مصر کے مفتی اعظم کا بِٹ کوائن کے استعمال کےخلاف فتویٰ

(خصوصی رپورٹ پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
مصر کے مفتی اعظم شوقی ابراہیم عبدالکریم نے رقوم کی منتقلی کےلئے ڈیجیٹل اور ورچوئل کرنسی بٹ کوائن کے استعمال کےخلاف فتویٰ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے مسلمانوں کو خرید و فروخت کےلئے بِٹ کوائن کے استعمال کی اجازت نہیں،کیونکہ ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال سے فراڈ اور دھوکہ دہی کا خطرہ ہے اور اس کے تیزی سے اتار چڑھاو سے افراد اور اقوام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔مفتی اعظم کے مطابق انھوں نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے معاشی ماہرین سے بھی مدد لی تھی۔
بِٹ کوئن کے متعلق معلومات
یہ عام کرنسی کامتبادل ہے جو اکثر آن لائن استعمال ہوتا ہے۔ اس کی اشاعت نہیں ہوتی اور یہ بینکوں میں نہیں چلتا۔روزانہ 3600 بِٹ کوائن تیار ہوتے ہیں اور ابھی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ بِٹ کوائن استعمال میں ہیں۔بِٹ کوائن کو کرنسی کی ایک نئی قسم کہا جاتا ہے۔ اگرچہ دیگر کرنسیوں کی طرح اس کی قدر کا تعین بھی اسی طریقے سے ہوتا ہے کہ لوگ اسے کتنا استعمال کرتے ہیں۔بِٹ کوائن کی منتقلی کے عمل کےلئے ‘مِننگ’ کا استعمال ہوتا ہے جس میں کمپیوٹر ایک مشکل حسابی طریقہ کار سے گزرتا ہے اور 64 ڈیجٹس کے ذریعے مسئلے کا حل نکالتا ہے۔ڈیٹا ٹریک تحقیق کے نک کولاز نے کہا کہ بِٹ کوائن کے مستقبل میں ایکسچینج میں شامل کیے جانے نے اسے جواز بخشا ہے کہ یہ ملکیت ہے جس کی آپ تجارت کر سکتے ہیں۔

Advertisements

بِٹ کوائن کرنسی،پاکستان کے مالیاتی مسائل کا حل؟

(تحریر:۔۔۔محمد منیر طاہر،ڈنمارک)
سترہویں صدی میں جب بارٹر سسٹم ختم ہوا اور بینک نوٹس کا آغاز ہوا تو لوگ ایک بڑے عرصے تک ا±سے قبول نہ کرسکے حالانکہ نوٹ کی رقم کے پیچھے ا±سکی حقیقی مالیت چاندی کی صورت میں موجود تھی، بہرحال یہ نوٹ بیسویں صدی تک چلتے رہے۔ لیکن آج استعمال ہونےوا لے نوٹ کی حقیقی قیمت موجود نہیں اس نوٹ کی حقیقی قدر صرف وہ اعتماد ہے جو ہم مالیاتی اداروں پر کرتے ہیں۔ لیکن یہ اعتماد بھی اسوقت پارہ پار ہ ہوگیا جب 2008ءمیں عالمی مالیاتی بحران آیا، حکومتیں اور بینک مالی و معاشی مسائل میں مبتلا ہوگئے۔ خصوصاً امریکی و یورپی حکومتوں نے دھڑا دھڑ نوٹ چھاپے تاکہ بحران میں پھنسے مالیاتی اداروں کو سہارا دے سکیں۔ جس کے نتیجے میں کئی بینک اور ہزار ہا کاروباری ادارے د یو ا لیہ ہوئے۔یوں بینکوں پر سے عوام کا اعتماد جاتا رہا اور تجارت کی دنیا میں خلا آگیا جس نے اکیسویں صدی کی کرنسی کی ایک ایسی جہت سے رو شناس کروایا جس کا تصورآج سے پہلے موجود نہیں تھا، اس کا نام کرپٹو کرنسی ہے جوکہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اور مالیاتی ادارے اور حکومتیں اس کے پیچھے کھڑی ہونے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں لیکن مجھے اس امر میں کوئی شک نظرنہیں آتاکہ آئندہ دور ڈیجیٹل ایج ہے اور با قی ہرچیز کی طرح کرنسی بھی ڈیجیٹل ہی چلے گی، اگر پاکستان جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرکاری سطح پر اس کے آغاز کےلئے اقدامات کرسکے تو عالمی معیشت کو اپنی مٹھی میں کرسکتا ہے۔
تذبذب کا شکار لوگ پانامہ اور سوئٹزرلینڈ کی مثالیں سامنے رکھتے ہوئے سوچیں کیسے ان ممالک نے غیر قانونی پیسے کو قانونی شکل دے کر دنیا بھر سے کرپٹ لوگوں کا پیسہ اپنے بینکوں میں جمع کیا اوراس وقت دنیا کی مضبوط ترین معیشت بن چکے ہیں۔ پاکستان کےلئے اس میں یوں بھی کشش ہے کہ بِٹ کوائن کا نااہل سیاست دانوں اور لالچی بینک کاروں سے کوئی تعلق نہیں جن کے باعث ہمارا ملک اور ہماری معیشت زوا ل پذیر ہے۔ مزید یہ کہ اس کی بدولت نہ صرف فراڈ سے بچاو ملے گا بلکہ افراط زر بھی جنم نہیں لے گا کیونکہ یہ ڈیجیٹل کرنسی معین وقت ہی میں جنم لیتی ہے اور اس کی تعداد بھی مقرر ہے۔
