امت کو اپنی عاقبت بچانے کےلئے جاگنا ہو گا

       دمشق میں واقع نواسی رسول سیدہ زینب بنت علی ؑ کے مزار کے قریب بم حملے میں 60افرادجاں بحق جبکہ درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ،مزار پر دو بم حملے کیے گئے جن میں سے ایک کار بم حملہ تھا۔ مزار مرجع خلائق ہے اور مسلمانوں کےلئے بہت اہمیت کا حامل ہے ، جہاں بڑی تعداد میں وہ حاضری دیتے ہیں۔ شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ شام کی جنگ یورپ میں پناہ گزین کے بحران کا بڑا محرک بھی ہے۔ ادھرفلاحی ادارے میڈیسن ساں فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ شام کے علاقے مضایا میں اقوامِ متحدہ کا امدادی قافلے پہنچنے کے بعد بھی کم سے کم 16 افراد بھوک کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ مزید 33 افراد ایسے ہیں جن کی حالت خطرے میں ہے۔ایم ایس ایف کے مطابق گذشتہ برس اس قصبے میں فاقہ کشی کے باعث 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔جنوری کے اوائل میں اس وقت دواو¿ں اور خوراک کے دو ہنگامی امدادی قافلے مضایا روانہ کیے گئے جب یہ علم ہوا کہ 40 ہزار لوگ انتہائی ہولناک حالت میں ہیں۔اقوامِ متحدہ کے مطابق شام کے کم سے کم 15 مقامات پر کم سے کم چار لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں ہنگامی بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے۔ یہ علاقے حکومت کی حامی فورسز اور باغیوں دونوں ہی کے محاصرے میں ہیں۔ مضایا دمشق کے شمال مغرب میں 25 کلو میٹر کے فاصلے پر پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ اس کا چھ ماہ سے حکومتی فورسز اور ان کے اتحادی حزب اللہ تحریک نے محاصرہ کر رکھا ہے۔انسانی حقوق کے تنظیموں نے سینکڑوں افراد کو فوری نکالنے اور طبی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شام میں گزشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ، خطے اور اس سے باہر کی مسلم اور غیر مسلم طاقتوںنے علاقہ کو میدان جنگ بنا رکھا ہے ۔ اغیار کو کھل کھیلنے کا بھر پور موقع میسر ہے ۔ خون کے آنسو رونے کا مقام یہ ہے کہ امت مسلمہ اپنے مقدس مقامات کا تحفظ کرنے سے قاصر ہوتی چلی جا رہی ہے ،ان تمام حقائق کے ادراک کے باوجود مسلم ممالک شام کی صورتحال پر منقسم ہیں ، سعودی عرب اور ایران اپنے اپنے موقف پر نہ صرف ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے مابین جاری تناﺅ میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ۔ذاتی مفادات کی خاطر پوری امت مسلمہ کا مستقبل داﺅ پر لگا ہوا ہے۔ امت مسلمہ کو اب جاگنا ہوگا کہ شام اور بالخصوص دمشق وہ مقام ہے جہاں رسول خدا کے بارہویں جا نشین حضرت امام مہدی ؑ کی اقتداءمیں حضرت عیسیٰ ؑ نے نہ صرف نماز ادا کرنی ہے بلکہ اپنے پیروکاروں کودائرہ اسلام میں شامل ہونے کا حکم بھی دینا ہے اور جو اس حکم کو نہیں مانے گا ان کےخلاف جنگ کرنی ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ تفرقہ بازی میں پڑنے کے بجائے شعائر اللہ کے تحفظ کےلئے اپنے اپنے ممالک کی حکومتوں پر دباﺅ ڈالنے کےلئے میدان عمل میں نکلے ورنہ اس فانی جہاں کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی ابدی زندگی میں بھی ناکامی و نامرادی یقینی ہوتی جائے گی کیونکہ فرمان محبوب خدارسول اللہ ہے کہ جس نے میری بیٹی فاطمہ ؑ کو دکھ پہنچایا اس نے مجھے دکھ دیا اور جس نے مجھے تکلیف دی گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جبکہ دمشق میں نواسی رسول اللہ ، لخت جگر بتولؑ بی بی زینب ؑکے مزار سمیت دیگر مقدس مقامات پر جاری حملے نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ امت مسلمہ کی بے حسی و بے بسی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں اور چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ یہ حملے بنت رسول کو دکھ دینا ہے ، اس لئے شام کی موجودہ صورتحال پر امت مسلمہ کو بغیر کسی لگی لپٹی اپنے ایمان کی سلامتی کی خاطر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرکے اغیار کے مزموم عزائم کو خاک میں ملانا ہوگا اور ناعاقبت اندیش مسلم حکمرانوں کو خواب غفلت سے جگانا ہوگا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کڑے وقت میں ایمان کےساتھ کھڑا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین