پاکستان, آن لائن ٹریڈرز میں کئی گنا اضافہ

پی او ٹی (خصوصی رپورٹ)امسال اب تک 2018ءمیں دنیا میں ریٹیل فروخت کا 10 فیصد حصہ انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری پر مشتمل ہے۔یہ بات مارکیٹ ریسرچر کمپنی پرائس وا ٹر ہاﺅس” کوپر“ کے ’گلوبل کنزیومر انسائٹ سروے‘ برائےسال 2018 میں سامنے آئی ہے ،جس میں بتایا گیاہے کمپنی کی جا نب سے لگائے گئے تخمینے کے مطابق 2017 میں دنیا بھرمیں ای-کامرس(آن لائن ٹریڈ) کے ذریعے ہونےوالی فروخت 23 کھرب ار ب ڈالر ریکارڈ کی گئی جو 2016 کے مقابلے میں 24.8 فیصد زائد تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستان میں امسال جنوری تا مارچ گھر و ں سے کی جانےوالی آن لائن خریداری 4.4 ارب روپے رہی، اس بڑھتے ہوئے رجحان کی تصدیق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے بھی ہوئی ہے۔جس کے مطابق مالی سال 2018 کی دوسرے سہہ ماہی کے دوران آن لائن فروخت کنندگان کی تعداد 905 تھی جو تیسری سہہ ماہی میں اضافے کے بعد 1 ہزار 23 ہوگئی، مرکزی بینک کا کہنا ہے آمدنی میں اضافہ، مواصلاتی رابطوں کی بہتری، انٹرنیٹ تک رسائی اور آن لائن بینکنگ، پاکستان میں آن لائن ٹریڈ( ای-کامرس )صارفین کی تعداد میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے اطلاعات و مواصلات کی جانب سے اس ضمن میں لگائے گئے تخمینے کے مطابق انٹرنیٹ استعمال کرنےوالے 4 کروڑ 46 لاکھ فعال صارفین میں سے انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری کرنےوالوں کی تعداد 22 فیصد ہے، جو 4 سال قبل محض 2 فیصد تھی۔
مارکیٹنگ کنسلٹینسی فرم کیپاﺅس (Kepios) کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں اسوقت سوشل میڈیا استعمال کرنےوالے فعال افراد کی تعداد تقریباً ساڑھے 3 کروڑ اور انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری میں اضافے کے رجحان کا ایک بہت بڑا سبب سوشل میڈیا بھی ہے۔
دوسری جانب آن لائن ٹریڈرز ادارے بڑی کامیابی سے سوشل میڈیا کے استعمال سے فائدہ اٹھارہے ہیں جس میں کپڑوں کے برانڈ مثلاً ثنا سفیناز، کھاڈی وغیرہ سے لے کر آن لائن مارکیٹس جیسا کے دراز ڈاٹ پی کے، او ایل ایکس سمیت دیگر فروخت کنندگان کی ایک طویل فہر ست ہے۔اس سلسلے میں پاکستان میں صرف گزشتہ برس ہی بلیک فرائی ڈے نامی سیل میں آن لائن فروخت کے ادارے دراز نے فروخت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے 3 ارب روپے سے زائد کا کاروبار کیا۔
آن لائن ٹریڈ کے حوالے سے کی گئی ریسرچ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ’ انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری کرنےوالوں کے اعتماد میں قابل اطمینان اضافہ ہوا ہے جس کے باعث اب وہ کئی طرح کی مصنوعات آن لائن خریدتے ہیں۔آن لائن ٹریدرز(ای کامرس) کے سلسلے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جامع (آن لائن ٹریڈرز) ای کامرس پالیسی مرتب کی جائے جس کے ذریعے ادائیگی کے طریقہ کار کو آسان کیا جاسکے اور اس قسم کے کاروباری سیکٹر کے میں ہم آہنگ قواعد نافذ ہوسکیں۔

 

