فعال افراد کی تعداد تقریباً ساڑھے 3 کروڑ اور انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری میں اضافے کے رجحان کا ایک بہت بڑا سبب سوشل میڈیا بھی ہے۔
دوسری جانب آن لائن ٹریڈرز ادارے بڑی کامیابی سے سوشل میڈیا کے استعمال سے فائدہ اٹھارہے ہیں جس میں کپڑوں کے برانڈ مثلاً ثنا سفیناز، کھاڈی وغیرہ سے لے کر آن لائن مارکیٹس جیسا کے دراز ڈاٹ پی کے، او ایل ایکس سمیت دیگر فروخت کنندگان کی ایک طویل فہر ست ہے۔اس سلسلے میں پاکستان میں صرف گزشتہ برس ہی بلیک فرائی ڈے نامی سیل میں آن لائن فروخت کے ادارے دراز نے فروخت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے 3 ارب روپے سے زائد کا کاروبار کیا۔
آن لائن ٹریڈ کے حوالے سے کی گئی ریسرچ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ’ انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری کرنےوالوں کے اعتماد میں قابل اطمینان اضافہ ہوا ہے جس کے باعث اب وہ کئی طرح کی مصنوعات آن لائن خریدتے ہیں۔آن لائن ٹریدرز(ای کامرس) کے سلسلے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جامع (آن لائن ٹریڈرز) ای کامرس پالیسی مرتب کی جائے جس کے ذریعے ادائیگی کے طریقہ کار کو آسان کیا جاسکے اور اس قسم کے کاروباری سیکٹر کے میں ہم آہنگ قواعد نافذ ہوسکیں۔

 

کرپٹو کرنسیوں کے استعمال سے انٹرنیٹ کو خطرہ

پاکستان آن لائن ٹریڈرز (خصوصی رپورٹ ) عالمی سیٹلمنٹ بینک نے متنبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسیز بشمول بٹ کوائن، کی نمو کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو انٹرنیٹ پر اس کا حد سے زیادہ غلبہ ہو جائے گا۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مرکزی بینکوں کے مرکزی مالیاتی ادارے بی آئی ا یس نے اپنی ویب سائٹ پر 24 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی ہے جس میں خبردار کیا گیاہے کہ کرپٹو کرنسی اس طرح قابلِ اعتبار نہیں جس طرح مروجہ کرنسی ہے۔اس کے علاوہ روایتی کرنسی اور ڈیجیٹل کرنسی میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ اس کی تعداد 2 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز نہیں کرسکتی، اور فی الحال ایک کروڑ 70 لاکھ بٹ کوائن مارکیٹ میں گردش کررہے ہیں۔
بی آئی ایس کی رپورٹ میں اس حوالے سے کہا گیاہے کہ اگر فرض کرلیا جائے کسی ملک کی مکمل آبادی ڈیجیٹل کرنسی جیسا کہ بٹ کوائن کا ا ستعما ل کرنے لگ جائے، تو چند دنوں میں ہی روایتی اسمارٹ فون سے استعمال ہونےوالے کھاتے گنجائش سے کہیں زیادہ بھر جائیں گے، جبکہ ایک عام ذاتی کمپیوٹر کے کھاتے کی گنجائش ختم ہونے میں ایک ہفتہ اور کسی انٹرنیٹ سرور کی گنجائش ختم ہونے میں مہینے لگیں گے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ گنجائش کی صلاحیت سے بڑھ کر پروسیسنگ کی صلاحیت کا ہے اور صرف سپر کمپیوٹر کے ذریعے ہی آنےوالی ٹرانزیکشن کی توثیق کی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ اس سے منسلک مواصلاتی رابطوں کے حجم کے باعث انٹرنیٹ رک سکتا ہے، بی آئی ایس کا کہنا ہے ا س کرنسی پر مکمل اعتماد کرنا مشکل ہے جبکہ اس سے قبل بی آئی ایس نے کرنسی میں دھوکہ دہی کے خطرے سے بھی خبردار کیا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ مروجہ ادائیگی کے نظام میں جب کسی فرد کی جانب سے ادائیگی کی جاتی ہے تو قومی ادائیگی کے نظام سے ہوتا ہوا یہ مرکزی بینک سے جا ملتا ہے، جسے منسوخ کیا جانا ممکن نہیں، جبکہ اس کے برعکس بغیر اجازت رائج کرپٹو کرنسی انفرادی ادائیگی کی ضمانت نہیں دیتی۔اس کےساتھ بی آئی ایس نے اس قسم کی کرنسی مثلاً بٹ کوائن کی غیر مستحکم مالیت کی بھی نشاندہی کی، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی کرنسی کے اجرا اور اس کو مستحکم رکھنے کےلئے کوئی مرکزی ادارہ موجود نہیں۔
بی آئی ایس کی رپورٹ میں کرپٹو کرنسیز کے استعمال پر خاص طور پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمایہ فراہم کرنے کے حوالے سے طویل مدتی ریگولیٹری کے قیام پر زور دیا گیا۔رپورٹ میں ’سلک روڈ‘ نامی بلیک مارکیٹ میں منشیات کی خرید و فرخت کےلئے خریداروں کی معلو مات خفیہ رکھتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال کی بھی نشاندہی کی، واضح رہے سلک روڈ نامی مارکیٹ ’ڈارک ویب‘ کے تحت کام کررہی تھی اور امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے اسے 2013 میں بند کردیا گیا تھا۔

 

موبائل سے تصاویر بنا کر کمانے کا طریقہ

(خصوصی رپورٹ،پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
آپ لازمی طور اپنے موبائل فون کو انتہائی قیمتی خیال کرتے ہونگے لیکن سچ یہ ہے کہ یہ آپ کی سوچ سے بھی کہیں بڑھ کر قیمتی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اسے استعمال کرکے گھر بیٹھے لاکھوں روپے کمائے جا سکتے ہیں۔ یہ کوئی جادو کا چکر نہیں بلکہ ایسا کام ہے جو اس وقت ہزاروں لوگ گھر بیٹھے یا چلتے پھرتے کر رہے ہیں۔ موبائل سے کمانے کےلئے یہ لوگ ”اسٹاک کیمو“ نامی ایپ ا ستعما ل کرتے ہیں جس کے ذریعے تصاویر آلمے کی سٹاک امیج ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ یہ تصاویر آن لائن فروخت کی جاتی ہیں یا اشتہا ر ا ت میں استعمال کی جاتی ہیں ۔ تصویر کے معیار اور اس میں دلچسپی کے عنصر کی بناءپراس کی قیمت کا تعین ہوتا ہے ، آ پ کے پاس بھی اگر آئی فو ن موجود ہے تو ضرور یہ ایپ ڈاﺅن لوڈ کریں اور اپنی بنائی تصاویر سے رقم کمائیں ، لوگ تو اپنے پالتو جانوروں، پھولوں، عما رتوں اور کھیتو ں کھلیانوں کی تصاویر سے بھی رقم کما رہے ہیں، یاد رہے یہ ایپ اینڈرائڈ صارفین کےلئے تاحال فراہم نہیں کی گئی۔

مصر کے مفتی اعظم کا بِٹ کوائن کے استعمال کےخلاف فتویٰ

(خصوصی رپورٹ پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
مصر کے مفتی اعظم شوقی ابراہیم عبدالکریم نے رقوم کی منتقلی کےلئے ڈیجیٹل اور ورچوئل کرنسی بٹ کوائن کے استعمال کےخلاف فتویٰ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے مسلمانوں کو خرید و فروخت کےلئے بِٹ کوائن کے استعمال کی اجازت نہیں،کیونکہ ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال سے فراڈ اور دھوکہ دہی کا خطرہ ہے اور اس کے تیزی سے اتار چڑھاو سے افراد اور اقوام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔مفتی اعظم کے مطابق انھوں نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے معاشی ماہرین سے بھی مدد لی تھی۔
بِٹ کوئن کے متعلق معلومات
یہ عام کرنسی کامتبادل ہے جو اکثر آن لائن استعمال ہوتا ہے۔ اس کی اشاعت نہیں ہوتی اور یہ بینکوں میں نہیں چلتا۔روزانہ 3600 بِٹ کوائن تیار ہوتے ہیں اور ابھی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ بِٹ کوائن استعمال میں ہیں۔بِٹ کوائن کو کرنسی کی ایک نئی قسم کہا جاتا ہے۔ اگرچہ دیگر کرنسیوں کی طرح اس کی قدر کا تعین بھی اسی طریقے سے ہوتا ہے کہ لوگ اسے کتنا استعمال کرتے ہیں۔بِٹ کوائن کی منتقلی کے عمل کےلئے ‘مِننگ’ کا استعمال ہوتا ہے جس میں کمپیوٹر ایک مشکل حسابی طریقہ کار سے گزرتا ہے اور 64 ڈیجٹس کے ذریعے مسئلے کا حل نکالتا ہے۔ڈیٹا ٹریک تحقیق کے نک کولاز نے کہا کہ بِٹ کوائن کے مستقبل میں ایکسچینج میں شامل کیے جانے نے اسے جواز بخشا ہے کہ یہ ملکیت ہے جس کی آپ تجارت کر سکتے ہیں۔

بٹ کوائن کی مدد سے کالے دھن کو سفید کرنے کا کاروبار

(خصوصی رپورٹ)
یورپی ممالک کی مشترکہ پولیس یوروپول کے مطابق یورپ میں تین سے چار ارب پاو¿نڈز کے کالے دھن کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے سفید کیا جا رہا ہے۔یوروپول ایجنسی کے ڈائریکٹر راب رین رائٹ کاکہنا ہے اس مسئلے کے حل کےلئے اس صنعت کی قیادت اور حکومتی تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔کرپٹو کرنسی کے بارے میں یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بٹ کوائن کی قدر جو دسمبر میں ریکارڈ توڑ سطح پر پہنچ چکی تھی، اب گر کر نصف سے بھی کم ہو گئی ہے۔راب رین رائٹ نے کہا کہ یورپول اور دیگر اداروں کے مطابق کالے دھن سے حاصل کیے گئے 100 ارب پاو¿نڈز میں سے تین سے چار فیصد رقم کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے سفید کیا جاتا ہے۔یہ عمل تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور ہم اس کی وجہ سے ان کا ادارہ کافی پریشان ہے۔کریپٹو کرنسیوں کے حوالے سے قانون سازی کم ہونے کی وجہ سے کئی جرائم پیشہ عناصر نے کرپٹوکرنسی کو اپنا لیا ہے اور پولیس کو ان عناصر کو پکڑنے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے۔راب رین رائٹ کاکہنا ہے کیونکہ رقوم کا تبادلہ اور ترسیل غیر سرکاری ذرائع سے ہو رہی ہے اسلئے اس کا پتہ لگانا زیادہ مشکل ہے، حتیٰ کہ اگر ہم ان کی شناخت کر بھی لیں اس رقم یا ان کے اثاثوں کو حا صل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ روایتی بینکنگ کے سسٹم میں شامل نہیں ہے۔
’رقم کے خچر‘
یوروپول نے ایک اور طریقہ دریافت کیا ہے جس کی مدد سے جرائم پیشہ عناصر کالے دھن کو سفید کرتے ہیں۔اس طریقے کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر جرائم کی مدد سے حاصل کی گئی رقم کو بٹ کوائن میں تبدیل کر دیتے ہیں۔اس رقم کو وہ مزید چھوٹے حصوں میں تبدیل کر کے کئی ایسے لوگوں کو فراہم کر دیتے ہیں جن کے ان عناصر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بٹ کوائن کو بعد میں روایتی کرنسی میں تبدیل کر دیتے ہیں اور اسے جرائم پیشہ عناصر کو واپس کر دیتے ہیں۔ان لوگوں کو ’رقم کا خچر‘ کہا جاتا ہے۔راب رین رائٹ نے کہا اس طریقے کو استعمال کرنے کی وجہ سے انھیں لوگوں کی شناخت کرنے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے۔انھوں نے بٹ کوائن چلانے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کےساتھ کام کریں۔ان کمپنیوں کو ذمہ داری لینی ہوگی اور ہمارا ساتھ دینا ہوگا جب ہم بڑے پیمانے پر کی جانے والے جرائم کی تفتیش کر رہے ہوں گے۔دوسری جانب برطانوی پولیس نے تو پینوراما کے سوالات کا جواب نہیں دیا لیکن برطانوی پارلیمان اس حوالے سے نئے قوانین بنانے کےلئے کوشاں ہے۔پارلیمان کی ٹریژری کمیٹی قانون سازی کےلئے کرپٹو کرنسی کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ وہ تجارت کاروں پر لازم کریں کہ وہ کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمیوں کی معلومات فراہم کریں اور ممکن ہے کہ یہ قانون اس سال کے آخر تک لاگو ہو جائے۔

