پاکستانی جاب مارکیٹ کی صورتحال اور انٹرپرینیور شپ کی اہمیت

  وطن عزیز میں نوجوانوں کی اکثریت تعلیم حاصل کرنے

کے بعد نوکری کی تلاش شروع کرتی ہے۔ جب وہ جاب

مارکیٹ میں جاتے ہیں تو ان کو اندازہ ہوتا ہے کہ نوکری

تلاش کرنا کافی مشکل کام ہے کیونکہ کمزور معاشی حالات

اور بے شمار دیگر وجوہات کے سبب یہاں بےروزگاری کی

شرح بہت بلند ہے۔

    میڈیا میںایسی رپورٹس کی بہتات ہے کہ فلاں سرکاری

نوکری کےلئے جس میں صرف دس/بارہ سیٹیں تھی، 30

ہزار سے زائد افراد نے اپلائی کردیا۔ وفاقی حکومت کے

مقابلہ کے امتحان (سی ایس ایس) میں تقریباً بیس ہزار سے

زائد طلبہ وطالبات شرکت کرتے ہیں، جبکہ اس میں

200 کے قریب سیٹیں ہوتی ہیں۔ اب آپ خود ہی اندازہ

لگائیے کہ تقریباً 100 افراد کا ایک سیٹ کےلئے مقابلہ ہے۔

اس لیے اس میں جو کامیاب ہوتا ہے وہ واقعی خوش قسمت

ہوتا ہے۔

    ہم نے خود دیکھا ہے کہ 80 کی دہائی کے اختتام تک

بھی ”بی کام“ کرنےوالوں کو فوری نوکری مل جاتی تھی۔

پھر ہم نے دیکھا کہ جو لڑکے لڑکیاں، کمپیوٹر سائنس میں

”بی سی ایس“ کرتے تھے، ان کو فوری نوکری مل جاتی

 تھی، لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ آج مارکیٹ میں ہزاروں ماسٹر

 ڈگری یافتہ، ایم بی اے، ایم سی ایس کرنےوالے بےروزگار

ہیں، جن کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق جاب میسر

نہیں، جس سے ہمارے نوجوانوں میں پریشانی بڑھ رہی ہے۔

جس کو جاب مل جاتی ہے وہ بھی پریشان:۔۔۔

    نوکری ملنا بہت مشکل عمل ہے۔ اچھا جن کو نوکری مل

جاتی ہے کیا وہ مطمئن ہیں؟ تو یقینا ہماری رائے سے آپ

متفق ہونگے کہ ۔۔۔ اکثریت اپنی جاب سے مطمئن نظر نہیں

آتی ۔۔۔ بےروزگاری کی بلند شرح کی وجہ سے اکثریت کو

ان کی تعلیم/تجربے سے کم درجے کی نوکری ملتی ہے۔ ۔۔ہم

ذاتی طور پر بہت سے ایسے افراد کو جانتے ہیں جنہوں نے

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی

ہوئی ہے، لیکن ان کو نوکری کمپیوٹر آپریٹر کی ملی ہے،

جسے وہ اپنے کمزور معاشی حالات اور دیگر عوامل کی

وجہ سے کرنے پر مجبور ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے

یہاںاکثر نوکری کرنےوالوں کو ”ذاتی نوکر“ تصور کیا جاتا

ہے، جس میں آپ کو بلاوجہ بہت باتیں سنائی جاتی ہیں۔

کانٹریکٹ میں درج کام کے علاوہ بھی دیگر بہت سارے کام

لیے جاتے ہیں جو انسان صرف اس لیے کرنے پر مجبور

ہوتا ہے کہ کہیں یہ نوکری بھی ہاتھ سے نہ چلی جائے اور

جو تنخواہ مہینے کے بعد ملتی ہے، وہ اتنی قلیل ہوتی ہے کہ ایک ہی دن میں خرچ ہو جاتی ہے۔

 اکثر نوکری کرنےوالوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ آفس میں

آپ جتنا مرضی اچھا کام کرلیں، لیکن آپ کو اس کا کوئی

اجر نہیں ملنا، کیونکہ ان کی تنخواہ فکس ہے، جس کا ان کی  کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں۔ بہت کم دفاتر میں یہ اصول  ہے کہ اگر آپ زیادہ اچھا کام کریں تو آپ کی تنخواہ زیادہ  ہوسکتی ہے۔ اس طرح کی وجوہات سے نوکری کرنےوالوں  کی اکثریت بددلی اور شدید فرسٹریشن کا شکار نظر آتی ہے۔  وہ نوکری کر بھی رہے ہوتے ہیں اور شکوے شکایت بھی۔

کیا نوکری سے امیر ہوا جا سکتا ہے؟

پاکستان جیسے ملک میں آپ اگر امیر ہونا چاہتے ہیں یا

معاشی طور پر خوشحال ہونا چاہتے ہیں تو انتہائی معذرت

کےساتھ، نوکری اور حلال تنخواہ کے ساتھ آپ کےلئے یہ

کرنا اگر بالکل ناممکن نہیں، تو اتنا مشکل ضرور ہے کہ

اسے چند لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں کر پاتا۔ مثلاً مکان ہر

خاندان کی بنیادی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں میں پانچ مرلے

کے مکانات کی قیمت 40 سے 50 لاکھ روپے ہے۔ اب ذرا

تصور کریں ایک خاندان کا جس میں ایک آدمی نوکری کرتا

ہے۔ وہ اپنی تنخواہ میں سے ہر سال کتنی بچت کریں کہ اپنا

ذاتی مکان خرید سکیں؟ جبکہ پراپرٹی کی قیمت بھی چند

 سالوں میں دوگنی ہوجاتی ہے۔ اس لیے پاکستان میں نوکری

کرنےوالوں کی اکثریت اپنی تنخواہ کے ذریعے اپنا ذاتی

مکان تعمیر نہیں کرسکتی۔

انٹرپرینیورکی اہمیت

 انٹرپرینیور کا اصل اردو ترجمہ ”کاروباری شخص“ ہے۔

ویسے تو انٹرپرینیور شپ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے

 لگایا جاسکتا ہے کہ ”انٹرپرینیور شپ “ کو پاکستان کی تمام نجی و سرکاری یونیورسٹیز میں ایک کورس کا درجہ حاصل  ہے اور انٹرپرینیور شپ کا مضمون بطور خاص ڈگری  پروگرامز میں پڑھایا جا رہا ہے، جبکہ بعض یونیورسٹیز میں ”ایم بی اے“ میں اس مضمون کو خاص اہمیت دی جاتی ہے جس سے بڑے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

