۔۔۔:انٹرپرینیور شپ کی اہمیت:۔۔۔

    انٹرپرینیور کا اصل اردو ترجمہ ”کاروباری شخص“ ہے۔ ویسے تو انٹرپرینیور شپ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ”انٹرپرینیور شپ “ کو پاکستان کی تمام نجی و سرکاری یونیورسٹیز میں ایک کورس کا درجہ حاصل ہے اور انٹرپرینیور شپ کا مضمون بطور خاص ڈگری پروگرامز میں پڑھایا جا رہا ہے، جبکہ بعض یونیورسٹیز میں ”ایم بی اے“ میں اس مضمون کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، جس سے بڑے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

۔۔۔:انٹرپرینیور شپ ایک اثاثہ ہے:۔۔۔

    انٹرپرینیور شپ ایک اثاثہ ہے جبکہ ”نوکری“ آپ کی ذات خاص تک محدود ہے۔ جو لوگ نوکری کرتے ہیں، ان کی آمدنی کےلئے ان کا خود حاضر ہونا لازمی شرط ہے۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ اپنی جگہ کسی اور شخص کو نوکری پر بھیج دیں۔ یہ نوکری آپ نے خود ہی کرنی ہے۔ اگر کسی وجہ سے نوکری کرنےوالا شخص اس دنیا سے رخصت ہوجائے تو اس کے خاندان کو نوکری سے ملنے والی مراعات ختم ہو جاتی ہیں، یا انتہائی کم یعنی نہ ہونے کے برابر ملتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں انٹرپرینیور شپ آپ کا اور آپ کے خاندان کا ایک اثاثہ ہے، ایسا اثاثہ جس کو فروخت بھی کیا جاسکتا ہے۔ انٹرپرینیور شپ کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ چونکہ اس میں نوکریاں پیدا ہوتی ہیں، اس لیے آپ کو اپنی اولاد یا رشتے داروں کےلئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی، نہ آپ کو اپنے بیٹے یا بھائی وغیرہ کی نوکری کےلئے کسی کی منت سماجت کرنی پڑتی ہے۔ آپ اپنی اولاد یا رشتہ داروں کو اپنے ساتھ کام پر لگا سکتے ہیں، نیز کامیاب انٹرپرینیور کے اہل خانہ کو زندگی کی بنیادی ضروریات بہت آسانی سے میسر آجاتی ہیں۔

مہنگائی کا کوئی خوف نہیں
نوکری کرنےوالوں کی آمدنی چونکہ فکس ہوتی ہے، اس لیے جب بھی حکومت بجٹ کا اعلان کرتی ہے، یا غیر اعلانیہ مہنگائی کرتی ہے، تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے، خاص طور پر درمیانے طبقہ کو، چونکہ ان کی تنخواہ میں اضافہ تو سال کے بعد ہونا ہے۔ (یاد رہے کہ ہمارے ہاں کئی اداروں میں تنخواہوں میں اضافہ سالانہ کے بجائے تین چار سال کے بعد ہوتا ہے) جبکہ انٹرپرینیور طبقے کو مہنگائی اس طرح متاثر نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ انٹرپرینیور کے پاس اپنی آمدنی بڑھانے کے بے شمار مواقع موجود ہوتے ہیں۔

ترقی کی کوئی حد نہیں
انٹرپرینیور شپ میں میں ترقی کی کوئی حد نہیں۔ آپ اپنی سوچ اور محنت سے بہت آگے تک جاسکتے ہیں، لیکن نوکری میں ہر جگہ حدود و قیود ہیں۔ مثلاً آپ کی ترقی اور تنخواہ میں اضافہ ایک طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص کسی کالج/یونیورسٹی میں لیکچرر بھرتی ہو اور اگلے سال اس کالج میں پروفیسر، اس سے اگلے سال ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور اگلے سال پرنسپل/ ڈین وغیرہ بن جائے، بلکہ اگلی پوسٹ تک جانے کےلئے اسکو کافی سال انتظار کرنا ہوگا۔

۔۔۔:انٹرپرینیور شپ کی ضرورت:۔۔۔

پاکستانی معاشرہ میں بےروزگاری کی شرح کو کم کرنے کےلئے ہمیں انٹرپرینیور افراد کی ضرورت ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگرہم صرف بزنس، مینجمنٹ ،انجینئرنگ، کامرس یا کمپیوٹر سائنس کے ماہرین تیار کرتے جائیں گے، تو ان سب کو نوکری کہاں سے ملے گی؟
اگر ہماری یونیورسٹیاں صرف انجینئر پیدا کرنے کے بجائے ایک انٹرپرینیور انجینئرز تیار کریں تو اس سے ملک میں بےروزگاری کی شرح کمی ہوگی۔ کیونکہ وہ نوکریاں پیدا کریں گے۔

۔۔۔:ہمیں نوجوان میں بزنس کی خواہش پیدا کرنا ہوگی:۔۔۔

ہمارا نوجوان طبقہ بہت زیادہ ذہین ہے اور اس کے اندر بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک پاکستانی یوتھ کی تعریف کرتے ہیں، لیکن جس وجہ سے ہماری یوتھ مار کھا رہی ہے وہ اس کا درست سمت کی جانب سفر نہ کرنا ہے۔
ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو جو کام سمجھا دیا جائے وہ اس کام کو بہت اچھے طریقے سے مکمل کرتے ہیں۔ محنت، جانفشانی اور ذہانت میں پاکستانی یوتھ دنیا کے دوسرے ممالک کے نوجوانوں سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے۔
اب ہمارے نوجوانوں کو سوچنا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ ”انہوں نے اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنا ہے، کسی کی غلامی نہیں کرنی، ہر صورت آگے بڑھنا ہے، اپنی کمزوریاں کو کم کرنا ہے تاکہ کام کرنے کی صلاحیت اور طاقت میں اضافہ ہو، دنیا میں کوئی بڑا کام کرنا ہے، اپنے معاشرے کے کمزور طبقے کےلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہیں اور ان کی خوشی میں اضافہ کرنا ہے۔