بل گیٹس کی نظر میںکرپٹو کرنسی خطرناک، موت کا سبب

(خصوصی رپورٹ )
ٹیکنالوجی اور سافٹ وئیر بنانے والی کمپنی مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا شمار بھی ان بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی کے منتظمین میں شامل ہو گیا ہے جو کرپٹو کرنسی کی مخالفت کرتے ہیں۔انٹرنیٹ کی ویب سائٹ ریڈ اِٹ سے بات کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہاکرپٹو کرنسی خطرناک ہے اور موت کا سبب بنتی ہے۔ بل گیٹس کے مطابق کرپٹو کرنسی کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکام ان کی نگرانی نہیں کر سکتے اور انھوں نے اپنے خدشے اظہار کیا کہ اس کرنسی کے استعمال سے معاشرے میں منفی اثرات سامنے آئیں گے۔حکومتوں کی صلاحیت جس کی مدد سے وہ کالے دھن کو سفید کرنے والی رقم، ٹیکس چوری اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی نگرانی کرتے ہیں معاشرے کےلئے اچھی بات ہے۔کرپٹو کرنسی کی خاص بات ہے کہ انھیں نامعلوم طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ اچھی بات نہیں ۔ لوگ اس کی مدد سے جان لیوا منشیات خریدتے ہیں جس سے لوگوں کی براہ راست موت واقع ہوتی ہے۔ انہوں نے کرپٹو کرنسی کے علاوہ دیگر ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ اس کے بھی انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

کوئی بھی کریپٹو کرنسی قانونی نہیں

(خصوصی رپورٹ)
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کے تمام بینکوں کو تنبیہ کی ہے کہ بٹ کوائن، لائٹ کوائن، اور پاک کوائن سمیت تمام ورچوئل کرنسیوں کی مدد سے ہونےوالے کسی بھی لین دین کو مشکوک قرار دے کر سٹیٹ بینک کو مطلع کریں۔اپنے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن میں سٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی ورچوئل کرنسی پاکستان میں قانونی طور پر رقم کی حیثیت نہیں رکھتی اور اس کی خرید و فروخت یا ان کے لین دین کےلئے کو ئی بھی شخص یا ادارہ ملک میں لائسنس نہیں رکھتا۔ملک میں قائم تمام بینکوں کو یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے صارفین کو کوئی خد مات فراہم نہ کریں بلکہ اگر انھیں معلوم ہو کہ کوئی شخص ورچوئل کرنسی کا لین دین کر رہا ہے تو اسے مشکوک قرار دے کر سٹیٹ بینک کو اطلاع د یں ۔
یوں تو دنیا بھر میں مختلف نوعیت کی کرپٹو کرنسیاں استعمال ہوتی ہیں لیکن ان میں سب سے معروف بٹ کوائن ہے۔ ان کرپٹو کرنسیوں کا مقصد روایتی کرنسی جیسے ڈالر، یورو اور پاو¿نڈ کا نعم البدل ہونا ہے،لیکن روایتی کرنسی کے برعکس کرپٹو کرنسی کو حکومت یا بینک جاری نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی نگرانی کرتے ہیں۔بلکہ یہ کرنسیاں کمپیوٹر پر ریاضی کے پیچیدہ فارمولوں کی مدد سے بنائی جاتی ہے اور اس عمل کو ‘مائننگ’ کہا جاتا ہے۔اس عمل کے ذریعے بنائی گئی رقم کی نگرانی دنیا بھر میں قائم کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے کی جاتی ہے اور اس میں رقم حاصل کرنےوا لے شخص کو ان کی اصل شناخت کے بجائے کمپیوٹر پر دیے گئے ورچوئل پتے کے ذریعے پہچانا جاتا ہِے۔کریپٹو کرنسیوں کے حوالے سے قانون سازی کم ہونے کی وجہ سے کئی جرائم پیشہ عناصر نے کرپٹوکرنسی کو اپنا لیا ہے اور پولیس کو ان عناصر کو پکڑنے میں کافی دشواری پیش آر ہی ہے۔گزشتہ سال بٹ کوائن کی قیمت کا شدید اتار چڑھاو¿ جاری رہا اور اس کی قیمت 19000 ڈالر سے بھی زیادہ ہوگئی تھی تاہم اب وہ اس سے کافی کم سطح پر پہنچ چکی ہے۔

پاکستان میں ورچوئل کرنسی غیر قانونی قرار

(پاکستان آن لائن ٹریڈرز رپورٹ)
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ورچوئل کرنسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے ایسی ورچوئل کرنسیوں کے اجرا، فروخت، خریداری اور تبا دلے کی اجازت نہیں دی۔سٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ بٹ کوائن، لائٹ کوائن، ون کوائن اور ڈاس کوائن کی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔کراچی میں کسی بھی ورچوئل کرنسی کی بطور لیگل ٹینڈر کوئی حیثیت نہیں ہے، پاکستان میں کسی شخص یا ادارے کو ایسی ورچوئل کرنسیوں کے اجرا، فروخت، خریداری اور تبادلے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