Advertisements

بغیر کچھ کیے دولت کمانے میں مدد دینے والے ذرائع

(پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
پیسہ کمانے کےلئے کام کرنا پڑتا ہے بلکہ سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔مگر خوش قسمتی سے دولت کمانے کے کچھ ذرائع کےلئے کچھ زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی، جس کےلئے موبائل ایپس، بنیادی سرمایہ کاری ٹولز اور دیگر حکمت عملیوں کا شکرگزار ہونا چاہیے، جن کے ذریعے اضافی آمدنی بغیر کچھ کیے حاصل کی جاسکتی ہے۔یہاں آپ ایسے ہی ذرائع جان سکیں گے جن کے ذریعے کم از کم محنت کرکے پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔
1:۔۔۔ویب سائٹ بنائیں اور اشتہارات سے کمائیں
اگر آپ کسی موضوع کے ماہر ہیں مگر وہ موضوع کسی کتابی پراجیکٹ یا آن لائن کورس کےلئے فٹ نہیں، تو ویب سائٹ بنالیں۔ ورڈ پریس یا کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم کے ذریعے ویب سائٹ بنائی جاسکتی ہے، جہاں آن لائن اشتہارات فروخت کیے جاسکتے ہیں، جیسے گوگل کے ذریعے، تو جب بھی سائٹ پر کوئی آپ کے کام پر پڑھے گا تو کچھ اضافی آمدنی آپ کے حصے میں آجائے گی۔
2:۔۔۔یوٹیوب ویڈیو گائیڈ
اگر تو آپ کسی چیز کے ماہر ہیں مگر کتاب، آن لائن کورس یا ویب کے ذریعے اسے بیان نہیں کیا جاسکتا تو یوٹیوب ویڈیو بنانے کے بارے میں سوچیں۔ یوٹیوب میں مختلف موضوعات پر ہزاروں بلکہ لاکھوں گائیڈز موجود ہیں، اگر آپ اسمارٹ فون کے کسی فنکشن کے ماہر ہیں تو آپ اس پر ویڈیو بناسکتے ہیں یا جو آپ چاہیں۔ یوٹیوب میں بھی ویڈیوز پر اشتہارات ملتے ہیں اور لوگ مخصوص موضوعات کو سرچ کرتے ہوئے آپ کی ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں اور اشتہاری آمدنی لامحدود عرصے تک ملتی رہتی ہے۔
3:۔۔۔ویب سائٹ ہے تو ریفر لنکس کیلئے استعمال کریں
آپ کی ویب سائٹ کسی بھی موضوع پر ہو یا بلاک ہو، اس میں کسی پراڈکٹ کے بارے میں ریفر لنکس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ویب سا ئٹس جیسے اِمیزون کسی پراڈکٹ کے یو آر ایل کا کوڈ شامل کرنے دیتی ہیں، اگر اس یوآر ایل سے کوئی پراڈکٹ فروخت ہوتی ہے تو آمدنی کا کچھ حصہ آپ کو ملے گا۔
4:۔۔۔ایپس ریفر کریں
اگر تو آپ کوئی ایپ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو ریفر کے ذریعے کافی کما سکتے ہیں، اوبر یا دیگر متعدد موبائل ایپس میں ہر اس شخص کو کچھ کریڈٹ دیا جاتا ہے جو ایسے افراد کو ایپ ریفر کرے جو اسے خریداری کےلئے استعمال کرے۔
5:۔۔۔بنگ استعمال کریں
مائیکرو سافٹ ریورڈز پروگرام کے تحت یہ کمپنی گوگل کی بجائے اس کے براﺅزر بنگ کو استعمال کرنے پر معاوضہ دیتی ہے، تاہم یہ سہولت کچھ ممالک تک محدود ہے مگر آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔
6:۔۔۔زیادہ منافع دینے والے سیونگ اکاﺅنٹ میں رقم جمع کرنا
جب سیونگ اکاﺅنٹس میں رقم کی بچت کی جاتی ہے تو بینکوں کی جانب سے انٹرسٹ کی مد میں اضافی رقم دی جاتی ہے، کئی بار یہ انٹرسٹ کم ہوتا ہے جبکہ کئی بار زیادہ۔ جب آپ زیادہ انٹرسٹ ریٹ والے سیونگ اکاﺅنٹ کا انتخاب کرتے ہیں تو رقم کی مقدار میں اضافہ بھی زیادہ ہوتا ہے، مگر ایسے اکاﺅنٹس کےلئے بچت بہت زیادہ کرنا پڑتی ہے۔
7:۔۔۔اپنی تصاویر فروخت کریں
ویب سائٹس جیسے میڈیا سائٹس، کو اپنے مواد کےلئے اچھی تصاویر کی ضرورت ہوتی ہے، کئی بار یہ کام سٹاف فوٹوگرافر کرتے ہیں، جبکہ زیادہ تر فوٹوز سروسز جیسے گیٹی وغیرہ، اسی طرح سٹاک امیج سروس جیسے شٹر اسٹاک کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ شٹر اسٹاک اور آئی اسٹاک میں کوئی بھی اپنی تصاویر جمع کراکے اس سروس کا حصہ بن سکتا ہے، جس کےلئے کچھ ان سروسز کی گائیڈلائنز پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد جب کوئی بھی اس تصویر کو ڈاﺅن لوڈ کرتا ہے تو اس کی فیس آپ کو ملے گی، اگر آپ شوقیہ فوٹوگرافر ہیں تو یہ کچھ اضافی رقم کمانے کا آسان ذریعہ ہے۔
8:۔۔۔رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری
اس کےلئے ہاتھ میں زیادہ نقدی کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس کا صلہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، اگر آپ کسی رئیل اسٹیٹ پر سرمایہ کاری کرتے ہیں تو کرائے کی مد میں کافی رقم کما سکتے ہیں، یقیناً اس میں کافی مشکلات بھی ہوتی ہیں یعنی کافی سرمایہ ہاتھ میں ہونا چاہیے اور سرمایہ کاری کے بعد کرائے کا آسانی سے حصول وغیرہ۔ مگر ان پر قابو پالیا جائے تو جلد کافی زیادہ اضافی آمدنی ہونے لگتی ہے۔
9:۔۔۔موبائل ایپ بنائیں
اسمارٹ فون تو اب ہر ایک کے ہاتھ میں ہے تو اس کےلئے ایپس بنانا کافی آمدنی کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کچھ ویب سائٹس جیسے کوڈ اکیڈمی وغیرہ سے آپ اس کےلئے درکاری کوڈ کو آسانی سے سیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کی ایپ اچھی ہو اور لوگ اسے پسند کریں گے تو اس سے دو ذرائع سے آمدنی ہوسکتی ہے، ایک تو ایپل کے ایپ اسٹور یا اینڈرائیڈ کے گوگل پلے اسٹور سے چارج کرنا اور دوسرا اشتہارات کی فروخت کے ذریعے۔
بشکریہ ۔۔۔ڈان نیوز

بٹ کوائن کرنسی کی سائنس: کیا اس میں انویسٹمنٹ کرنی چاہیے؟

(تحریر:۔۔۔۔حیدر جناح)
آج کل میرے کئی دوست بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی کی دنیا میں پوری طرح غرق ہیں۔ سب نے مل کر واٹس ایپ پر ایک گروپ بنا رکھا ہے جہاں سب ایک دوسرے کو نئی نئی کرنسیوں کے بارے میں دلچسپ آرٹیکل اور ریسرچ پیپرز بھیجتے ہیں۔شروع میں تو میں نے نظر انداز کیا لیکن پھر اخبارات میں بٹ کوائن کی بڑھتی ہوئی قیمت کے بارے میں پڑھا تو جھنجھلا کے مگر رازداری میں نکموں کے بھیجے ہوئے ریسرچ پیپرز بھی پڑھے۔21جولائی کو میں نے بغیر کسی کو بتائے بیگم کے سونے کے بعد 100 پاو¿نڈ کے بٹ کوائن ایک موبائل ایپ کے ذریعے خرید لئے۔ 100پاو¿نڈ میں بٹ کوائن کی چند چھینٹیں ملی۔ میں 0.06566672 بٹ کوائن کا مالک بن چکا تھا۔ کچھ عرصے بعد دیکھا تو یہ 100پا و¿ نڈ 140 اور پھر اکتوبر 2017 کے دوسرے ہفتے میں میرے 100پاو¿نڈ 204 پاو¿نڈ بن گئے۔ پہلی بار اپنے دوستوں پر فخر ہوا اور یوں میں بھی کرپٹو کرنسی کی دنیا میں کود پڑا۔
ڈیجیٹل کرنسی کیا ہے؟
عموماً ڈیجیٹل کرنسی کو ورچوئل (خیالی یا مجازی) کرنسی بھی کہتے ہیں۔ کرنسی کو ورچوئل کہنا اکثر ڈیجیٹل کرنسی ماہرین کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ وہ اس لئے کہ ” ورچوئل” لفظ یعنی “اصل جیسے” کےلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن “اصل ” کےلئے نہیں جبکہ ڈیجیٹل کرنسی ایک الیکٹرونک رجسٹر میں محفوظ کی جاسکتی ہے۔ چینی زبان میں لفظ “ورچوئل ” کا ترجمہ (Created from nothing)ہے یعنی ایک ایسی چیز جو کسی بھی شہ سے نا بنی ہو۔دراصل یہ ورچوئل کرنسی ایک حقیقت ہے اور موجود ہے اس لئے ورچوئل کو ڈیجیٹل کرنسی کہا جائے تو بہتر ہے۔ “ڈیجیٹل کرنسی ” انکرپشن (خفیہ کاری) کے ذریعے پیدا ہوتی ہے اور انکرپشن ہی کے ذریعے اس کی مانیٹرنگ بھی کی جاتی ہے۔
ٹرانسیشکن ایک پبلک لیجر(Ledger) میں محفوظ ہوجاتی ہیں جسے ٹرانسیکشن بلاک چین بھی کہتے ہیں۔
نئی اور جدید کرنسی پیدا کرنےوالے اس عمل کو “مائننگ” کہتے ہیں۔ آج پوری دنیا میں انفرادی اور اداروں کی سطح پر ڈیجیٹل کرنسی کا تبادلہ عام ہوچکا ہے۔ کرپٹو کرنسی دراصل صرف بیس سال پرانی ہے۔
بٹ کوائن کی تاریخ
ریسرچ کے مطابق ” بٹ گولڈ ” پہلی ڈیجیٹل کرنسی تھی جو کہ 1997-1998 میں ڈی سینٹر لائزڈ ڈیجیٹل کرنسی کے طور پر سامنے آئی۔ “ساتوشی ناکاموتو ” نامی ایک صاحب / صاحبہ یا گروپ نے اسی ڈیجیٹل کرنسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تفصیلی پیپر شائع کیا اور کچھ ہی دن میں بٹ کوائن سامنے آیا۔
2007 سے بٹ کوائن کو لوگوں نے سنجیدگی سے لینا شروع کردیا۔ آج سب سے زیادہ کامیاب ڈیجیٹل کرنسی یعنی 1 بٹ کوائن 4000 پاﺅنڈ سے زیادہ کا ہے۔ دنیا میں ایک ہزار سے زیادہ کرپٹو کرنسیز ٹریڈنگ کےلئے موجود ہیں۔ اس مارکیٹ کی سرمایہ کاری 100 بلین ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
مغربی دنیا میں رہنے والے دوست یہ بات جانتے ہیں کہ آن لائن شاپنگ کا رجحان پچھلے پانچ سال میں کس قدر بڑھ چکا ہے۔کرپٹو کرنسی اسی طرح استعمال ہوتی ہے جس طرح آپ پے پال (PayPal) یا کریڈٹ کارڈ سے آن لائن شاپنگ کرتے ہیں۔
کچھ بڑی آن لائن کمپنیز نے اب کرپٹو کرنسی قبول کرنا شروع کردی ہے۔ امریکہ کی مشہور ٹریول ویب سائٹ “ایکسپیڈیا” اب بٹ کوائن قبول کرتی ہے ، یعنی آپ اپنی اگلی چھٹیاں بٹ کوائن کے ذریعے بک کرسکتے ہیں۔ ویب سائٹ آپ کی بٹ کوائن ادائیگی کو قبول کرلیتی ہے اور باآسانی اسے ڈالر میں تبدیل کردیتی ہے۔
یہاں یہ بتانا بے حد ضروری ہے کہ بٹ کوائن کا کوئی “مالک یا اونر ” نہیں ہے۔ یہ کرنسی “ریگولیٹڈ ” بھی نہیں ہے۔ یہ کرنسی ایک دوست سے دوسرے دوست تک کسی بینک یا انسٹی ٹیوشن کے عمل دخل کے بغیر منتقل کی جاسکتی ہے ، یعنی باقاعدگی سے کوئی ٹریس نہیں کرسکتا کیونکہ یہ کرنسی ملکوں کے قوانین اور اکنامکس کے کئی اصولوں سے مبرا ہے۔
یہ کرنسی انٹرنیٹ کی طرح ڈی سینٹرلائزڈ ہے یعنی جیسے انٹرنیٹ کا کوئی دیس نہیں ہے اس کرنسی کا بھی کوئی وطن نہیں ہے۔ یہ کرنسی صرف اس لئے آج تک زندہ ہے کیونکہ کروڑوں کمپیوٹر ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔
کیا یہ پیسے چوری ہوسکتے ہیں؟
یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کا جواب ہے، جی ہاں۔ یہ پیسے بھی چوری ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ کے بٹ کوائن والٹ کی اسناد چوری ہوگئی تو سمجھیں بٹ کوائن بھی گئے۔ ” بٹ کوائن والٹ ” ایک بٹوا ہے جس میں آپ اپنے بٹ کوائن محفوظ رکھتے ہیں۔ ہر بٹوے کا ایک ایڈریس ہوتا ہے جو کہ حروف تہجی اور نمبروں (ایلفابیٹس اینڈ نمبرز) کا ایک مجموعہ ہوتا ہے۔ اس بٹوے کو استعمال کرنے کےلئے آپ کے پاس ایک ’کی‘ یعنی چابی ہونا ضروری ہے۔یہ پرائیویٹ ’چابی‘ ایک پاسورڈ ہے جو آپ خود منتخب نہیں کرسکتے۔ آپ کی چابی آپ کے بٹوے کے اڈریس سے ماخوذ ایک خاص ایلگوریتھم (algorithm) ہے جو آپ خود بھی نہیں جان سکتے۔اگر آپ کبھی بٹوے کا ایڈریس بھول بھی گئے تو آپ کی چابی سے آپ کے سارے اگلے پچھلے والٹ یعنی بٹوے کھولے جاسکتے ہیں۔ یوں کہیے آپ بیوی کو بتائے بغیر اَن گنت بٹوے (والٹ ) رکھ سکتے ہیں مگر آپ کی یہ چابی کسی کے ہاتھ لگ گئی تو آپ اپنی ڈیجیٹل کرنسی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
ہر طرح کی سرمایہ کاری میں خطرہ ہوتا ہے مگر کرپٹو کرنسی کا موازنہ اگر روایتی سرمایہ کاری سے کیا جائے جیسے جائیداد اور اسٹاکس تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کرپٹو کرنسی کو زیادہ خطرہ لاحق ہو گا کیونکہ بہت نئی ہے اور فطراً زیادہ رسکی ہے۔ہندوستان اور چائنا کی حکومتوں نے بھی لوگوں کو حال ہی میں برطانیہ کے ایف سی اے سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔یعنی مارکیٹ میں جعلی ڈیجیٹل کرنسی بھی مل رہی ہے اور لوگ باآ سا نی بیوقوف بن رہے ہیں۔
کیا آپ کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنا چاہیے ؟
اس کےلئے آپ کو ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے ملک کے قوانین کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کسی ماہر سے ملنے کی ضرورت ہے جو آپ
کو اس کرنسی میں سرمایہ کاری کے منفی اور مثبت عناصر کے بارے میں صحیح سے سمجھا سکے۔ فی الحال میں نے کل 300 پاو¿نڈ کی سرمایہ کاری کر ر کھی ہے اگر اگلے سال تک یہ پیسے د±گنے ہوگئے تو میں ایک دوست سے لگائی گئی شرط ہار جاو¿ں گا اور آدھے پیسے مجھے اپنے ایک دوست کو د ینا ہوں گے جو شرط جیت جائے گا۔ جعلی کرپٹو کرنسی اور لالچی دوستوں سے ہوشیار رہیے یہی آپ کےلئے بہتر ہے۔
لکھاری حیدر جناح برطانیہ میں ایک بینکر ہیں۔

فرسٹ اینول اوبور ڈائریکٹ بائنگ”ٹریڈ فیئر“جاری

رپورٹ:۔۔۔ پاکستان آن لائن ٹریڈرز ۔۔۔
پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد ہر گزرتے دن کےساتھ دونوں برادر ہمسایہ ممالک کے تجارتی تعلقات مزید بہتر ہو رہے ہیں جن کے ثمرات پاکستانی عوام کو بھی ملنا شروع ہو گئے ہیں اور پاکستانی مارکیٹوں میں چین کی بنائی ہوئی بیشتر مصنوعات بھی سستے داموں میں آنے لگی ہیں۔اسی سلسلے میں ایکسپو سنٹر لاہور میں ’فرسٹ انیول اوبور ڈائریکٹ بائنگ ٹریڈ فیئر‘کے نام سے ایک نمائش جاری ہے جس میں چین کی 80کمپنیوں نے اپنی مصنوعات نمائش کےلئے رکھی ہیں۔ان اشیا میں عام لوگوں کی بنیادی ضروریات سے لے کر گاڑیوں تک بہت سی چیزیں رکھی گئی ہیں جن کی ضرورت مارکیٹ میں موجود ہے۔ان اشیا کو مقامی لوگ براہ راست خرید سکتے ہیں۔نمائش میں موجود چینی کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اپنی مصنوعات کی نمائش کر کے انہیں بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے کیونکہ یہ کاروباری حضرات کےلئے بہت ہی دلکش مارکیٹ ہے،پاکستان میں انکی مصنوعات کو بہت اچھا رسپانس ملا ہے اور وہ اپنی اشیا کو یہاںپروموٹ کر کے بہت خوشی محسوس کررہے ہیں، انہوں نے گرمجوشی سے استقبال کرنے پر بھی پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

گریٹ آن لائن شاپنگ میلہ‘ 67فیصد تک رعایت حاصل کریں

رپورٹ :۔۔۔پاکستان آن لائن ٹریڈز۔۔۔
پاکستان کی سب سے بڑی آن لائن مارکیٹ پلیس ’دراز ڈاٹ پی کے (Daraz.pk)فخریہ طور پر ’گریٹ آن لائن شاپنگ میلے‘ کا انعقاد کرنے جا رہی ہے۔ یہ گریٹ آن لائن شاپنگ میلہ گروپ ایم (GroupM)کے اشتراک سے شہریوں، ٹیکنالوجی اور شاپنگ کو ایک کثیرالجہت ایونٹ میں سمونے کےلئے منعقد کیا جا رہا ہے۔ ای کامرس کی دنیا کی لیڈر ہونے کے ناطے ’دراز‘ اس میلے میں متاثرکن ڈیلز ، فلیش سیلز اوراشیاءپر 67فیصد سے زائد رعایت دینے جا رہی ہے۔یہ گریٹ آن لائن شاپنگ میلہ ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ اور ای کامرس کی دنیا میں نیا اور اہم سنگ میل ثابت ہو گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں یونی لیور، نیسلے، ایل اورئیل، پیپسی، شیورون، ڈبلیو بی ہیمنی اور دیگر سپانسرز کی طرف سے حیران کن آفرز پیش کی جائیں گی۔ میلے میں کریم، فوڈ پانڈا، پاک وہیلز، جواگو، پنک پیکسی، فائنڈ مائی ڈاکٹر اور پیزا ہٹ کا اشتراک بھی شامل ہو گا۔انٹرنیٹ کلچر اور آن لائن شاپنگ کے مختلف ذرائع سے لطف اندو ز ہونا لوگوں کےلئے خوشی، آسانی اور دوسرے لوگوں سے ربط کا باعث بنتا ہے۔ یہ میلہ ای کامرس کے اس کردار کو تسلیم کرنے کےلئے منعقد کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے ای کامرس لوگوں میں مستقل خوشیاں بانٹ رہی ہے۔ میلے میں مالیاتی اداروں، میڈیا، ٹیلی کام کمپنیوں، چو ٹی کے برانڈز، فیشن اور مختلف ایپلی کیشنز سمیت پورے ایکوسسٹم میں موجود پارٹنرز مل کر کام کریں گے تاکہ لوگوں کی زندگیوں پر ای کا مر س کے اثرات کو مزید گہرا کیا جا سکے۔دراز کا ڈ یجیٹل مارکیٹنگ لیڈر گروپ ایم کےساتھ اشتراک ایڈورٹائزرز اور دیگر متعلقہ شر ا کت دار و ں کےلئے خصوصی کشش کا باعث بنے گا۔دراز کا ”گریٹ آن لائن شاپنگ میلہ چوٹی کے برانڈز، بشمول فیس بک اور گوگل ایڈورٹائزنگ سالوشنز، کو ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں مزید سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے میں مددگار ثابت ہو گاجبکہ بڑے برانڈز کو ایک موقع دے گا کہ وہ آن لائن ٹریڈ کے ان میدانوں کا تجربہ کر سکیں اورای کامرس کی دنیا میں اپنی کاوشوں کا اندازہ لگا سکیں۔دراز ڈاٹ پی کے ماضی میں بھی اپنی کوشش اور تجربے سے لاکھوں کی تعداد میں صارفین کو یکجا کرنے کی صلاحیت کا لوہا منوا چکی ہے۔ دراز کے ’بلیک فرائی ڈے‘ ، موبائل ویک، اور یوم آزادی سیل اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں جن میں خریداروں کی اوسط لاکھوں میں رہی اور فروخت کنندگان کی ریکارڈ مصنوعات فروخت ہوئیں۔گریٹ آن لائن شاپنگ میلا 15ستمبر سے شروع ہو گا اور 21ستمبر تک جاری رہے گا۔ پہلے دن فونز اور ٹیبلیٹس، دوسرے دن بچوں سے متعلق اور گھریلواستعمال کی اشیاء، تیسرے دن ٹی وی اوردیگر الیکٹرانک اشیاء، چوتھے دن اپلائنسز، پانچویں دن مردوخواتین مردوخواتین کے فیشن سے اور چھٹے دن بیوٹی اور صحت سے متعلقہ اشیاءفروخت کےلئے پیش کی جائیں گی جبکہ میلے کے ساتویں اور آخری روز روزمرہ استعمال ، سفر، کھیل سے متعلق اشیاءاور گاڑیاں فروخت ہوں گی۔ ان تمام دنوں میں چوٹی کے متعلقہ برانڈز میلے میں شریک ہوں گے اور صارفین کو67فیصد تک کی بھاری رعایت پر اپنی مصنوعات آفر کریں گے۔

دنیا بھر میں سر فہرست ڈیجیٹل (کرپٹو) کرنسیاں

٭ بٹ کوائن
بٹ کوائن رقم کی ادائیگی کےلئے دنیا کا سب سے منفرد ڈیجیٹل کرنسی کا نظام ہے۔ یہ پیسوں کی منتقلی اور وصولی کا دنیا کا پہلا ڈی سینٹرلائزڈ ”پیر ٹو پیر“ نیٹ ورک ہے، جو استعمال کنندہ کنٹرول کرتا ہے، جس کےلئے اسے کسی سینٹرل اتھارٹی یا مڈل مین کی ضرورت نہیں پڑتی۔ استعمال کنندہ کے نزدیک بٹ کوائن انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کے لیے نقد رقم کی طرح ہے۔ بٹ کوائن کی ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ سسٹم میں صرف دو کروڑ دس لاکھ بٹ کوائن ہی تخلیق کیے جاسکیں گے۔ اب تک ایک کروڑ دس لاکھ بٹ کوائن آچکے ہیں۔ بٹ کوائنز کو 8 ڈیسی مل (0.000 000 01 BTC) میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، مستقبل میں ضرورت پیش آنے پر اسے مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی بڑھتی ہوئی طلب اور کم ہوتی رسد کی وجہ سے اگلے پانچ سالوں میں اس کی مالیت موجودہ مالیت سے کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
٭ ایتھریم
یہ کرپٹو کرنسی کا پیر ٹو پیر اسمارٹ کونٹیکٹ پر مشتمل ایک ڈی سینٹرالائزڈ پلیٹ فارم ہے۔ اسے 2015 میں ویٹالک بٹرن نے ’نیکسٹ جنریشن کرپٹوکرنسی اینڈ ڈی سینٹرالائزڈ ایپلی کیشن پلیٹ فارم‘ کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ استعمال میں آسان اور زیادہ تر جگہ پر قابل قبول ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دو سال کے مختصر عرصے میں ایک ایتھریم کی قیمت 265 ڈالر کے مساوی
ہوچکی ہے۔
٭لٹ کوائن
لٹ کوائن کو اکتوبر 2011 میں جاری کیا گیا۔ اسے گوگل کے سابق ملازم چارلس لی نے بٹ کوائن کے متبادل کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ لٹ کوائن کو دیگر کرپٹو کرنسی کی طرح مائئنگ کے ذریعے حاصل کر کے خریدو فروخت اور خدمات حاصل کرنے کے لیے نقد رقم کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسے استعمال کرنے اور مائننگ کا طریقہ بھی کافی حد تک بٹ کوائن سے مماثلث رکھتا ہے۔ اس وقت ایک لٹ کوائن کی مالیت 45ڈالر ہے۔ اس وقت ایک کروڑ اسی لاکھ لٹ کوائن زیرگردش ہیں۔
٭زی کیش
زی کیش ایک ڈی سینٹرالائزڈ اور اوپن سورس پر مبنی کرپٹو کرنسی ہے، جسے 2016 میں متعارف کرایا گیا۔ زی کیش کی مقبولیت کی اہم وجہ اس کی منتخب شفاف ٹرانزیکشنز ہیں۔ زی کیش کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے استعمال کنندہ کی نجی معلومات کو محفوظ رکھتے ہوئے ہر بلاک چین میں ہونے والے ہر لین دین کے لیے اضافی سیکیوریٹی کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ اس کرپٹو کرنسی میں بھیجنے اور وصول کرنے کے ساتھ ساتھ بھیجی گئی تمام رقوم کی تفصیلات خفیہ رکھی جاتی ہیں۔ بٹ کوائن سے مماثل لیکن اس سے زیادہ محفوظ ہونے کی وجہ سے اس کی قدر چند ماہ کے عرصے میں ہی دو سو ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔
٭ڈیش
ڈیجیٹل کیش کے مخفف ڈیش نام کی اس کرپٹو کرنسی کو 2014 میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس کرنسی کو ڈارک کوائن کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا، جو معلومات خفیہ رکھنے کی اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ڈارک ویب سائٹس (ایسی ویب سائٹس جو سرچ انجن کی نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے، اسلحہ، منشیات، پورنو گرافی اور اس نوعیت کی دیگر خدمات فراہم کرتی ہیں) استعمال کرنے والوں کی اولین ترجیح بن چکی تھی۔ اس وقت مارکیٹ میں سات کروڑ ستر لاکھ ڈیش زیرگردش ہیں، جب کہ اس کی مالیت 196ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
کرپٹو کرنسی کے نام پر فراڈ!
کرپٹو کرنسی دنیا بھر میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے، لیکن اب بھی عوام کی اکثریت اس کے بارے میں اور اس کے ذریعے خرید و فروخت کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔ اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاطر اور مفاد پرست عناصر سادہ لوح افراد کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ ان ممالک میں بنگلادیش، انڈیا اور پاکستان سرفہرست ہیں جہاں جعل ساز لوگوں کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے نام پر بے وقوف بنا کر انہیں زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ کرپٹو کرنسی کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ کمی بھی ایک دم ہی ہوتی ہے اور یہ کام ایسا ہے جس کے لیے انٹرنیٹ اور آن لائن فاریکس مارکیٹ کی ابتدائی معلومات ہونا ضروری ہے۔ بہت سی ویب سائٹس آپ کو ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتی نظر آئیں گی، لیکن سوائے چند ایک کے ساری کمپنیاں آپ سے ڈالر، پاﺅنڈ، پاکستانی اور انڈین کرنسی میں رقوم وصول کر کے بھاگ جاتی ہیں۔ بٹ کوائن، لٹ کوائن، ایتھریم ، رپل، ڈوگ کوائن اور دیگر
سیکڑوں کرپٹو کرنسیز کی معلومات http://www.coinmarketcap.com سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

کرپٹو کرنسی کس نے ایجاد کی؟

دنیا کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی کو ایک نظریے ”کرپٹو کرنسی“ کے تحت استعمال کیا گیا، جسے 1998میں پہلی بار ”Wei Dai“ نے اپنی cypherpunks (ایسا فرد جو کمپیوٹر نیٹ ورک پر اپنی پرائیویسی کو خصوصاً حکومتی اتھارٹیز کی دسترس سے دور رکھتے ہوئے رسائی حاصل کر ے) میلنگ لسٹ میں وضع کیا، جس میں اس نے پیسوں کو ایک ایسی نئی شکل میں ڈھالنے کی تجویز پیش کی، جس کی تشکیل اور منتقلی مرکزی حکام کے بجائے cryptography (رمزنویسی، فنِ تحریر یا خفیہ کوڈز کو حل کرنا) کے طریقہ کار پر مشتمل ہو۔ اس کے کچھ عرصے بعد ایک امر یکی رمز نویس نک سابو نے بٹ گولڈ کے نام سے ایک کرنسی تخلیق کی۔ یہ ایک برقی کرنسی کا نظام تھا۔ دنیا کی پہلی ڈی سینٹرلائزڈ کرپٹو کرنسی کو ا یک ڈیولپر ستوشی ناکاموتو نے تخلیق کیا تھا، پہلے بٹ کوائن کی تفصیلات اور اس کے حق میں دلائل 2009 میں ستوشی ناکاموٹو کی cryptography میلنگ لسٹ میں شائع ہوئے۔ 2010 ءکے اواخر میں ستوشی نے مزید تفصیلات کا انکشاف کیے بنا اس پروجیکٹ کو چھوڑ دیا، لیکن اس کی ای میل فہرست میں شامل کئی ڈویلپرز نے بٹ کوائن پراجیکٹ پر کام شروع کردیا۔ ستوشی کی گم نامی نے کئی افراد میں بلاجواز تحفظات پیدا کردیے اور ان میں سے متعدد کا تعلق بٹ کوائن کی ”اوپن سورس“ ساخت کے حوالے سے غلط فہمیوں سے تھا۔ اب بٹ کوائن پروٹوکول اور سافٹ ویئر سب کے سامنے شائع ہوچکا ہے اور دنیا کا کوئی بھی ڈویلپر اس کوڈ کا جائزہ اور اپنا ترمیم شدہ بٹ کوائن سافٹ ویئر کا نیا ورڑن بالکل اسی طرح بناسکتا ہے، جیسے موجودہ ڈویلپرز۔ ستوشی کا اثر ان تبدیلیوں پر بہت محدود تھا، جنہیں دوسروں نے حاصل کرلیا اور ستوشی اسے کنٹرول نہیں کرسکا۔ لٹ کوائن، ایتھریم اور بٹ کوائن آن لائن بینکنگ نیٹ ورکس اور کریڈٹ کارڈ ز کی طرح
ورچوئل ہے۔ انہیں کرنسی کی دوسری اقسام کی طرح آن لائن شاپنگ اور فزیکل اسٹورز پر خریداری کےلئے استعمال کیا جاسکتا ہے، جبکہ اسے منی چینجر سے ایکس چینچ کروا کر کاغذی کرنسی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم زیادہ تر لوگ موبائل فون کے ذریعے ادائیگی زیادہ سہل سمجھتے ہیں۔ تاہم کرپٹو کرنسی کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا ابھی بعید از قیاس ہے۔ ڈیجیٹل کوائنز/کرنسیز کے کاروبار کو کچھ ملکوں میں غیرقانونی قرار دیا گیا ہے تو کچھ ملکوں میں اس کو قانونی قرار دے کر ”کرپٹو کرنسی ایکسچینج“ کھولنے کےلئے لائسنس بھی جاری کیے جارہے ہیں۔
٭کوائن کیسے بنائے جاتے ہیں؟
نئے کوائنز ایک ڈی سینٹرالائز پروسیس ”مائننگ“ سے بنائے جاتے ہیں۔ اس طریقہ کار میں نیٹ ورک کےلئے خدمات سر انجام دینے والے افراد کو انعام کے طور پر کوائنز دیے جاتے ہیں۔ ان افراد کو ”مائنرز“ کہا جاتا ہے۔ یہ مائنرز ٹرانزیکشنز کو پروسیس کرنے اور اسپیشلائزڈ ہارڈ ویئرز استعمال کرتے ہوئے نیٹ ورک کو محفوظ بناتے ہوئے ایکسچینج میں نئی کرپٹو کرنسی کو جمع بھی کرتے ہیں۔ ان کوائنز کا پروٹوکول اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ نئے کوائن ایک فکسڈ ریٹ پر تخلیق ہوتے ہیں، جس نے کرپٹو کرنسی کو بہت مسابقت والا کاروبار بنادیا ہے۔ جب زیادہ مائنرزنیٹ ورک میں شامل ہوجاتے ہیں تو پھر انفرادی طور پر ہر کسی کا منافع کم ہوجاتا ہے اور کسی ڈویلپر یا مائنر کے پاس منافع میں اضافے کےلئے سسٹم میں ردوبدل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سسٹم کے معیار سے مطابقت نہ کرنےوالے ڈیجیٹل کوائنز نوڈ کو دنیا بھر میں مسترد کردیا جا تا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت کا انحصار معاشیات کے قانون ”طلب“ اور ”رسد“ پر ہے۔

کرپٹو کرنسی کیا ہے؟

ڈیجیٹل کرنسی کی ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ کوئی بھی اس کا مالک نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کے پس منظر میں کام کرنے والی ٹیکنالوجی کی ملکیت کا دعوے دار ہے۔ کرپٹو کرنسی کو دنیا بھر میں موجود اس کے استعمال کنندہ ہی کنٹرول کرتے ہیں، ڈویلپرز اس سافٹ ویئر کو مزید بہتر تو بنا سکتے ہیں، لیکن وہ اس کرنسی کے پروٹوکول میں تبدیلی نہیں کرسکتے، کیونکہ ہر استعمال کنندہ کو اپنی مرضی کا سافٹ ویئر اور ورڑن استعمال کر نے کی مکمل آزادی ہے۔ ایک دوسرے سے مطابقت رکھنے کےلئے تمام استعمال کنندگان کو ایک جیسے اصول پر پورا اترنے والے سافٹ ویئر استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کرپٹو کرنسی اسی صورت میں صحیح کام کرتی ہے جب تمام استعمال کنندگان کے درمیان مکمل مطابقت ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام استعمال کنندہ اور ڈویلپرز اس مطابقت کو تحفظ دینے کےلئے سخت محنت کرتے ہیں۔
٭کرپٹو کرنسی کس طرح کام کرتی ہے؟
ایک استعمال کنندہ کے نقطہ نظر سے کرپٹو کرنسی ایک ایسی موبائل ایپلی کیشن اور کمپیوٹر پروگرام سے زیادہ کچھ نہیں جو ذاتی کرپٹوکوائن والیٹ فر اہم کرتا ہے اور استعمال کنندہ اس کے ذریعے کوائن (ڈیجیٹل کرنسی) بھیجتا اور وصول کرتا ہے، لیکن استعمال کنندہ کے نقطہ نظر کے برعکس ا س کا پس منظر دیکھا جائے تو ڈیجیٹل کرنسی کا کوائن نیٹ ورک ایک عوامی لیجر (بہی کھاتا) میں شریک کرتا ہے جو ”بلاک چین“ کہلاتا ہے۔ اس لیجر میں تمام ٹرانزیکشن کی تفصیلات موجود ہوتی ہیں اور ہر ٹرانزیکشن کی درستی کےلئے استعمال کنندہ کے کمپیوٹر کی تصدیق کی جاتی ہے۔ کسی جعل سازی سے بچنے کےلئے ہر ٹرانزیکشن کو ڈیجیٹل دستخط سے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ کمپیوٹر یا مخصوص ہارڈ ویئرز کے ذریعے یہ سروس فر ا ہم کرنے پر بطور انعام کوائن بھی دیے جاتے ہیں، جسے اکثر لوگ ”مائننگ“ کہتے ہیں۔
٭کرپٹو کرنسی سے ادائیگی کا طریقہ کار:
ڈیجیٹل کرنسی سے خریداری کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے زیادہ سہل ہے اور اسے کسی بھی مرچنٹ اکاﺅنٹ کے بغیر وصول کیا جاسکتا ہے۔ رقوم کی ادائیگی والیٹ ایپلی کیشن کے ذریعے کی جاتی ہے اور یہ ایپلی کیشن آپ اپنے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون سے بھی استعمال کر سکتے ہیں، پیسے بھیجنے کےلئے وصول کنندہ کا ایڈریس اور ادا کی جانےوالی رقم لکھ کر Send کا بٹن دبا دیں۔ وصول کنندہ کا ایڈ ریس لکھنے کا طریقہ مزید سہل بنانے کےلئے اسمارٹ فون کی مدد سے QRکوڈ (ایڈریس، فون نمبرز، ای میل ایڈریس اور ویب سائٹ کی معلومات پر مبنی مخصوص کوڈ جو سیاہ اور سفید چوکور خانوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اسکین کرنے پر تمام معلومات فون میں منتقل کردیتا ہے) اسکین کرلیں۔ اس طریقہ کار کے ذریعے دنیا بھر میں کسی بھی جگہ کسی بھی وقت رقوم کی منتقلی اور وصولی فوراً ہوجاتی ہے۔ یہ طریقہ کار کسی سرحد، کسی بینک ہالیڈے اور حکومتی پالیسیوں کی قید سے آزاد ہے۔
کرپٹو کرنسی استعمال کنندہ کو اپنی رقم پر مکمل کنٹرول دیتی ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی سے کی جانے والی ادائیگیوں پر کوئی فیس نہیں لی جاتی، تاہم بٹ
کوائنز کو کاغذی نوٹوں میں تبدیل کروانے یا فروخت کنندہ کے بینک اکاﺅنٹ میں براہ راست جمع کرانے پر معمولی فیس لی جاتی ہے، جو کہ Pay Pal اور کریڈٹ کارڈ نیٹ ورکس کی نسبت بہت کم ہوتی ہے۔ کرپٹوکرنسی سے کی جانےوالی ٹرانزیکشنز محفوظ، ناقابل واپسی ہیں اور ان میں صارف کی حساس اور نجی معلومات بھی شامل نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری مقاصد کےلئے یہ ایک محفوظ اور بھروسے کے قابل کرنسی سمجھی جا رہی ہے اور تجارت پیشہ افراد کریڈٹ کارڈ سے ہونےوالے فراڈ سے بھی ممکنہ حد تک بچ سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال کنندہ کو اپنی ٹرانزیکشن پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے اور فروخت کنندہ کےلئے کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادائیگی کرنےوالے صارف سے فیس کی مد میں اضافی فیس وصول کرنا ناممکن ہے۔
٭ کرپٹو کرنسی کے نقصانات:
کرپٹو کرنسی مکمل طور پر اوپن سورس اور ڈی سینٹرلائزڈ ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کسی بھی وقت مکمل سورس کوڈ پر قابض ہوکر دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو ان کی متاع حیات سے محروم کر سکتا ہے۔ تاہم ایسا ہونا بظاہر ناممکن ہے، کیونکہ یہ مکمل نظام ”cryptographic algorithms“ پر مشتمل ہے اور کوئی فرد یا تنظیم ڈیجیٹل کرنسی کے چین بلاک پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کرسکتی۔
ڈیجیٹل کرنسی کے سب سے بڑے نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ زیادہ تر لوگ ابھی تک اس بارے میں بہت کچھ نہیں جانتے۔ کرپٹو کرنسی کا ایک بڑا نقصان اس کی مالیت میں تیزی کےساتھ ہونےوالا اتار چڑھاو ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر ڈیجیٹل کرنسی وصول کرنےوالے چھوٹے تاجروں اور کاروباری اداروں پر پڑتا ہے۔

کرپٹو کرنسی ۔۔۔؟

کسی بھی ملک کی معیشت میں کرنسی کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔زمانہ قدیم سے ہی اناج، نمک، زعفران اور کئی مسالا جات کو لین دین کےلئے بطور کرنسی استعمال کیا گیا۔ ایک ہزار سال قبل مسیح چین میں کانسی کو سکوں کی شکل میں ڈھال کر دنیا کی پہلی باقاعدہ کرنسی کے طور پر استعمال شر و ع کیا گیا۔ کرنسی کو قانونی شکل اور اس کی قیمت کو یکساں رکھنے کےلئے سونے، چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں سے بنے سکوں کو کئی صدیوں تک پیسوں کے لین دین کےلئے استعمال کیا جاتا رہا۔ ساتویں صدی میں چینی تہذیب ”تنگ“ کے تاجروں نے سکوں کے بوجھ سے نجات کےلئے کاغذ سے بنی کرنسی بنانے پر کام شروع کردیا تھا اور گیارہویں صدی کے آغاز میں چینی تہذیب ”سونگ“ میں پہلی بار کاغذ سے بنی کرنسی کا ا ستعمال شروع کیا گیا۔
تیرہویں صدی میں مارکو پولو اور ولیم ربرک کی بدولت کاغذی کرنسی یورپ میں متعارف ہوئی۔ مارکو پولو نے بھی اپنی کتاب ”دی ٹریولز آف مارکو پولو“ میں یو آن سلطنت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے،”یہ لوگ اپنے ملک میں درخت کی چھال سے بنے کاغذ سے مشابہہ ٹکڑوں کو لین دین کےلئے بطور پیسہ استعمال کرتے ہیں۔
وقت کےساتھ ساتھ کاغذی نوٹوں کی شکل اور معیار میں بہتری آتی گئی اس کے بعد کریڈٹ کارڈ متعارف کرائے گئے جنہیں پلاسٹک کرنسی کا نام دیا گیا۔ انٹرنیٹ کی آمد کے بعد پیسوں کے لین دین کےلئے ”ای کرنسی“ وجود میں لائی گئی، جس نے صارفین کےلئے انٹرنیٹ پر خریداری کو مز ید سہل بنادیا، لیکن چند سال قبل کرپٹو کرنسی متعارف کرائی گئی۔
کرپٹو کرنسی کو متبادل یا غیرمرئی کرنسی بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں متعارف کرائی گئی پہلی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن تھی۔ اس کے بعد بہت سی ڈ یجیٹل کرنسیز مارکیٹ میں آئیں، جن کی قیمتوں میں پچھلے دو تین سال میں بہت تیزی آئی ہے اور ان کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد مختصر عرصے میں ارب پتی، کروڑ پتی بن چکے ہیں۔ ڈیجیٹل کرنسی میں متعارف ہونےوالا پہلا کوائن، بٹ کوائن اس وقت اپنی انتہائی بلند ترین قیمت 3 ہزار248 ڈالر فی کوائن پر فروخت ہورہا ہے، پاکستانی کرنسی میں اس کی مالیت تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے بنتی ہے، جبکہ 13ءمیں اس کی فی کوائن قیمت 300 امریکی ڈالر تھی۔
بٹ کوائن کی قدر میں تیزی سے ہوتے اضافے کے بعد دنیا بھر میں بہت سی کرپٹو کرنسی متعارف کرائی گئیں، اس وقت دنیا بھر میں تین ہزار سے زائد کرپٹو کرنسیز گردش میں ہیں، جن میں ہر ایک کی مالیت الگ الگ ہے۔ کسی ایک ملک کی اجارہ داری نہ ہونے کی وجہ سے ڈیجیٹل کرنسیز کی مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔
جہاں ایک طرف منشیات فروشی، غیرقانونی اسلحے کی تجارت، جوئے کے دھندے میں ملوث اور منی لانڈرنگ کرنےوالے افراد کےلئے ڈیجیٹل کرنسی بہت قابلِ اعتماد سمجھی جا رہی ہے تو دوسری طرف کرپٹو کرنسی کے لین دین میں انفرادی اور کاروباری سطح پر تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی لین دین کرنےوالے کاروبار میں ریسٹورینٹ، اپارٹمنٹس کی خریدوفروخت، لا فرمز، اور آن لائن خدمات فراہم کرنےوالی مشہور کمپنیاں Namecheap, WordPress,، Reddit اور Flattr شامل ہیں۔ ڈیجیٹل کرنسی میں سب سے مقبول بٹ کوائن کی مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور روزانہ لاکھوں ڈالر مالیت کے بٹ کوائنز کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔

Attention Online Traders

Get Free Online Promotion Opportunity for Life ,

Friends, As you know that All Online Businesses are nothing without traffic, but we give all of you the free traffic opportunity, Just Join Pakistan Online Traders and put your Products, Links and we promote them Free for life,

CLICK to JOIN

Your’s Well WisherT.H.Babar

Owner:…  Pakistan Online Traders

Facebook Contact