Advertisements

کرپٹو کرنسیوں کے استعمال سے انٹرنیٹ کو خطرہ

پاکستان آن لائن ٹریڈرز (خصوصی رپورٹ ) عالمی سیٹلمنٹ بینک نے متنبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسیز بشمول بٹ کوائن، کی نمو کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو انٹرنیٹ پر اس کا حد سے زیادہ غلبہ ہو جائے گا۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مرکزی بینکوں کے مرکزی مالیاتی ادارے بی آئی ا یس نے اپنی ویب سائٹ پر 24 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی ہے جس میں خبردار کیا گیاہے کہ کرپٹو کرنسی اس طرح قابلِ اعتبار نہیں جس طرح مروجہ کرنسی ہے۔اس کے علاوہ روایتی کرنسی اور ڈیجیٹل کرنسی میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ اس کی تعداد 2 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز نہیں کرسکتی، اور فی الحال ایک کروڑ 70 لاکھ بٹ کوائن مارکیٹ میں گردش کررہے ہیں۔
بی آئی ایس کی رپورٹ میں اس حوالے سے کہا گیاہے کہ اگر فرض کرلیا جائے کسی ملک کی مکمل آبادی ڈیجیٹل کرنسی جیسا کہ بٹ کوائن کا ا ستعما ل کرنے لگ جائے، تو چند دنوں میں ہی روایتی اسمارٹ فون سے استعمال ہونےوالے کھاتے گنجائش سے کہیں زیادہ بھر جائیں گے، جبکہ ایک عام ذاتی کمپیوٹر کے کھاتے کی گنجائش ختم ہونے میں ایک ہفتہ اور کسی انٹرنیٹ سرور کی گنجائش ختم ہونے میں مہینے لگیں گے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ گنجائش کی صلاحیت سے بڑھ کر پروسیسنگ کی صلاحیت کا ہے اور صرف سپر کمپیوٹر کے ذریعے ہی آنےوالی ٹرانزیکشن کی توثیق کی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ اس سے منسلک مواصلاتی رابطوں کے حجم کے باعث انٹرنیٹ رک سکتا ہے، بی آئی ایس کا کہنا ہے ا س کرنسی پر مکمل اعتماد کرنا مشکل ہے جبکہ اس سے قبل بی آئی ایس نے کرنسی میں دھوکہ دہی کے خطرے سے بھی خبردار کیا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ مروجہ ادائیگی کے نظام میں جب کسی فرد کی جانب سے ادائیگی کی جاتی ہے تو قومی ادائیگی کے نظام سے ہوتا ہوا یہ مرکزی بینک سے جا ملتا ہے، جسے منسوخ کیا جانا ممکن نہیں، جبکہ اس کے برعکس بغیر اجازت رائج کرپٹو کرنسی انفرادی ادائیگی کی ضمانت نہیں دیتی۔اس کےساتھ بی آئی ایس نے اس قسم کی کرنسی مثلاً بٹ کوائن کی غیر مستحکم مالیت کی بھی نشاندہی کی، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی کرنسی کے اجرا اور اس کو مستحکم رکھنے کےلئے کوئی مرکزی ادارہ موجود نہیں۔
بی آئی ایس کی رپورٹ میں کرپٹو کرنسیز کے استعمال پر خاص طور پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمایہ فراہم کرنے کے حوالے سے طویل مدتی ریگولیٹری کے قیام پر زور دیا گیا۔رپورٹ میں ’سلک روڈ‘ نامی بلیک مارکیٹ میں منشیات کی خرید و فرخت کےلئے خریداروں کی معلو مات خفیہ رکھتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال کی بھی نشاندہی کی، واضح رہے سلک روڈ نامی مارکیٹ ’ڈارک ویب‘ کے تحت کام کررہی تھی اور امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے اسے 2013 میں بند کردیا گیا تھا۔

 

موبائل سے تصاویر بنا کر کمانے کا طریقہ

(خصوصی رپورٹ،پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
آپ لازمی طور اپنے موبائل فون کو انتہائی قیمتی خیال کرتے ہونگے لیکن سچ یہ ہے کہ یہ آپ کی سوچ سے بھی کہیں بڑھ کر قیمتی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اسے استعمال کرکے گھر بیٹھے لاکھوں روپے کمائے جا سکتے ہیں۔ یہ کوئی جادو کا چکر نہیں بلکہ ایسا کام ہے جو اس وقت ہزاروں لوگ گھر بیٹھے یا چلتے پھرتے کر رہے ہیں۔ موبائل سے کمانے کےلئے یہ لوگ ”اسٹاک کیمو“ نامی ایپ ا ستعما ل کرتے ہیں جس کے ذریعے تصاویر آلمے کی سٹاک امیج ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ یہ تصاویر آن لائن فروخت کی جاتی ہیں یا اشتہا ر ا ت میں استعمال کی جاتی ہیں ۔ تصویر کے معیار اور اس میں دلچسپی کے عنصر کی بناءپراس کی قیمت کا تعین ہوتا ہے ، آ پ کے پاس بھی اگر آئی فو ن موجود ہے تو ضرور یہ ایپ ڈاﺅن لوڈ کریں اور اپنی بنائی تصاویر سے رقم کمائیں ، لوگ تو اپنے پالتو جانوروں، پھولوں، عما رتوں اور کھیتو ں کھلیانوں کی تصاویر سے بھی رقم کما رہے ہیں، یاد رہے یہ ایپ اینڈرائڈ صارفین کےلئے تاحال فراہم نہیں کی گئی۔

Are You Ready to get results & sales ?

    Imagine that your business will explode with this advertisement system : Targeted visitors Quality Advertising Million of impressions Sell Your Products Fast & Easy Get Massive Exposure Advertising That Delivers Results. Advertise Anything at one click submission. Your Advertising get real visitors and clicks Put your website and business in front of the thousands of potential buyers Advertising That Delivers Results! Get real visitors Advertise Your Site, Business, Service & So Much More!     Guaranteed Large Traffic. One Stop For All Your Advertising Needs. Start Promoting of Your business, website, blog, services or products Worldwide at one click submission.

Join to Start Journey to Success

ویب سائٹ کیلئے ٹریفک اور کمائی ایک ساتھ

(تحریر:۔۔۔رجا حیدر )
پاکستان آن لائن ٹریڈرز کی ٹیم ایک عرصہ سے اپنے قارئین اور بالخصوص آن لائن کاروربار کرنےوالوں کی یقینی کامیابی کیلئے یا انٹر نیٹ پر اپنا کاروبار شروع کرنے کی خواہش رکھنے والوں کی رہنمائی کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے ، کافی دوستوں کی جانب سے اس پریشانی کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ ہم آن لائن کاروربار کرتے ہیں جس کیلئے ہم نے ویب سائٹ بھی بنا رکھی ہیں تاہم ان پر ٹریفک ہی نہیں آتی یا بہت ہی کم ہے جس کی وجہ سے کوئی فائدہ نہیں مل رہا ، ایسا انتہائی آسان اور کم خرچ طریقہ بتائیں جس سے ہمارا مسئلہ حل ہو سکے ۔
یہ تو ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی کاروبار ہو بغیر گاہک کے کسی طور کامیاب نہیں ہو سکتا ، جبکہ آن لائن کاروربار کیلئے تو یہ اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ اپنے ایسے ہی دوستوں اور قارئین کیلئے ہم وہ طریقے یہاں بیان کرنے جا رہے ہیں جن پرعمل کر کے آپ نہ صرف اپنی ویب سائٹ پر بہترین ٹریفک لا سکتے ہیں بلکہ اس کےساتھ ہی اپنی آمدن حاصل کر سکتے ہیں ، تو بغیر کچھ خرچ کئے اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک فلو بڑھانے کےسا تھ ساتھ آمدن میں اضافہ کیلئے ہماری دی گئی ہدایات کے مطابق عمل کریں اور یقینی نتائج حاصل کریں ۔
دوستو:۔۔۔۔ویب سائٹ پر ٹریفک لانا واقعی ایک مشکل ترین مرحلہ ہے اگر کوئی یہ مرحلہ طے کر لے تو اس کی آن لائن کاروبار میں کامیابی یقینی ہے ، لیکن بہت سے افراد اس مرحلے ہی میں ناکامی کے باعث اپنی باقی ماندہ محنت بھی ترک کر کے اپنی انوسٹمنٹ تک ضائع کردیتے ہیں یا ترک کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں لیکن ہم ایسے دوستوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مایوس نہ ہوں بلکہ ہماری ٹیم کا حصہ بن کر اپنی کامیابی یقینی بنانے سمیت اپنے عزیزو اقارب ، دوستوں اودیگر جاننے والوں کو بھی پاکستان آن لائن ٹریڈرز کا ممبر بننے اور ہماری دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کی ترغیب دے کر ان کی مدد کریں
دنیا بھر کے ممالک سے اپنی مرضی کی بغیر رقم خرچ کئے اپنی ویب سائٹ کیلئے حقیقی ٹریفک اوراسکے ساتھ ساتھ آمدن حاصل کرنے کیلئے ۔۔۔۔۔(یہاںکلک کریں)۔۔۔۔۔

آن لائن روزگار، 10لاکھ افراد کیلئے قرض حسنہ پروگرام

(تحریر:ابورجاءحیدر)
جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گھر بیٹھے روزگار ، کاروباراور حصول تعلیم اب کوئی نئی بات نہیں رہی لیکن وطن عزیز اس میدان میں بھی سرکاری سطح پر انتہائی پیچھے ہے ، تاہم پنجاب حکومت نے اس ضمن میں تھوڑا بہت کام کیا ہے لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ رہے حالانکہ ہمارے حکمرانوں کو تو چاہیے تھا کہ وہ اس شعبہ میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ دیکھاتے اور ملک سے بےروز گاری کی خاتمہ کیلئے سعی کرتے لیکن ان کی اپنی ترجیحات ہیں جس کی وجہ سے وطن عزیز کے تعلیم یافتہ نوجوان اس اہم ترین سہولت سے نہ صر فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں بلکہ نجی شعبہ میں آن لائن روزگار کی فراہمی کا جھانسہ دے کر لوٹ مار کا بازار گرم کرنےوالوں کی وجہ سے آن لائن روزگار کو فراڈ اور دھوکہ سمیت لوٹنے کا ذریعہ سمجھ کر اس فیلڈ میں قدم رکھنے سے گریزاں ہیں

گزشتہ روزوزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں کہا حکومت کی سرپرستی میں آن لائن روز گار سکیم کے تحت ایک نجی ادارے کی طرف سے 10لاکھ افراد کو کمپیوٹرز کی خریداری کیلئے ایک ایک لاکھ روپے کی قرض حسنہ دیئے جائیں گے جبکہ ایک موبائل فونز کنکشن کی کمپنی ڈیجیٹل روز گار سکیم کے تحت تربیت کیلئے ان افراد کو سستے نرخ پر انٹر نیٹ کی سہو لت دے گی ۔ آن لائن روز گار کیلئے ابتدائی طور پر 10لاکھ افراد کو گھر بیٹھے آن لائن تربیت دی جائے گی ، یہ تربیتی کورس 4ماہ کا ہوگا، ہر شعبے کے حوالے سے بچے آن لائن روز گار سیکھ سکیں گے، وزیراعظم نے سکیم کا افتتاح کردیا ہے ، دنیا بھر کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ تربیت دی جا ئے گی ۔ بچوں کو اردو اور انگریزی دونوں میں تربیت دینے کی سہولت کا انتظام کیا گیا ہے ۔
گو یہ خوش آئند بات ہے تاہم کہنا صرف اتنا ہے جب حکومت ہچکولے کھا رہی ہے اور عام انتخابات میں محض پانچ سے چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں تو اس سکیم کی تکمیل ملکی تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے ناممکن نظر آتی ہے ، چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت اس حوالے سے اقتدار سنبھالتے ہی سرگرم عمل ہو جاتی اور اسے احسن کام کو پایا تکمیل تک پہنچا کر نئی نسل کو روزگار کی فراہمی کے اہم موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی سہولت میسر کرنے سمیت بے روزگاری کے تدارک کا انتظام کرتی ۔

بٹ کوائن اسکی پذیرائی اور ارتقائے پیسہ

ممتاز صدیقی( حصہ سوم)

 قطعاتی زنجیر کی ایجاد کمپیوٹر کی دنیا کا ایک فن پارہ ہے۔ یہ ایک ایسا مجموعہ کلام ہے جس میں بزبانِ ریاضی حقائق کو شاعرانہ انداز میں قلم بند کیا جاتا ہے۔ ان اشعار کی بصورتِ پارہ تدریجی انداز میں شیرازہ بندی کی جاتی ہے۔ اور ہر نئے پارے کا آغاز پچھلے پارے کے مرکزی خیال سے اخذ کیا جاتا ہے۔ قطعاتی زنجیر مربوط اعدادوشمار کا ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں اثاثہ جات کو قطعات کی صورت میں ایک غیر مرئی طناب میں پرو دیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے اثاثوں کو موتیوں کی طرح عمودی لڑیوں میں مربوط کرکے جھالر کی صورت دی جاتی ہے اور پھر اس جھالر کو ایک افقی طناب سے منسلک کر دیا جاتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے جھالر (Merkle Tree) بنانے اور اسے طناب میں پرونے کا عمل اس طرح کیا جاتا ہے کہ پوری زنجیر پائیداری میں اپنی مثال آپ ہوتی ہے۔ قطعاتی زنجیر کے اس ڈیجیٹل سلسلے کو اگر تصوّر کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ ایک دلپزیر سنجاف کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سنجاف میں لگے جواہرات اور ان کو باہم مربوط کرنے والی طنابیں اس کی ظرافت و حساسیت کو یوں عیاں کرتیں ہیں کہ سب دیکھتے رہ جاتے ہیں اور کوئی بھی اسے چھیڑنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ایسے پائیدار نظام کی موجودگی میں پیسے کی خورد برد ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایک بٹوے میں رقم کہاں کہاں سے آئی اور آگے کہاں کہاں منتقل ہو ئی اس کا مکمل اور ناقابلِ تردید دستاویزی ثبوت (money trail) موجود ہوتا ہے جو منی لانڈرنگ کو ناممکن بنا دیتا ہے۔ تاہم یہ نظام بٹوے کی ملکیت کی بھی مکمل رازداری قائم رکھتا ہے اور جب تک مالک خود آگاہ نہ کرے کوئی نہیں جان سکتا کہ بٹوہ کس کا ہے۔اس کے باوجود گزشتہ پیسوں کی طرح بٹ کوائن بھی خامیوں سے پاک نہیں۔ دنیا میں جہاں باہمی لین دین میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے وہاں اب مشینیں بھی براہِ راست آپس میں ادائیگیاں کرنے لگی ہیں۔ قطعہ سازی کا نظام اپنی موجودہ حالت میں اس تدریجی ترقی سے موافقت نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ قطعاتی زنجیر کا حجم بھی مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور ایک درمیانہ درجے کے کمپیوٹر کیلئے اس کی بذاتِ خود تصدیق کرنا ایک وقت طلب کام ہے، تاہم ان خامیوں کو دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تکنیکی لحاظ سے اس نظام کی تجدید اتنا مشکل کام نہیں جتنا اس کیلئے ضرو ر ی اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہے۔ تجدید کے اس تحقیقی عمل میں ایک ایسے طریقے پر بھی کام ہورہا ہے جس میں ایک لمحے میں لاکھوں کی تعداد میں لین دین صغیرہ کو نمٹایا جا سکے گا۔ علاوہ ازیں اس تجدیدی عمل میں ایک کرنسی کی دوسری کرنسی میں منتقلی بھی فوری طور پر عمل میں آ سکے گی۔ یوں جیب میں روپے پیسے لیے پھرنے اور بذریعہ ایکسچینج پیسے کا دستی تبادلہ کرنے کے جھنجھٹ سے نجات مل جائے گی یا دوسرے لفظوں میں بین الاقوامی سطح پر ایک ہی کرنسی رائج کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔بٹ کوائن کے متبادل پیسہ پر بھی کام کیا جارہا ہے۔ اور یہ عین ممکن ہے کہ روزمرہ کے لین دین صغیرہ کیلئے بٹ کوائن کےساتھ ساتھ کوئی متبادل پیسہ بھی اپنا لیا جائے۔ البتہ بٹ کوائن کو بہرحال مناسب تجدید کےساتھ سرمایہ کاری اور ہر قسم کے چھوٹے بڑے باہمی لین دین میں رائج کر لیا جائے گا۔ کیونکہ سونے کی طرح یہ نادر بھی ہے اور پائیدار بھی۔ اسی طرح یہ بین الاقوامی سطح پر قابلِ قبول بھی ہے اور کسی بنک کی مرہونِ منت بھی نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی روحِ رواں قطعاتی زنجیر جیسا ایک شاہکار ہے جو کرپٹوگرافی کے حسین رنگوں سے تخلیق کیا گیا ہے اور جس کی قدر کسی بھی ادب پارے سے کم نہیں۔ابھی تک دنیا کے کسی بھی ملک نے سرکاری سطح پر ڈیجیٹل پیسہ رائج نہیں کیا، تاہم اس کو اپنانے کیلئے ایک سنجیدہ بحث جاری ہے کیونکہ ڈیجیٹل پیسہ ایک حقیقت ہے اور اسے اپنانا ایک ناگزیر ضرورت۔ اگر بٹ کوائن نہیں تو بھی پیسہ کسی نہ کسی ڈیجیٹل شکل میں رائج ہو جائے گا۔ یہ وہ وقت نہیں جب حکومتیں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروایا کرتی تھیں۔ اب ان کا کام یہ ہے کہ استعمال کے آداب و اطوار طے کریں اور اسے اپنا لیں جو ناگزیر ہو۔ اب یہ کوئی دوراندیشی کی بات نہیں کہ ا±س راستے سے ہٹ کر چلا جائے جو راستہ عام ہو چکا ہو۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ای کامرس وغیرہ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ یہ اعتراض بلا جواز ہے کہ ڈیجیٹل پیسے کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ سونا ہو، کاغذی نوٹ ہوں، یا ڈیجیٹل پیسہ، حیثیت ا±سی چیز کی بنتی ہے جس کی مانگ ہو، جس پر لوگوں کا اعتماد ہو، جسکی جمع و ترسیل اور تقسیم آسان ہو، جو جعل سازی کی مز احمت کرے، کسی تیسرے فریق کی ضمانت سے بے نیاز ہو اورسرمایہ دارانہ جوڑتوڑ سے آزاد ہو۔کہا جاتا ہے بٹ کوائن جرائم پیشہ لوگوں کی مددگار ہے۔ یہ جرائم اگر بعد از ایجاد شروع ہوئے ہیں تو بات میں وزن ہے ورنہ اس اعترافِ حقیقت کے سوا کچھ نہیں کہ بٹ کوائن نہ صرف واقعی ایک پیسہ ہے بلکہ جرائم پیشہ لوگ اس ئئی ٹیکنالوجی کے استعمال میں ہم سے سبقت بھی لے گئے ہیں۔ وہ لوگ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا بھی بھر پور استعمال کر رہے ہیں اور اس سے پہلے ہونےوالی ایجادات کا بھی۔ منی لانڈ ر نگ، ہیروئن، کلاشنکوف، دہشتگردی وغیرہ سب پہلے سے موجود ہیں۔ بٹ کوائن کےخلاف کچھ فتوے بھی جاری ہو چکے ہیں۔ تاہم پرنٹنگ پر یس، خوردبین اور لاﺅڈ سپیکر وغیرہ کےخلاف ہونےوالے فتاویٰ کا انجام ہمارے سامنے ہے لہٰذا ان نئے فتووں کو بھی سنجیدہ لینے کی بجائے اسی پیر ا ئے میں ہی رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ کسی بھی نئی اور بنی نوع انسان کیلئے مفید ٹیکنالوجی کو بغیر سوچے سمجھے مسترد کرنے کی بجائے ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ اس کے استعمال کے آداب و اطوار متعین کیے جائیں اور منفی استعمال کی روک تھام کیلئے اقدامات کیے جائیں

۔۔۔۔۔۔:(نوٹ):۔۔۔۔۔

یہ ایک معلوماتی تحریر ہے جو پیسے کا ایک سرسری سا تاریخی و تیکنیکی جائزہ پیش کرتی ہے۔ یہ اس بات کی دعوت ہرگز نہیں کہ آپ بٹ کوائز خریدیں یا اس میں سرمایہ کاری کریں۔ابتدائی منحرفین میں شامل ہونا ایک خوشگوار تصور ضرور ہے لیکن یہ احتمالِ زیاں و ضرر سے خالی نہیں خاص کر سرمایہ کاری کے میدان میں۔ لہٰذا ایک محتاط اور ذمہ دار شہری کیلئے یہی بہتر ہے ڈیجیٹل پیسے کو اپنانے سے پہلے حکومتی آشیرباد اور اس کے استعمال کیلئے بنائے گئے اداب و اطوار کے لاگو ہونے کا انتظار کیا جائے۔

پاکستانی جاب مارکیٹ کی صورتحال اور انٹرپرینیور شپ کی اہمیت

  وطن عزیز میں نوجوانوں کی اکثریت تعلیم حاصل کرنے

کے بعد نوکری کی تلاش شروع کرتی ہے۔ جب وہ جاب

مارکیٹ میں جاتے ہیں تو ان کو اندازہ ہوتا ہے کہ نوکری

تلاش کرنا کافی مشکل کام ہے کیونکہ کمزور معاشی حالات

اور بے شمار دیگر وجوہات کے سبب یہاں بےروزگاری کی

شرح بہت بلند ہے۔

    میڈیا میںایسی رپورٹس کی بہتات ہے کہ فلاں سرکاری

نوکری کےلئے جس میں صرف دس/بارہ سیٹیں تھی، 30

ہزار سے زائد افراد نے اپلائی کردیا۔ وفاقی حکومت کے

مقابلہ کے امتحان (سی ایس ایس) میں تقریباً بیس ہزار سے

زائد طلبہ وطالبات شرکت کرتے ہیں، جبکہ اس میں

200 کے قریب سیٹیں ہوتی ہیں۔ اب آپ خود ہی اندازہ

لگائیے کہ تقریباً 100 افراد کا ایک سیٹ کےلئے مقابلہ ہے۔

اس لیے اس میں جو کامیاب ہوتا ہے وہ واقعی خوش قسمت

ہوتا ہے۔

    ہم نے خود دیکھا ہے کہ 80 کی دہائی کے اختتام تک

بھی ”بی کام“ کرنےوالوں کو فوری نوکری مل جاتی تھی۔

پھر ہم نے دیکھا کہ جو لڑکے لڑکیاں، کمپیوٹر سائنس میں

”بی سی ایس“ کرتے تھے، ان کو فوری نوکری مل جاتی

 تھی، لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ آج مارکیٹ میں ہزاروں ماسٹر

 ڈگری یافتہ، ایم بی اے، ایم سی ایس کرنےوالے بےروزگار

ہیں، جن کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق جاب میسر

نہیں، جس سے ہمارے نوجوانوں میں پریشانی بڑھ رہی ہے۔

جس کو جاب مل جاتی ہے وہ بھی پریشان:۔۔۔

    نوکری ملنا بہت مشکل عمل ہے۔ اچھا جن کو نوکری مل

جاتی ہے کیا وہ مطمئن ہیں؟ تو یقینا ہماری رائے سے آپ

متفق ہونگے کہ ۔۔۔ اکثریت اپنی جاب سے مطمئن نظر نہیں

آتی ۔۔۔ بےروزگاری کی بلند شرح کی وجہ سے اکثریت کو

ان کی تعلیم/تجربے سے کم درجے کی نوکری ملتی ہے۔ ۔۔ہم

ذاتی طور پر بہت سے ایسے افراد کو جانتے ہیں جنہوں نے

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی

ہوئی ہے، لیکن ان کو نوکری کمپیوٹر آپریٹر کی ملی ہے،

جسے وہ اپنے کمزور معاشی حالات اور دیگر عوامل کی

وجہ سے کرنے پر مجبور ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے

یہاںاکثر نوکری کرنےوالوں کو ”ذاتی نوکر“ تصور کیا جاتا

ہے، جس میں آپ کو بلاوجہ بہت باتیں سنائی جاتی ہیں۔

کانٹریکٹ میں درج کام کے علاوہ بھی دیگر بہت سارے کام

لیے جاتے ہیں جو انسان صرف اس لیے کرنے پر مجبور

ہوتا ہے کہ کہیں یہ نوکری بھی ہاتھ سے نہ چلی جائے اور

جو تنخواہ مہینے کے بعد ملتی ہے، وہ اتنی قلیل ہوتی ہے کہ ایک ہی دن میں خرچ ہو جاتی ہے۔

 اکثر نوکری کرنےوالوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ آفس میں

آپ جتنا مرضی اچھا کام کرلیں، لیکن آپ کو اس کا کوئی

اجر نہیں ملنا، کیونکہ ان کی تنخواہ فکس ہے، جس کا ان کی  کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں۔ بہت کم دفاتر میں یہ اصول  ہے کہ اگر آپ زیادہ اچھا کام کریں تو آپ کی تنخواہ زیادہ  ہوسکتی ہے۔ اس طرح کی وجوہات سے نوکری کرنےوالوں  کی اکثریت بددلی اور شدید فرسٹریشن کا شکار نظر آتی ہے۔  وہ نوکری کر بھی رہے ہوتے ہیں اور شکوے شکایت بھی۔

کیا نوکری سے امیر ہوا جا سکتا ہے؟

پاکستان جیسے ملک میں آپ اگر امیر ہونا چاہتے ہیں یا

معاشی طور پر خوشحال ہونا چاہتے ہیں تو انتہائی معذرت

کےساتھ، نوکری اور حلال تنخواہ کے ساتھ آپ کےلئے یہ

کرنا اگر بالکل ناممکن نہیں، تو اتنا مشکل ضرور ہے کہ

اسے چند لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں کر پاتا۔ مثلاً مکان ہر

خاندان کی بنیادی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں میں پانچ مرلے

کے مکانات کی قیمت 40 سے 50 لاکھ روپے ہے۔ اب ذرا

تصور کریں ایک خاندان کا جس میں ایک آدمی نوکری کرتا

ہے۔ وہ اپنی تنخواہ میں سے ہر سال کتنی بچت کریں کہ اپنا

ذاتی مکان خرید سکیں؟ جبکہ پراپرٹی کی قیمت بھی چند

 سالوں میں دوگنی ہوجاتی ہے۔ اس لیے پاکستان میں نوکری

کرنےوالوں کی اکثریت اپنی تنخواہ کے ذریعے اپنا ذاتی

مکان تعمیر نہیں کرسکتی۔

انٹرپرینیورکی اہمیت

 انٹرپرینیور کا اصل اردو ترجمہ ”کاروباری شخص“ ہے۔

ویسے تو انٹرپرینیور شپ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے

 لگایا جاسکتا ہے کہ ”انٹرپرینیور شپ “ کو پاکستان کی تمام نجی و سرکاری یونیورسٹیز میں ایک کورس کا درجہ حاصل  ہے اور انٹرپرینیور شپ کا مضمون بطور خاص ڈگری  پروگرامز میں پڑھایا جا رہا ہے، جبکہ بعض یونیورسٹیز میں ”ایم بی اے“ میں اس مضمون کو خاص اہمیت دی جاتی ہے جس سے بڑے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

فری لانسنگ کےلئے بہترین اورمستند پلیٹ فارمز

(رپورٹ ،پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
پاکستان میں آن لائن کمائی کا جب بھی ذکر ہو تو عموماً لوگوں کے ذہن میں ڈیٹا اینٹری (Data Entry)، ایڈ پوسٹنگ (Ad Posting) یا لنک بلڈنگ (Link Building) وغیرہ کا خیال آتا ہے۔ شروع شروع میں یہ کام کافی تیزی سے پھیلا اور بہت سے لوگ اس سے مستفید بھی ہوئے تھے، لیکن گزشتہ چند سالوں میں اس کام میں بہت زیادہ فراڈ (دھوکہ دہی) دیکھنے کو ملا ہے۔
لوگوں کو کام کا لالچ دے کر چند ہزار روپے رجسٹریشن کے عوض وصول کیے جاتے اور ایک گمنام ویب سائٹ پر ان کا اکاو¿نٹ بنا دیا جاتا۔ ا س ویب سائٹ پر کتنا کام کیا اور کتنے پیسے کمائے کی تفصیل درج ہوتی جو کہ ذیادہ تر غلط بیانی پر مبنی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ایک حد مقرر کر دی جاتی کہ کم از کم اتنی رقم ہو تو ہی پیسے نکلوائے جا سکتے ہیں۔ اوّل تو بیشتر لوگ اس حد کو چھونے سے پہلے ہی دل برداشتہ ہو کر چھوڑ دیتے اور جو لو گ دل جمعی کےساتھ لگے رہتے انہیں آخر میں کچھ حاصل نہ ہوتا۔ایسا نہیں اس کام میں کسی کو کمائی نہیں ہوئی، یقیناً ہوئی ہوگی، ورنہ یہ کام اتنا مشہور نہ ہوتا۔ لیکن 100 میں سے صرف 5 لوگوں کو ہی فائدہ ہوا ہو گا۔
یہاں ایک اور بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ ایڈ پوسٹنگ/ لنک بلڈنگ وغیرہ ڈیٹا اینٹری اور SEO (سرچ انجن آپٹمائزیشن) کی شاخیں ہیں۔ اگر قارئین میں سے کوئی اس کام سے منسلک ہے تو میرا مشورہ ہے کہ اس کام کے باقاعدہ کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔ اگر آپ وہ کرلیں تو آپ کا ہنر مزید نکھر جائے گا اور کمائی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
پلیٹ فارمز کی بات کی جائے تو فری لانسنگ متعدد طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ آپ براہِ راست کلائنٹ کو تلاش کر کے کام لے سکتے ہیں، لیکن اس میں کافی وقت لگ جاتا ہے؛ جبکہ دوسری طرف پکی پکائی دیگ بھی موجود ہے۔ جہاں آپ کو نہ تو کلائنٹ تلاش کرنے پڑیں گے اور نہ ہی کمائی کےلئے انتظار، مفت اکاو¿نٹ بنائیں اور کام شروع کردیں۔ ان پلیٹ فارمز کو فری لانسنگ ویب سائٹ یا مارکیٹ پلیس (market place) کہا جاتا ہے۔
اس وقت سینکڑوں فری لانسنگ ویب سائٹس موجود ہیں اور بیشتر میں کام کرنے کا طریقہ کار تقریباً ایک جیسا ہے۔ اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں صرف پانچ بڑی ویب سائٹس کا ذکر کروں گا۔
1- Upwork
اس ویب سائٹ کا قیام 2015 میں دو مشہور ویب سائٹس oDesk اور Elance کے اشتراق کے بعد ہوا۔ یہ اس وقت دنیا میں سب سے بڑی ویب سائٹ ہے، کمائی کے اعتبار سے بھی اور کام کے لحاظ سے بھی۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کلائنٹس (clients) اپنے کام کی تفصیل مہیا کرتے ہیں اور فری لانسرز ان پر اپنے پروپوزلز ارسال کرتے ہیں، جس کا پروپوزل کلائنٹ کو پسند آجائے اسے کام مل جاتا ہے۔
کام کرنے کی نوعیت دو طرح کی ہوتی ہے۔ یا تو پورے کام کی ایک مقررہ قیمت طے کر لیں یا گھنٹوں کے حساب سے پیسے چارج کریں۔ البتہ دونوں صورتوں میں کام کرنے کے پیسے بروقت ملیں گے۔ اگر کسی وجہ سے کلائنٹ پیسے نہیں دیتا تو Upwork اس معاملے میں آپ کو پورا تعاون فراہم کرے گا۔
2- Fiverr
اسوقت Fiverr دنیا کی دوسری بڑی ویب سائٹ بن چکی ہے، کام ڈھونڈھنے کے اعتبار سے Fiverr ،Upwork سے قدرے مختلف ہے۔ یہاں پر آپ اپنے کام کی ایک سروس بناتے ہیں جسے gig کہا جاتا ہے۔ Gig میں آپ اپنے کام کی نوعیت اور قیمت وغیرہ کی تفصیل بیان کرتے ہیں، ہر gig کی کم سے کم قیمت $5 ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اس سے ذیادہ نہیں کما سکتے۔ جتنا بڑا کام ہوگا اس کے پیسے بھی اسی مناسبت سے طے کر لیے جائیں گے۔ یہاں پیسے کے معاملات کی فکر کرنے کی بالکل ضرورت نہیں کیونکہ کام کے آغاز میں ہی Fiverr کلائنٹ سے سارے پیسے وصول کر لے گا اور کام ختم ہونے کے بعد آپ کے پیسے آپ کے اکاو¿نٹ میں شامل ہو جائیں گے۔
ان دو ویب سائٹس کے علاوہ فری لانسنگ کےلئے بہترین ویب سائٹس Freelancer.com ،Peopleperhour.com اور Guru.com ہیں۔ ان تینوں ویب سائٹس پر بھی کام وافر مقدار میں موجود ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اس وقت سینکڑوں فری لانسنگ ویب سائٹس موجود ہیں۔ کسی بھی ویب سائٹ پر کام کرنے سے پہلے بس دو چیزیں مدِنظر رکھیں۔ ایک تو یہ کہ روزانہ کی بنیاد پر کتنی جابزپوسٹ ہوتی ہیں، اور دوسرا کیا کام کے پیسے ملتے ہیں یا نہیں۔ ساتھ ہی اس ویب سائٹ کی Terms of service بھی پڑھنی چاہیے۔ عمومی طور پر کام کرنے کا طریقہ کار تو ایک سا ہوتا ہے لیکن پھر بھی ہر ویب سائٹ کی اپنی پا لیسی ہوتی ہے، اگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو ویب سائٹ آپ کا اکاو¿نٹ بند کرسکتی ہے۔
آخر میں ایک اور غلط فہمی دور کرنا چاہوں گا کہ فری لانسنگ صرف ڈویلپمنٹ (development)، ڈیزائنگ(designing) اور لکھنے (writing) کے کام تک محدود نہیں۔ یقیناً ان کاموں کی ڈیمانڈ اور قیمت زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سے آسان کام ہیں جنہیں کرکے اچھی کمائی کی جا سکتی ہے۔