بِٹ کوائن دراصل ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔ اسے سمجھنے کےلئے آپ کو ٹیکنالوجی کے ایک بالکل نئے رخ کو اپنے ذہن میں اتارنا پڑتا ہے۔ مگر بنیا د ی طور پر کرپٹو کرنسیاں مکمل طور پر روایتی پیسے سے مختلف نہیں ہیں۔ فی الوقت یہ مکمل آزاد کرنسی ہے، جو کمپیوٹر کی مدد سے بنتی ہے۔ یہ کرنسی حسا بی عمل لوگرتھم کی بنیاد پر کام کرتی ہے، جو کہ کرپٹولوجی اور کرپٹو گرافیکل تکنیک سے تیار کی جاتی ہے اسلئے اس میں فراڈ اور جعلسازی کی گنجا ئش ہی موجود نہیں۔ جس کےلئے کمپیوٹر کو انٹر نیٹ سے منسلک کر کے، کمپیوٹر کے پروسیسر سے کام لیا جاتا ہے۔ جس کمپیوٹر کا پروسیسر جتنا طاقتور ہو تا ہے، اتنی جلد وہ حسابی عمل لوگرتھم کا سوال حل کرکے بِٹ کوائن بناتا ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہ 2009ءمیں متعارف ہوئی اور فروری 2011ءمیں ایک بِٹ کوائن کی مالیت ایک امریکی ڈالر کے برابر پہنچ گئی۔ پھر اس ابھرتی ڈیجیٹل کرنسی نے مڑکر نہ دیکھا اور چھلانگیں مارتی ترقی کرنے لگی۔ اوآخر2013ءتک اس کی قدروقیمت اتنی بڑھ گئی کہ یہ ممکن ہوگیا کہ صرف ایک بِٹ کوائن (برابر 1151ڈالر) سے 25گرام سونا خریدنا جاسکے۔
دسمبر 2013ءتک بِٹ کوائن کی تعداد دس ہزار تھی اورانکی مالیت پاکستانی کرنسی کے حساب سے ایک ارب پچاس کروڑ روپے تک جاپہنچی۔ بِٹ کوائن کی مقبولیت میں باقاعدہ اضافہ اس وقت ہوا جب دکان دار وتاجر اسے بطور کرنسی قبول کرنے لگے۔ اور یہ تھوڑے ہی عرصے میں مقبولیت کی انتہاءکو پہنچ چکی ہے آج ایک بِٹ کوائن کی قیمت 19 لاکھ پاکستانی روپوں سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ فی الوقت تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ 78 ہزار بِٹ کوائن گردش میں ہیں اور ان کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر محدود اضافہ ہو رہا ہے۔
دسمبر 2017 میں کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن (زیرِ گردش کرنسی ضرب قدر) 600 ارب ڈالر تھی اورماہرین کے نزدیک یہ ایک کھر ب ڈالر تک پہنچے گی۔ بِٹ کوائن کا حسابی ادارہ فی الوقت بلوک چین (block chain) ہے جو کہ ایک نئی طرح کا انٹرنیٹ ہے جس میں ڈیجیٹل معلومات ہر ایک دیکھ سکتا ہے مگر اسے کاپی نہیں کر سکتا۔ ہر دس منٹ میں ہونےوالی لین دین (transaction) کا ریکارڈ چیک کر کے محفوظ کر دیا جاتا ہے جسے بلوک کہتے ہیں۔ سارا ڈیٹا نیٹ ورک پر ہوتا ہے اس لیے ہر ایک اسے دیکھ سکتا ہے۔
حال ہی میں امریکی فیڈرل ریزرو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کریں گے۔ چین نے شروع میں بِٹ کوائن کو فروغ دیا مگر پھر ایکسچینج کے ذریعے کوائن حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی جس سے کرپٹو کرنسی ایکسچینج میں ہلچل مچ گئی۔ پیپلز بینک آف چائنا نے دسمبر کے اختتام پر اعلان کیا کہ اس نے بھی اپنی خودمختار کرپٹو کرنسی ڈیزائن کرنے کےلئے ٹیم تشکیل دےدی ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں حکومتیں اور کارپور یشنز اپنی اپنی ڈیجیٹل کرنسیاں لانچ کرنا چاہتی ہیں اور اس میں شک نہیں کہ برقی پیسہ ایک بالکل نیا روپ لے گا۔ اگرچہ حکومتِ پاکستان نے بھی بِٹ کوائن کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا باضابطہ موقف یہ ہے کہ وہ مستقبل میں بِٹ کوائنز یا کرپٹو کرنسیوں کو قانونی قرار دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ مگر اس کی وجہ سے پاکستان میں زیرِ زمین ایکسچینج کے پھلنے پھولنے پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ آ پ اب بھی فیس بک، واٹس ایپ، ویب سائٹس اور دیگر ذرائع سے بِٹ کوائنز کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔
بِٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں اس وقت تک کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں، یہ عالمی طاقتوں کی پابندیوں اور ورلڈ بینک کی اجا ر ہ داری سے عاجز، پاکستان جیسے ممالک کےلئے ایک نعمت سے کم نہیں کیونکہ یہ عالمی ساہوکاروں کی گرفت سے آزاد ہے۔ فی الوقت روایتی کر نسیوں کے برعکس کوئی بھی حکومت یا مرکزی بینک کرپٹو کرنسیاں جاری نہیں کرتا لیکن یہ صورتحال شاید زیادہ دیر نہیں رہے گی، پاکستان کے پا س اس کی ملکیت کا پہلا ملک بننے کا چانس موجود ہے وگرنہ جلد کوئی نہ کوئی ملک اسے اپنا کے یہ طاقت اپنے ہاتھ میں کرلے گا۔ اگرچہ جاپان کو اس حوالے سے استثناءحاصل ہے کیونکہ وہاں بِٹ کوائن قانونی ہے لیکن ابھی تک حکومت نے اس کو اپنایا نہیں اور ریگولیٹرز اور حکومتیں اسے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور اس کو پہلے اپنانے والا ملک یا ادارہ بادشاہ گر بن سکتا ہے۔ پاکستان اسکو اپنا کر اگر ایشین بلاک کو ساتھ ملا لے تو کم از کم ایشین بلاک میں مغربی کرنسیوں کی اجارہ داری ختم کرنا ممکن ہوسکتا ہے اور بعد ازاں یہی ایشین کرنسی بلاک عالمی لیول پر ایک نئی معاشی طاقت بن کر ابھر سکتا ہے۔
۔۔(بشکریہ، روزنامہ پاکستان)۔۔

بٹ کوائن اور ارتقائے پیسہ، قطعاتی زنجیر اور حصول پیسہ

(ممتاز صدیقی) حصہ دوم
ڈیجیٹل اثاثوں کی موجودگی اور برقی تجارت کے عالمگیر فروغ نے ہمیں پیسے کو بھی ڈیجیٹل اثاثہ بنانے کی طرف راغب کر دیا ہے۔ یعنی اب وقت آ گیا ہے کہ پیسہ ایک نئی شکل کےساتھ ایک نئے دور میں داخل ہوجائے۔ اگر تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ پیسے کے ارتقائی مراحل میں ڈیجیٹل پیسہ انسان کی تدریجی ترقی میں ایک قدرتی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، تاہم ضروری ہے کہ ڈیجیٹل شکل میں بھی پیسے کا مواہداتی و ثالثی والا کردار برقرار رہے۔ یعنی باہمی لین دین میں فریقین کا پیسے پراعتماد بھی قائم رہے اور دورانِ ادائیگی اصل رقم میں تغیر و تبد ل بھی رونما نہ ہو۔ اسی طرح جمع و ترسیل آسان اور بین الاقوامی سطع پر پیسہ اپنی چھوٹی بڑی اکائیوں کےساتھ قابلِ قبول ہو۔تاہم یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ ڈیجیٹل اثاثوں میں پیسے کیلئے ناگزیر دو بینادی خصوصیات مفقود ہیں۔ یعنی نہ تو اثاثے کی آزادانہ تصدیق ممکن ہے اور نہ ہی ان کی تعداد میں ہونےوالے تغیروتبدل کو روکنا۔ مثال کے طور پر ایک عام آدمی کیلئے آج علامہ اقبال کی جعلی آواز کی شناخت کرنا مشکل ہی نہیں تقریبا! ناممکن ہے۔ اسی طرح جب کوئی اپنی ڈیجیٹل تصویر یا ویڈیو دوسروں کو بھیجتا ہے تو وصول کرنےوالا بھی اس کا مالک بن جانا ہے اور یوں ایک آدمی کا ذاتی اثاثہ خود بخود دگنا و تگنا ہوتا جا تا ہے۔ یہی خصوصیت اگر پیسے میں آ جائے توایک ہی سکے یا نوٹ کے بار بار استعمال (double spending) سے لوگ چند لمحوں میں ارب پتی تو بن جائیں لیکن ساتھ ہی پیسے کی وقعت بھی خاک میں مل جائے۔ ڈیجیٹل دنیا کے اس مسئلے کا حل ماضی قریب میں ہونےوالی ایک منفرد ایجاد کا مرہونِ منت ہے جسے قطعاتی زنجیر یا بلاک چین (blockchain) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
قطعاتی زنجیر ایک ڈیجیٹل رجسٹر یا حساب کتاب کی دستاویز ہے جس میں باہمی لین دین کا تاریخ ورانہ اندراج قطعوں یا پاروں کی شکل میں کیا جاتا ہیے۔ یہ دستاویز ہر ایک کی دسترست میں اور مسلسل تنوع پذیر ہے۔ اس کے اندراجات روزِ روشن کی طرح سب پر یوں عیاں ہو تے ہیں کہ ان کی تصدیق کیلئے کسی بھی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یعنی کوئی بھی شخص اپنے کمپیوٹر کی مدد سے اس کی آزادانہ تصدیق کر سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص خورد برد کی کوشش کرے تو اسکے اندراج کو ایک خودکار طریقے سے رد کر دیا جاتا ہے۔ یعنی اس مستند دستاویز کو بدلنا یا دوسرے لفظوں میں اس زنجیر کو توڑنا (معلوم حالات اور وسائل کی بنیاد پر) ناممکن ہے۔ دستاویزی قطعات کی یہ زنجیر حیرت انگیز طور پر ڈ یجیٹل پیسہ بنانے کی بنیادی شرائط پر پورا اترتی ہے۔ لہٰذا اس کا سب سے پہلا استعمال بھی ایک پیسہ ایجاد کر کے ہی کیا گیا۔ یہ نیا پیسہ بٹ کوائن (Bitcoin) کہلاتا ہے۔
بٹ کوائن پیسے کی جدید ترین شکل ہے اور اس کا پورا نظام تین بنیادی چیزوں پر مشتمل ہے۔ پہلی چیز قطعاتی زنجیر ہے جو اس پورے نظام کی ا سا س ہے۔ دوسری چیز پیسہ جمع کرنے کا بٹوا ( Wallet)، اور تیسرا متعدد کمپیوٹروں میں منقسم ایک پروگرام ہے جو انتہائی ربط و ضبط کےساتھ نئے پارے تخلیق کرکے ان کو آپس میں مربوط کرتا جاتا ہے۔ چونکہ اس پورے نظام میں اعداد و شمار کی تاریخی صداقت، زنجیر کی سالمیت او ر شرکاءکی رازداری اور دیانتداری کا نفاذ کرپٹوگرافی (cryptograghy) کے مسلمہ اصولوں کے تحت ہوتا ہے اسلئے یہ پیسہ کرپٹو کرنسی بھی کہلاتا ہے۔ کرپٹوگرافی بذاتِ خود ایک الگ اور تفصیل طلب موضوع ہے لیکن سادہ الفاظ میں یہ کلیاتِ ریاضی کی بنیاد پر اعداد و شمار کی جمع و ترسیل کا ایسا طریقہ ہے جس میں فقط متعلقہ فریقین ہی معلومات کو دیکھ اور پرکھ سکتے ہیں۔ جبکہ غیر متعلقہ لوگوں کیلئے وہ محض بے ہنگم اعداد اور بے معنی الفاظ کا مجموعہ ہوتی ہیں جنہیں سمجھنا ناممکن ہوتا ہے۔
بٹوہ ایک پروگرام ہے جسے آپ اپنے کمپیوٹر یا اسمارٹ فون پر نصب (install) کر سکتے ہیں، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس میں بٹ کوائنز کی شکل میں پیسہ جمع کیا جاتا ہے۔ بٹوے میں جیبیں ہوتیں ہیں اور ہر جیب کا اپنا ایک منفرد نمبر ہوتا ہے جسے پتہ (address) کہتے ہیں ۔ یہ پتہ آپ دوسروں کو دے سکتے ہیں تاکہ وہ اس پر رقم بھیج سکیں۔ یہ آپکے ای میل ایڈریس کی طرح کام کرتا ہے لیکن ایک ہی دفعہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے زبانی یاد کرنا مشکل اور اس سے بٹوے کے مالک کو تلاش کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ آپ ایک سے زیادہ بٹوے رکھ سکتے ہیں ا و ر ہر بٹوے میں بیشمار پتے تخلیق کر سکتے ہیں۔ بٹوے میں دو ڈیجیٹل چابیاں بھی ہوتی ہیں۔ ایک ذاتی چابی (private key) ہوتی ہے جس کو انتہائی خفیہ رکھنا چاہیے کیونکہ اس کے ذریعے ہی آپ اپنے ڈیجیٹل دستخط کرتے ہیں اور اپنے بٹوے میں موجود پیسوں کو استعمال کر سکتے ہیں۔ دوسری عوامی چابی (public key) ہے جسے عام کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس سے آپکے بھیجے ہوئے پیسوں اور دستخطوں کی تصدیق کی جاتی ہے۔ یوں دونوں چابیاں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔
بٹوے کی چابیاں ہوں یا پتے دونوں ہی منفرد (اور عالمی سطح پر یکتا) لیکن بے ترتیب حروف پر مشتمل بڑے بڑے اعداد ہوتے ہیں جن کی تشر یح ایک کمپیوٹر کی مدد کے بغیر ناممکن ہے۔ بٹوے کو محفوظ کرنے کے کئی طریقے ہیں جن میں ایک دلچسپ طریقہ یہ بھی ہے کہ بٹوے کو کاغذ پر پرنٹ کرکے اسے کمپیوٹر یا اسمارٹ فون سے حذف کر دیا جائے اور کاغذ، جسے کاغذی بٹوہ بھی کہتے ہیں، کو اپنی تجوری میں رکھ کر تالا لگا دیا جا ئے ۔ بعد میں بوقت ضرورت کاغذی بٹوے سے رقم واپس ڈیجیٹل بٹوے میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
بٹ کوائن میں لین دین کا مطلب پیسوں کو ایک بٹوے سے دوسرے بٹوے میں منتقل کرنا ہوتا ہے، جیسا کہ باہمی لین دین کا مسلمہ اصول ہے اس عمل میں کسی بنک کی منظوری درکار نہیں ہوتی۔ بلکہ جیسے ہی پیسوں کا تبادلہ ہوتا ہے اس کا دستاویزی شمار اگلے قطعے میں کر دیا جاتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کمپیوٹر جس پر بٹ کوائن کا منقسم پروگرام چل رہا ہو اس قطعے کی تصدیق کرکے ا±سے قطعاتی زنجیر سے منسلک کر دیتا ہے اور یوں اسکا شمار مستند ہو جاتا ہے۔ اوسطاً ہر دس منٹ میں ایک نیا قطعہ تخلیق ہوتا ہے جس میں عموماً پچھلے دس منٹ میں ہونےوالے لین دین کا حساب ہوتا ہے۔ چونکہ دنیا میں بیشمار کمپیوٹرز ایک ساتھ قطعہ سازی میں مشغول ہوتے ہیں اسلئے عام طور پر جو سب سے پہلے نیا قطعہ تخلیق کرکے پیش کرتا ہے اسے باہمی اتفاق رائے سے منظور کر لیا جاتا ہے۔ یوں قطعہ سازی کا عمل جاری رہتا ہے۔
حساب کتاب کی تصدیق اور قطعہ سازی کا عمل ایک مشکل کام ہے کیونکہ نئے قطعے کو زنجیر سے منسلک کرنے کیلئے ایک مخصوص تاریخی اور عالمی سطح پر یکتا ہندسہ دریافت کرنا پڑتا ہے جس میں کمپیوٹر کی قوت اور وقت دونوں صرف ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے قطعاتی زنجیر میں گڑبڑ نہیں ہو سکتی کیونکہ کسی ایک قطعے میں معمولی سے ردوبدل کیلئے بھی باقی تمام قطعات کو نئے سرے سے مرتب کرنا پڑتا ہے جس کیلئے مطلوبہ اتفاق را ئے حاصل کرنا معلوم حالات اور دستیاب وسائل کےساتھ ناممکن ہے۔
قطعہ سازی کے عمل میں جس کا قطعہ منظور ہوتا ہے اسے معاوضہ ملتا ہے اور ایک مخصوص رقم خود بخود اس کے بٹوے میں منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ رقم پچاس بٹ کوائنز فی قطعہ سے شروع ہوئی تھی جو اوسطاً ہر چار سال کے بعد آدھی رہ جاتی ہے۔ آج کل یہ رقم ساڑھے بارہ بٹ کوائنز فی قطعہ ہے۔ یعنی آجکل اس کان سے اٹھارہ سو بٹ کوائنز روزانہ کے حساب سے نکالے جا رہے ہیں۔ بٹ کوائنز حاصل کرنے کے اس طر یقے کو بٹ کوائن کی کان کنی (Mining) کہتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 2140ءتک بٹ کوائنز کی کان کنی مکمل ہو جائے گی اور تما م رقم گردش میں آ جائے گی۔ توقع کی جاتی ہے تب تک کمپیوٹرز اتنے سستے ہو جائیں گے کہ قطعات کی تصدیق و تخلیق کا عمل بغیر معاوضے کے بھی جاری رکھا جا سکے گا۔ تاہم اس بات کا امکان بھی ہے کہ اس سے پہلے ہی پیسہ اپنا یہ دور بھی گزار کر کسی نئے دور میں داخل ہو چکا ہو۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کان میں صرف اکیس ملین بٹ کوائنز کی رقم موجود ہے اور یہ رقم بھی ایک سو تیس سال کی مسلسل کان کنی کے بعد ہی مکمل طور پر گردش میں آ سکے گی۔ ویسے بھی ایک بٹ کوائن بذاتِ خود ایک بہت بڑی اکائی ہے لہٰذا اس کو کئی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سب سے چھوٹی اکائی کو بٹ کوائن کے موجد کی مناسبت سے ستوشی (Satoshi) کہتے ہیں اور ایک بٹ کوائن میں دس کروڑ ستو شی ہوتے ہیں۔ اگرچہ بٹ کوائن کی قدر ابھی مستحکم نہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق آجکل ایک پاکستانی روپیہ تقریباً پچاس ستوشی کے برابر ہے۔
بٹ کوئن کو اپنی یا زیادہ درست الفاظ میں کمپیوٹر کی محنت سے حاصل کرنے کا طریقہ تو کان کنی ہی ہے۔ تاہم اسے حاصل کرنے کا دوسرا طر یقہ بھی ہے اور وہ ہے پیسے کا تبادلہ۔ بالکل اسی طرح جیسے آپ روپے کو ڈالر میں بدل سکتے ہیں اسی طرح ہی روپے یا ڈالر کو بٹ کوائن سے بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے البتہ اس میں محنت کی بجائے آپکا سرمایہ استعمال ہوتا ہے۔ پیسے کے اس طرح تبادلے کیلئے مختلف مقامات بھی دستیاب ہیں۔ تاہم تفصیل میں جانے کی ضرورت اسلئے نہیں کہ اس مضمون کا مطمع نظر محض پیسے کا تاریخی و تکنیکی جائزہ لینا ہے نہ کہ سرمایہ کاری کی تر غیب دینا۔
۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔

بِٹ کوائن اور اِرتقائے پیسہ

(تحریر:۔۔۔ ممتاز صدیقی(حصہ اول
باہمی معاملات بطریق احسن چلانے کے آداب و اطوار ابتدائے آفرنیشن سے ہی انسانی تہذیب و تمدن کا جزولاینف رہے ہیں۔ تمدن کے نقطہ آغاز میں باہمی لین دین کا اصول مال کے بدلے مال اور خدمت کے بدلے خدمت کے تحت استوار کیا گیا۔ چونکہ ہر انسان کسی نہ کسی ہنر میں مہارت حاصل کرکے اس سے خود استفادہ کرتا ہے اسلئے اس امید کےساتھ دوسروں کو بھی مستفید کرسکتا ہے کہ بدلے میں بوقت ضرورت وہ بھی دوسروں کی مہارت کا فائدہ اٹھا سکے گا۔ تب معاملاتِ باہمی کے اس اصول میں مال و ہنر کی قدر کا تعین ذاتی صلاحیتوں پر یقین اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر کیا جاتا تھا، تاہم جلد ہی انسان نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا کہ جہاں یہ اصول باہمی لین دین کو معدود کرتا ہے وہیں لوگوں کو ایک دوسرے کا براہِ راست محتاج بھی بنا دیتا ہے۔ اگر معاشرے میں کسی خاص ہنر کے طلبگار محدودِ چند ہونگے تو ہنر رکھنے والے کیلئے ضروریات زندگی کا حصول بھی مشکل ہو جائے گا۔ اس مسئلے کے حل کیلئے پیسہ (money) ایجاد کیا گیا۔
باہمی لین دین کے آزادانہ فروغ کیلئے پیسہ انسان کی ابتدائی لیکن انتہائی اہم ایجادات میں سے ایک ہے۔ پیسہ ایجاد کیا گیا تاکہ کسی بھی چیز ، مال یا خدمت کا معاوضہ براہِ راست اور آزادانہ (یعنی کسی تیسرے فریق کی مدد کے بغیر) طور پر پیسے سے ادا کیا جا سکے. لہٰذا پیسہ دو فریقین کے درمیان ایک ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس کیلئے کسی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس پر سب کو یقین ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جس میں پیسے پر غیرمتزلزل یقین کےساتھ ساتھ یہ اعتماد بھی ہوتا ہے کہ باہمی لین د ین میں پیسہ نہ تو ضائع ہوگا اور نہ ہی خود بخود پیدا ہوگا۔
پیسے کی ابتدائی شکل کارآمد تجارتی اجناس (commodities) کی ہے جس کی ادائیگی کرکے دوسری ضروریات زندگی حاصل کی جاتیں۔ اس کے بعد پیسہ موتی و جواہرات اور معدنیات کی صورت اختیار کر گیا۔ برصغیر میں یہ کوڑیوں کی شکل میں بھی موجود رہا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب پیسہ کانوں (mines) میں پایا جاتا تھا اور لوگ اس کی تلاش کیلئے کان کنی (mining) کیا کرتے، تاہم یہ ابتدائی شکلیں پیسے کی جمع و تر سیل اور دوردرازانہ تجارت کیلئے نہایت ناموزوں تھیں۔ دھات کی دریافت کے بعد جب کان کنی کا رخ دھاتی کانوں کی طرف ہوا تو جلد ہی پیسہ بھی دھات کی شکل اختیار کر گیا۔ یوں دھاتی سکوں (coins) کا دور شروع ہوا۔ ابتداءمیں سکوں کی کوئی خاص شکل نہیں ہوتی تھی او ر دھات کی صنف اور وزن سے ہی سکے کی قدروقیمت کا تعین ہوتا۔ البتہ وقت کےساتھ ساتھ دھاتی سکوں میں نفاست آتی گئی اور مختلف حجم اور شکلوں کے سکے جاری ہونے لگے تاکہ سکوں کی قدر (intrinsic value) کا آزادانہ طور پر تعین کیا جا سکے۔
کاغذ کی ایجاد نے جلد ہی پیسے کو کاغذ میں منتقل کرنے کی راہ ہموار کردی کیونکہ سکوں کی بڑی مقدار میں جمع و ترسیل کا کام نہ صرف مشکل بلکہ پر خطر بھی ہوا کرتا تھا۔ مزید براں پیسے کی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم اور اس کی ہر جگہ دستیابی و قبولیت بھی نا ممکن تھی۔ کاغذی پیسوں یا نوٹوں (fiat money) نے ان مسائل کو حل کرنے میں مدد دی۔ کاغذ کے علاوہ حال ہی میں کچھ ممالک نے پلاسٹک کے نوٹ، جو کہ کاغذ کی نسبت زیادہ پائیدار ہوتے ہیں، کا تجربہ بھی کیا ہے، تاہم ان کی اپنی خامیاں ہیں مثلاً انکا رنگ وقت کےساتھ مدہم پڑ جاتا ہے اور یوں نوٹ قابل استعمال نہیں رہتا۔
یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ نوٹوں کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ جاری کرنےوالے ممالک کی سند ان کو قابل قدر بنا دیتی ہے۔ اسلئے آج کی جدید ریاستیں اندھا دھند نوٹ نہیں چھاپتیں بلکہ کسی مناسب پیمانے کے تحت ایک خاص مقدار میں ہی نوٹ جاری کر سکتی ہیں۔ اس کیلئے پہلے یہ میعار تھا کہ جاری کرنےوالے ملک کے پاس سونا (گولڈ) کتنا ہے لیکن آجکل پیسے کی قدر کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ جاری کرنےو الا ملک دنیا کی نظر میں معتبر کتنا ہے۔ یعنی بات واپس ا±سی باہمی اعتماد کی طرف پلٹ گئی ہے جو پہلے دو انسانوں کے درمیان مطلوب ہوا کرتا تھا اور اب دو ملکوں کے درمیان۔
چونکہ دنیا اب ایک عالمی گاﺅں کی شکل اختیار کر چکی ہے اسلئے پیسے کی قدر بھی بین الاقوامی حالات و واقعات سے منسلک ہو گئی ہے اور ایک ملک کے پیسے کو دوسرے ملک کے پیسے میں بدلنے کے معیارات بمعہ شرح و مقامات بھی طے کر لیے گئے ہیں۔
پچھلی ربع صدی میں انٹرنیٹ کی ایجاد اور اس پر برقی تجارت (ecommerce) کی پیشرفت نے پیسے کو ایک نئی جہت عطا کر دی ہے ا و ر پیسہ اب پلاسٹک کے ایک کارڈ میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ اس میں باہمی لین دین کا دائرہِ اختیار تو آپ ہی کے پاس رہتا ہے لیکن انتقال پیسہ بنکوں کے ذریعے بالواسطہ طور پر ایک خودکار طریقے سے ہوتا ہے۔ یوں کارڈ کے ذریعے لین دین ایک تیسرے فریق کا محتاج ہوتا ہے یعنی یہ ایک درمیانی واسطے (بنک) کا تقاضہ کرتا ہے جوکہ پیسے کی بنیادی شرائط پرقطعاً پورا نہیں اترتا۔ فقط ایک حقیقی پیسہ ہی کسی تیسرے فریق کے بغیر باہمی لین دین کے آزادانہ فروغ کی حمایت کرتا ہے۔
تاہم آجکل جس طرح حقیقی خط و کتابت کی جگہ برقی خط و کتابت (email and emessaging) نے لے لی ہے اسی طرح باہمی لین دین کی ادائیگیاں بھی پیسے کے برقی انتقال (electronic transfer) سے ہو رہی ہیں۔ پیسے کے برقی انتقال سے اب نہ صرف ہر قسم کی مادی اشیا خریدی جا سکتیں ہیں بلکہ ڈیجیٹل اثاثے بھی دستیاب ہیں۔ برقی و ساعتی کتابیں، گانے، فلمیں، آپ کی بنائی ہوئی تصویریں اور آن لائن تحریریں ڈیجیٹل اثاثوں کی چند ایک نمایاں مثالیں ہیں۔ ان اثاثوں کی مادی افادیت تو یہ ہے کہ آپ انہیں دیکھ، سن، اور پڑھ سکتے ہیں۔ انہیں پرکھتے اور سراہتے ہیں لیکن ان کی مالی قدر کا تعین بہرحال پیسے سے ہی ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پیسہ بذاتِ خود بھی ڈیجیٹل ہو سکتا ہے؟۔۔۔جاری ہے۔۔۔

 

امت کو اپنی عاقبت بچانے کےلئے جاگنا ہو گا

       دمشق میں واقع نواسی رسول سیدہ زینب بنت علی ؑ کے مزار کے قریب بم حملے میں 60افرادجاں بحق جبکہ درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ،مزار پر دو بم حملے کیے گئے جن میں سے ایک کار بم حملہ تھا۔ مزار مرجع خلائق ہے اور مسلمانوں کےلئے بہت اہمیت کا حامل ہے ، جہاں بڑی تعداد میں وہ حاضری دیتے ہیں۔ شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ شام کی جنگ یورپ میں پناہ گزین کے بحران کا بڑا محرک بھی ہے۔ ادھرفلاحی ادارے میڈیسن ساں فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ شام کے علاقے مضایا میں اقوامِ متحدہ کا امدادی قافلے پہنچنے کے بعد بھی کم سے کم 16 افراد بھوک کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ مزید 33 افراد ایسے ہیں جن کی حالت خطرے میں ہے۔ایم ایس ایف کے مطابق گذشتہ برس اس قصبے میں فاقہ کشی کے باعث 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔جنوری کے اوائل میں اس وقت دواو¿ں اور خوراک کے دو ہنگامی امدادی قافلے مضایا روانہ کیے گئے جب یہ علم ہوا کہ 40 ہزار لوگ انتہائی ہولناک حالت میں ہیں۔اقوامِ متحدہ کے مطابق شام کے کم سے کم 15 مقامات پر کم سے کم چار لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں ہنگامی بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے۔ یہ علاقے حکومت کی حامی فورسز اور باغیوں دونوں ہی کے محاصرے میں ہیں۔ مضایا دمشق کے شمال مغرب میں 25 کلو میٹر کے فاصلے پر پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ اس کا چھ ماہ سے حکومتی فورسز اور ان کے اتحادی حزب اللہ تحریک نے محاصرہ کر رکھا ہے۔انسانی حقوق کے تنظیموں نے سینکڑوں افراد کو فوری نکالنے اور طبی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شام میں گزشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ، خطے اور اس سے باہر کی مسلم اور غیر مسلم طاقتوںنے علاقہ کو میدان جنگ بنا رکھا ہے ۔ اغیار کو کھل کھیلنے کا بھر پور موقع میسر ہے ۔ خون کے آنسو رونے کا مقام یہ ہے کہ امت مسلمہ اپنے مقدس مقامات کا تحفظ کرنے سے قاصر ہوتی چلی جا رہی ہے ،ان تمام حقائق کے ادراک کے باوجود مسلم ممالک شام کی صورتحال پر منقسم ہیں ، سعودی عرب اور ایران اپنے اپنے موقف پر نہ صرف ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے مابین جاری تناﺅ میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ۔ذاتی مفادات کی خاطر پوری امت مسلمہ کا مستقبل داﺅ پر لگا ہوا ہے۔ امت مسلمہ کو اب جاگنا ہوگا کہ شام اور بالخصوص دمشق وہ مقام ہے جہاں رسول خدا کے بارہویں جا نشین حضرت امام مہدی ؑ کی اقتداءمیں حضرت عیسیٰ ؑ نے نہ صرف نماز ادا کرنی ہے بلکہ اپنے پیروکاروں کودائرہ اسلام میں شامل ہونے کا حکم بھی دینا ہے اور جو اس حکم کو نہیں مانے گا ان کےخلاف جنگ کرنی ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ تفرقہ بازی میں پڑنے کے بجائے شعائر اللہ کے تحفظ کےلئے اپنے اپنے ممالک کی حکومتوں پر دباﺅ ڈالنے کےلئے میدان عمل میں نکلے ورنہ اس فانی جہاں کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی ابدی زندگی میں بھی ناکامی و نامرادی یقینی ہوتی جائے گی کیونکہ فرمان محبوب خدارسول اللہ ہے کہ جس نے میری بیٹی فاطمہ ؑ کو دکھ پہنچایا اس نے مجھے دکھ دیا اور جس نے مجھے تکلیف دی گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جبکہ دمشق میں نواسی رسول اللہ ، لخت جگر بتولؑ بی بی زینب ؑکے مزار سمیت دیگر مقدس مقامات پر جاری حملے نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ امت مسلمہ کی بے حسی و بے بسی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں اور چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ یہ حملے بنت رسول کو دکھ دینا ہے ، اس لئے شام کی موجودہ صورتحال پر امت مسلمہ کو بغیر کسی لگی لپٹی اپنے ایمان کی سلامتی کی خاطر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرکے اغیار کے مزموم عزائم کو خاک میں ملانا ہوگا اور ناعاقبت اندیش مسلم حکمرانوں کو خواب غفلت سے جگانا ہوگا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کڑے وقت میں ایمان کےساتھ کھڑا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین