پاکستانی جاب مارکیٹ کی صورتحال اور انٹرپرینیور شپ کی اہمیت

  وطن عزیز میں نوجوانوں کی اکثریت تعلیم حاصل کرنے

کے بعد نوکری کی تلاش شروع کرتی ہے۔ جب وہ جاب

مارکیٹ میں جاتے ہیں تو ان کو اندازہ ہوتا ہے کہ نوکری

تلاش کرنا کافی مشکل کام ہے کیونکہ کمزور معاشی حالات

اور بے شمار دیگر وجوہات کے سبب یہاں بےروزگاری کی

شرح بہت بلند ہے۔

    میڈیا میںایسی رپورٹس کی بہتات ہے کہ فلاں سرکاری

نوکری کےلئے جس میں صرف دس/بارہ سیٹیں تھی، 30

ہزار سے زائد افراد نے اپلائی کردیا۔ وفاقی حکومت کے

مقابلہ کے امتحان (سی ایس ایس) میں تقریباً بیس ہزار سے

زائد طلبہ وطالبات شرکت کرتے ہیں، جبکہ اس میں

200 کے قریب سیٹیں ہوتی ہیں۔ اب آپ خود ہی اندازہ

لگائیے کہ تقریباً 100 افراد کا ایک سیٹ کےلئے مقابلہ ہے۔

اس لیے اس میں جو کامیاب ہوتا ہے وہ واقعی خوش قسمت

ہوتا ہے۔

    ہم نے خود دیکھا ہے کہ 80 کی دہائی کے اختتام تک

بھی ”بی کام“ کرنےوالوں کو فوری نوکری مل جاتی تھی۔

پھر ہم نے دیکھا کہ جو لڑکے لڑکیاں، کمپیوٹر سائنس میں

”بی سی ایس“ کرتے تھے، ان کو فوری نوکری مل جاتی

 تھی، لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ آج مارکیٹ میں ہزاروں ماسٹر

 ڈگری یافتہ، ایم بی اے، ایم سی ایس کرنےوالے بےروزگار

ہیں، جن کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق جاب میسر

نہیں، جس سے ہمارے نوجوانوں میں پریشانی بڑھ رہی ہے۔

جس کو جاب مل جاتی ہے وہ بھی پریشان:۔۔۔

    نوکری ملنا بہت مشکل عمل ہے۔ اچھا جن کو نوکری مل

جاتی ہے کیا وہ مطمئن ہیں؟ تو یقینا ہماری رائے سے آپ

متفق ہونگے کہ ۔۔۔ اکثریت اپنی جاب سے مطمئن نظر نہیں

آتی ۔۔۔ بےروزگاری کی بلند شرح کی وجہ سے اکثریت کو

ان کی تعلیم/تجربے سے کم درجے کی نوکری ملتی ہے۔ ۔۔ہم

ذاتی طور پر بہت سے ایسے افراد کو جانتے ہیں جنہوں نے

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی

ہوئی ہے، لیکن ان کو نوکری کمپیوٹر آپریٹر کی ملی ہے،

جسے وہ اپنے کمزور معاشی حالات اور دیگر عوامل کی

وجہ سے کرنے پر مجبور ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے

یہاںاکثر نوکری کرنےوالوں کو ”ذاتی نوکر“ تصور کیا جاتا

ہے، جس میں آپ کو بلاوجہ بہت باتیں سنائی جاتی ہیں۔

کانٹریکٹ میں درج کام کے علاوہ بھی دیگر بہت سارے کام

لیے جاتے ہیں جو انسان صرف اس لیے کرنے پر مجبور

ہوتا ہے کہ کہیں یہ نوکری بھی ہاتھ سے نہ چلی جائے اور

جو تنخواہ مہینے کے بعد ملتی ہے، وہ اتنی قلیل ہوتی ہے کہ ایک ہی دن میں خرچ ہو جاتی ہے۔

 اکثر نوکری کرنےوالوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ آفس میں

آپ جتنا مرضی اچھا کام کرلیں، لیکن آپ کو اس کا کوئی

اجر نہیں ملنا، کیونکہ ان کی تنخواہ فکس ہے، جس کا ان کی  کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں۔ بہت کم دفاتر میں یہ اصول  ہے کہ اگر آپ زیادہ اچھا کام کریں تو آپ کی تنخواہ زیادہ  ہوسکتی ہے۔ اس طرح کی وجوہات سے نوکری کرنےوالوں  کی اکثریت بددلی اور شدید فرسٹریشن کا شکار نظر آتی ہے۔  وہ نوکری کر بھی رہے ہوتے ہیں اور شکوے شکایت بھی۔

کیا نوکری سے امیر ہوا جا سکتا ہے؟

پاکستان جیسے ملک میں آپ اگر امیر ہونا چاہتے ہیں یا

معاشی طور پر خوشحال ہونا چاہتے ہیں تو انتہائی معذرت

کےساتھ، نوکری اور حلال تنخواہ کے ساتھ آپ کےلئے یہ

کرنا اگر بالکل ناممکن نہیں، تو اتنا مشکل ضرور ہے کہ

اسے چند لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں کر پاتا۔ مثلاً مکان ہر

خاندان کی بنیادی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں میں پانچ مرلے

کے مکانات کی قیمت 40 سے 50 لاکھ روپے ہے۔ اب ذرا

تصور کریں ایک خاندان کا جس میں ایک آدمی نوکری کرتا

ہے۔ وہ اپنی تنخواہ میں سے ہر سال کتنی بچت کریں کہ اپنا

ذاتی مکان خرید سکیں؟ جبکہ پراپرٹی کی قیمت بھی چند

 سالوں میں دوگنی ہوجاتی ہے۔ اس لیے پاکستان میں نوکری

کرنےوالوں کی اکثریت اپنی تنخواہ کے ذریعے اپنا ذاتی

مکان تعمیر نہیں کرسکتی۔

انٹرپرینیورکی اہمیت

 انٹرپرینیور کا اصل اردو ترجمہ ”کاروباری شخص“ ہے۔

ویسے تو انٹرپرینیور شپ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے

 لگایا جاسکتا ہے کہ ”انٹرپرینیور شپ “ کو پاکستان کی تمام نجی و سرکاری یونیورسٹیز میں ایک کورس کا درجہ حاصل  ہے اور انٹرپرینیور شپ کا مضمون بطور خاص ڈگری  پروگرامز میں پڑھایا جا رہا ہے، جبکہ بعض یونیورسٹیز میں ”ایم بی اے“ میں اس مضمون کو خاص اہمیت دی جاتی ہے جس سے بڑے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

Advertisements

فری لانسنگ کےلئے بہترین اورمستند پلیٹ فارمز

(رپورٹ ،پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
پاکستان میں آن لائن کمائی کا جب بھی ذکر ہو تو عموماً لوگوں کے ذہن میں ڈیٹا اینٹری (Data Entry)، ایڈ پوسٹنگ (Ad Posting) یا لنک بلڈنگ (Link Building) وغیرہ کا خیال آتا ہے۔ شروع شروع میں یہ کام کافی تیزی سے پھیلا اور بہت سے لوگ اس سے مستفید بھی ہوئے تھے، لیکن گزشتہ چند سالوں میں اس کام میں بہت زیادہ فراڈ (دھوکہ دہی) دیکھنے کو ملا ہے۔
لوگوں کو کام کا لالچ دے کر چند ہزار روپے رجسٹریشن کے عوض وصول کیے جاتے اور ایک گمنام ویب سائٹ پر ان کا اکاو¿نٹ بنا دیا جاتا۔ ا س ویب سائٹ پر کتنا کام کیا اور کتنے پیسے کمائے کی تفصیل درج ہوتی جو کہ ذیادہ تر غلط بیانی پر مبنی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ایک حد مقرر کر دی جاتی کہ کم از کم اتنی رقم ہو تو ہی پیسے نکلوائے جا سکتے ہیں۔ اوّل تو بیشتر لوگ اس حد کو چھونے سے پہلے ہی دل برداشتہ ہو کر چھوڑ دیتے اور جو لو گ دل جمعی کےساتھ لگے رہتے انہیں آخر میں کچھ حاصل نہ ہوتا۔ایسا نہیں اس کام میں کسی کو کمائی نہیں ہوئی، یقیناً ہوئی ہوگی، ورنہ یہ کام اتنا مشہور نہ ہوتا۔ لیکن 100 میں سے صرف 5 لوگوں کو ہی فائدہ ہوا ہو گا۔
یہاں ایک اور بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ ایڈ پوسٹنگ/ لنک بلڈنگ وغیرہ ڈیٹا اینٹری اور SEO (سرچ انجن آپٹمائزیشن) کی شاخیں ہیں۔ اگر قارئین میں سے کوئی اس کام سے منسلک ہے تو میرا مشورہ ہے کہ اس کام کے باقاعدہ کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔ اگر آپ وہ کرلیں تو آپ کا ہنر مزید نکھر جائے گا اور کمائی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
پلیٹ فارمز کی بات کی جائے تو فری لانسنگ متعدد طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ آپ براہِ راست کلائنٹ کو تلاش کر کے کام لے سکتے ہیں، لیکن اس میں کافی وقت لگ جاتا ہے؛ جبکہ دوسری طرف پکی پکائی دیگ بھی موجود ہے۔ جہاں آپ کو نہ تو کلائنٹ تلاش کرنے پڑیں گے اور نہ ہی کمائی کےلئے انتظار، مفت اکاو¿نٹ بنائیں اور کام شروع کردیں۔ ان پلیٹ فارمز کو فری لانسنگ ویب سائٹ یا مارکیٹ پلیس (market place) کہا جاتا ہے۔
اس وقت سینکڑوں فری لانسنگ ویب سائٹس موجود ہیں اور بیشتر میں کام کرنے کا طریقہ کار تقریباً ایک جیسا ہے۔ اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں صرف پانچ بڑی ویب سائٹس کا ذکر کروں گا۔
1- Upwork
اس ویب سائٹ کا قیام 2015 میں دو مشہور ویب سائٹس oDesk اور Elance کے اشتراق کے بعد ہوا۔ یہ اس وقت دنیا میں سب سے بڑی ویب سائٹ ہے، کمائی کے اعتبار سے بھی اور کام کے لحاظ سے بھی۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کلائنٹس (clients) اپنے کام کی تفصیل مہیا کرتے ہیں اور فری لانسرز ان پر اپنے پروپوزلز ارسال کرتے ہیں، جس کا پروپوزل کلائنٹ کو پسند آجائے اسے کام مل جاتا ہے۔
کام کرنے کی نوعیت دو طرح کی ہوتی ہے۔ یا تو پورے کام کی ایک مقررہ قیمت طے کر لیں یا گھنٹوں کے حساب سے پیسے چارج کریں۔ البتہ دونوں صورتوں میں کام کرنے کے پیسے بروقت ملیں گے۔ اگر کسی وجہ سے کلائنٹ پیسے نہیں دیتا تو Upwork اس معاملے میں آپ کو پورا تعاون فراہم کرے گا۔
2- Fiverr
اسوقت Fiverr دنیا کی دوسری بڑی ویب سائٹ بن چکی ہے، کام ڈھونڈھنے کے اعتبار سے Fiverr ،Upwork سے قدرے مختلف ہے۔ یہاں پر آپ اپنے کام کی ایک سروس بناتے ہیں جسے gig کہا جاتا ہے۔ Gig میں آپ اپنے کام کی نوعیت اور قیمت وغیرہ کی تفصیل بیان کرتے ہیں، ہر gig کی کم سے کم قیمت $5 ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اس سے ذیادہ نہیں کما سکتے۔ جتنا بڑا کام ہوگا اس کے پیسے بھی اسی مناسبت سے طے کر لیے جائیں گے۔ یہاں پیسے کے معاملات کی فکر کرنے کی بالکل ضرورت نہیں کیونکہ کام کے آغاز میں ہی Fiverr کلائنٹ سے سارے پیسے وصول کر لے گا اور کام ختم ہونے کے بعد آپ کے پیسے آپ کے اکاو¿نٹ میں شامل ہو جائیں گے۔
ان دو ویب سائٹس کے علاوہ فری لانسنگ کےلئے بہترین ویب سائٹس Freelancer.com ،Peopleperhour.com اور Guru.com ہیں۔ ان تینوں ویب سائٹس پر بھی کام وافر مقدار میں موجود ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اس وقت سینکڑوں فری لانسنگ ویب سائٹس موجود ہیں۔ کسی بھی ویب سائٹ پر کام کرنے سے پہلے بس دو چیزیں مدِنظر رکھیں۔ ایک تو یہ کہ روزانہ کی بنیاد پر کتنی جابزپوسٹ ہوتی ہیں، اور دوسرا کیا کام کے پیسے ملتے ہیں یا نہیں۔ ساتھ ہی اس ویب سائٹ کی Terms of service بھی پڑھنی چاہیے۔ عمومی طور پر کام کرنے کا طریقہ کار تو ایک سا ہوتا ہے لیکن پھر بھی ہر ویب سائٹ کی اپنی پا لیسی ہوتی ہے، اگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو ویب سائٹ آپ کا اکاو¿نٹ بند کرسکتی ہے۔
آخر میں ایک اور غلط فہمی دور کرنا چاہوں گا کہ فری لانسنگ صرف ڈویلپمنٹ (development)، ڈیزائنگ(designing) اور لکھنے (writing) کے کام تک محدود نہیں۔ یقیناً ان کاموں کی ڈیمانڈ اور قیمت زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سے آسان کام ہیں جنہیں کرکے اچھی کمائی کی جا سکتی ہے۔

بغیر محنت آمدنی ،مگر کیسے؟

(پاکستان آن لائن ٹریڈرز)
میڈیا میں آنیوالے ایسے اشتہارات جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بغیر کسی محنت کے ہر ماہ با آسانی لاکھوں رو پے کمائیے ، سراسر جھوٹ ہوتے ہیں کیونکہ گوگل ایڈسینس سے بہتر اور مستقل آمدنی کےلئے کافی محنت کرنی پڑتی ہے تاہم یہ بات درست ہے کہ اس سے مناسب ماہانہ آمدنی حاصل ہوتی ہے اوریہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ اتنی ہی محنت آئی ٹی سے وابستہ کسی اور فیلڈ میں کریں تو شاید اس سے زیادہ آمدنی حاصل ہوجائے۔زیادہ آمدنی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے اس بارے میں پہلی بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ گوگل نے آپ کو ڈالر نہیں دینے، بلکہ آپ نے گوگل کو ڈالر کما کر دینے ہیں، جس میں سے گوگل اپنا حصہ اٹھا کر باقی رقم آپ کو بھیج دیتا ہے۔اسلئے زیادہ آ مد نی کےلئے آپ کی ویب سائٹ یابلاگ کا مواد کارآمد، اچھا اورمعیاری ہونا ضروری ہے،البتہ یہ مواد کسی کی رسوائی کا باعث نہ ہو، فحش نہ ہو، حقو ق دانش (کاپی رائٹ) کی خلاف ورزی نہ ہو، یعنی آپ کا اپنا ہو، جرائم کی ترغیب دینے والا مواد نہ ہو۔ویب سائٹ،بلاگ خوبصورت اور جاذب نظر ہو، اور ڈیزائن ایسا ہونا چاہیے جسے قارئین با آسانی استعمال کرسکیں۔ ایسے مواد کا انتخاب کیا جائے جس میں انٹرنیٹ صارفین کی اکثریت پڑھنے،سننے اوردیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہو، جبکہ ہر روز اس میں کچھ نیا ضرور شامل ہو۔
گوگل ایڈسینس پروگرام چونکہ بنیادی طور پر ویب سائٹ سے منسلک ہے، اسلئے اس پروگرام کےساتھ شراکت داری کر کے کمانے کیلئے و یب سائٹ کے جملہ فنی اموراور مواد کی تیاری میں مہارت ہونی چاہیے۔اگر ان دونوں چیزوں پر مہارت نہیں تو پھر سرمایہ ہونا چاہیے، تاکہ مواد کی تیاری اور فنی امور کےلئے پیشہ ور افراد کی خدمات بعوض معاوضہ حاصل کی جاسکیں۔زیا دہ سے زیادہ آمدن اور کامیابی کیلئے نئے راستے تلاش کرنا بھی ضروری ہے تاکہ سائٹ یا بلاگ پر وزیٹرز کی تعداد بڑھے اور وہ زیادہ دیر تک سائٹ یا بلاگ پر موجود رہیں ۔کاپی پیسٹ والا آئیڈیا وقت برباد کرنے کے سواءکچھ نہیں ۔یعنی گوگل ایڈسینس پروگرام میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے نئے آئیڈیاز جن سے لوگوں کی توجہ حاصل کی جاسکے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ویب سائٹ پر مواد باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنا بھی کامیابی کی ایک شرط ہے ،اگر آپ کسی ویب سائٹ کو اپنا حریف تصور کرتے ہیں، تواسکے مقا بلے میں اپنی سروس کوبہتر، منفرد اور ممتاز انداز میں پیش کریں ،اس بات پربھی غور و فکر کریں کہ ویب سائٹ پر ایسی کون سی انفارمیشن یا مواد پیش کی جائے جو پہلے سے انٹرنیٹ پر موجود نہ ہو، مگر اس کی انٹرنیٹ صارفین کو ضرورت بھی ہو،کس طرح زیادہ تعداد میں لوگوں کو اپنی ویب سائٹ پر زیادہ وقت کےلئے مصروف رکھاجاسکتا ہے ،کس طرح متوجہ کیا جا سکتا ہے کہ سستی ویب ٹریفک حاصل کی جائے۔
گوگل ایڈسینس میں شمولیت سے پہلے آپ کو گوگل ایڈسینس کے پروگرام اور پالیسی کا اچھی طرح مطالعہ کرنا چاہیے۔ پھر تھیم کے مطابق ایک ویب سائٹ،بلاگ سائٹ تیار کرنی ہے، جس میں ہر ہفتے کچھ بہتر اور معیاری مواد شامل کرنا ہے۔ اس کے بعد اپنی ویب سائٹ کی تشہیر کرنی ہوگی تاکہ ویب سائٹ کی ٹریفک بڑھے، جس کےلئے سوشل میڈیا اور اپنے دوستوں کو ای میل کرسکتے ہیں۔ تقریباً 90 سے 120 دن کے بعد جب آپ کی ویب سائٹ پر مناسب ٹریفک ہوجائے، تب آپ کو گوگل ایڈسینس اکاوئنٹ کےلئے اپلائے کرنا چاہیے۔ عموماً غیر معیا ر ی مواد اور نامناسب ٹریفک کی وجہ سے گوگل ایڈسینس اکاوئنٹ کی درخواست مسترد کردی جاتی ہے۔جبکہ اکاﺅنٹ کی درخواست منظور ہونے کی صورت میں گوگل ٹیم کی جانب سے سائٹ اور مواد کو بہتر کرنے کےلئے ہر ہفتے تجویز بھیجی جاتی ہیں جن پر عمل کر کے ویب ٹریفک اور آمدنی بہتر کی جا سکتی ہے ، اسی طرح یوٹیوب پر بھی گوگل ایڈسینس ٹیم نے کافی تعداد میں ویڈیوز اپ لوڈ کر رکھی ہیں جن سے استفادہ حاصل کر کے اپنے ٹارگٹ تک پہنچا جا سکتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیادہ اور مستحکم آمدنی کیلئے ایسی ویب سائٹ ہونی چاہیے جو امریکہ ، برطانیہ کے قارئین کی ضروریات کو پوری کرتی ہو کیونکہ پاکستان اور بھارت کے ویب صارف کے وزٹ اور کلک کی قیمت جبکہ امریکہ ، بر طا نیہ کے ویب صارفین کے وزٹ اور کلک کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے،مثال کے طور پر اگر آپ کی ویب سائٹ پر روزانہ تین سو افراد پاکستانی آتے ہیں تو 2 ڈالر یومیہ آمدنی ہوگی جبکہ اتنی ہی تعداد میں امریکی ویب صارفین کے وزٹ سے آمدنی 12 ڈالر یومیہ متوقع ہے۔
اب آخری سوال آپ کے ذہنوں میں یہ گونج رہا ہوگا کہ ان تمام مراحل کو آپ طے بھی کر لیں تو رقم کیسے اور کب ملے گی ؟تو اس حوالے سے
ہر ماہ کے آخر میں اگر آمدنی سو ڈالر سے زیادہ ہو تو گوگل اس رقم کو اگلے ماہ کے آخر میں بھیجتا ہے۔ مثلاً ماہ ستمبرکی ادائیگی اکتوبر کے آخری عشرہ میں وصول ہوگی۔ گوگل پاکستان کے اندر ویسٹرن یونین کے ذریعے رقم منتقل کرتا ہے۔ ویسٹرن یونین سے رقم آپ اپنے بینک اکاو¿نٹ میں منتقل کرواسکتے ہیں یا ان کے دفتر جا کر خود وصول کرسکتے ہیں۔

گوگل سے ڈالرز کمانے کے طریقے

۔۔ پاکستان آن لائن ٹریڈرز۔۔۔
انٹرنیٹ سے کمانے کے مختلف طریقے ہیں لیکن گوگل سے کیسے کمایا جا سکتا ہے اس مضمون میں آپ کو تفصیل سے بتایا جائےگا۔ پا کستا ن آن لائن ٹریڈرزیوٹیوب سے آمدنی کے بارے میں تو آپکو بتا چکے ہیں اور گزشتہ مضامین میںایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ سے متعلق بھی کچھ آگاہی فراہم کی جا چکی ہے ، اب آپکو گوگل ایڈسینس کے بارے میں مفید معلومات فراہم کی جائیں گی تاکہ آپ آسان اور بہتر اندا ز میں آمدن کرسکیں۔
دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل ہے اور اس کا اشتہارات نشر کرنے کا پروگرام گوگل ایڈسینس کہلاتا ہے، جس میں شامل ہونے کیلئے ضروری ہے کہ آپ کے پاس اپنی کوئی ذاتی ویب سائٹ ہو، جس پر آپ گوگل کو اشتہارات نشر کرنےکی اجازت دے سکیں۔ گوگل اشتہارات دینے والوں سے سائٹ پر اشتہارات دکھانے کے پیسے نہیں لیتا، بلکہ جب کوئی اس اشتہار کلک کرتا ہے، تب ان سے فی کلک کے حساب سے رقم وصول کی جاتی ہے اور حاصل ہونےوالی آمدنی اس ویب سائٹ اور گوگل کے مابین ایک طے شدہ فارمولا کے تحت تقسیم ہوتی ہے۔
اگر آپ انٹرنیٹ پر اپنی ویب سائٹ،بلاگ پر اشتہارات کے ذریعے آمدنی کے خواہشمند ہیں، تو سب سے مو¿ثر اور آسان طریقہ یہ ہے کہ گوگل کی ایڈسینس سروس حاصل کر یں ،جس سے اشتہارات کی تیاری،وصولی، کمپنیز سے رابطہ، رقم کی وصولی، اشتہارات کے جملہ دفتری امور وغیرہ کی ذمہ داری گوگل ایڈسینس کے ذمہ ہو جاتی ہے ۔
گوگل ایڈسینس پروگرام میں ویسے تو ہر کوئی شامل ہوسکتا ہے لیکن کامیابی صرف ان ہی افراد کو ملتی ہے جو انٹرنیٹ پر لوگوں کےلئے مفید سرگرمیاں اور دلچسپ مواد فراہم کرتے ہیں، کیونکہ اس میں کامیابی کا جملہ انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کی ویب سائٹ یا بلاگ کو کتنے لوگ وزٹ کر تے ہیں ۔یہ تو عام فہم بات ہے کہ لوگ ایسی ہی ویب سائٹس اور بلاگز پر بار بار آتے ہیں جن میں دلچسپ اور تازہ ترین مواد ہر وقت موجود رہتا ہے۔اس لئے جو بھی پڑھا لکھا شخص اپنے فارغ وقت میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ذریعے لوگوں کو بہترین اور ان کی پسند پر مبنی معلومات وغیرہ مہیاکر سکتاسکتا ہے، توگوگل ایڈ سینس سے وہ خاطر خواہ ماہانہ آمدن کا حامل ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں افراد گوگل ایڈ سینس سے منسلک ہیں، جن میں کمپیوٹر سائنس،آئی ٹی سے وابستہ افراد، تخلیق کار، استاد، لکھاری، بلاگرز، صحافی، گھریلو خواتین، طلبہ ، ڈاکٹرز، جز وقتی ملازمت پیشہ افراد اور دیگر شامل ہیں۔ گوگل ایڈسینس سے کتنی آمدن ہو سکتی ہے، تو یہ آپ کی صلاحیتوں پر منحصر ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ماہانہ 10،20 ہزار روپے سے لے کر 10 لاکھ روپے تک کما رہے ہیں۔ گوگل کمپنی کا کہنا ہے اس نے 2014 میں 10ارب ڈالرز ایڈسینس پروگرام میں شریک افراد میں تقسیم کیے۔
مواد کس زبان میں ہونا چاہیے؟
گوگل ایڈسینس پروگرام میں شامل ہونے کےلئے لازمی ہے کہ آپ کی ویب سائٹ،بلاگ کا پرائمری مواد انگریزی زبان میں ہو جبکہ گوگل ایڈسینس کچھ دیگر زبانوں کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔لیکن ابھی تک گوگل ایڈسینس اردو کو سپورٹ نہیں کرتا، (بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، گوگل آئندہ سال اردو زبان کو بھی شامل کرنےوالا ہے) ویسے بھی اردو یا غیر منظور شدہ زبانوں میں موجود ویب سائٹس پر آمدن نہ ہونے کے برابر ہے، اسلئے بہتر یہی ہے کہ آپ کا مواد انگریزی یا دیگر منظور شدہ زبانوں میں ہو۔۔۔ جاری ۔۔۔

یوٹیوب سے آمدن کیسے ہو؟ یوٹیوب ہی سے سیکھیں

(پاکستان آن لائن ٹریڈرزرپورٹ)
ویسے تو بے شمار لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آپ کو آن لائن کمانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں، لیکن عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ ان میں سے اکثر فراڈ ہیں، اور ان کے پاس کوئی خاص علم نہیں ہوتا۔ان کی طرف وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ آپ خود سیکھنے کی کوشش کریں۔ تقریباً تمام ہی ضروری معلومات آپ کو خود یوٹیوب سے مل سکتی ہیں۔ اس کےلئے ’ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان‘ کے اس موضوع پر ویڈیو لیکچرز موجود ہیں جو ویڈیو کی تیاری میں کافی مدد گار ہوسکتے ہیں۔ان پروگرام کے کورس کوڈز ۔۔۔ایم سی ڈی 403، میوزک پروڈکشن۔۔۔ایم سی ڈی 404، ا?ڈیو ویڑوئل ایڈیٹنگ۔۔۔ایم سی ڈی 503، نیوز اینڈ کرنٹ افیئرزہیں ۔ان پر کئی گھنٹوں کی ویڈیوز آن لائن فری میں دستیاب ہیں۔ آپ یوٹیوب پر کورس کو نام سے سرچ کرسکتے ہیں اور یوں آپ کو مکمل ویڈیو کورس دستیاب ہوجائے گا۔
بس اگر آپ کو ویڈیو کو بطور میڈیم استعمال کرنے کا شوق ہے یا آپ پہلے سے اس فیلڈ سے منسلک ہیں، تو آپ کو ضرور اس سمت میں بھی کوشش کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے اس سے آپ کو کافی مالی فائدہ حاصل ہو۔اس لئے فارغ رہنے سے کچھ کوشش کرنا زیادہ بہتر ہے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ آپ ناکام ہو جائیں گے اور کوئی آمدنی نہیں ہوگی۔ لیکن پھر بھی آپ بہت کچھ سیکھ چکے ہوں گے، جیسا کہ ونسٹن چرچل نے کہا تھا “جذبہ ماند پڑے بغیر ایک ناکامی سے دوسری ناکامی تک جانے کا نام ہی کامیابی ہے۔”

یوٹیوب چینل کیسے بنتا اور چلتا ہے

(پاکستان آن لائن ٹریڈرزرپورٹ)
ویڈیو کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والے 18 سال سے زائد عمر کے افراد یوٹیوب پر اپنا ذاتی چینل قائم کرسکتے ہیں، جس کا طریقہ کار بہت آسان ہے،جو صرف ایک ای میل ایڈریس کی مدد سے بنایا جا سکتاہے، چینل قائم کرنے کے بہت سے فوائد ہیں، جس میں اس کا بالکل مفت ہونا، اس کا مشہور ہونا، تازہ ویڈیو مواد کا خودکار طریقے سے سرچ انجن میں شامل ہونا وغیرہ شامل ہیں۔اہم بات یہ ہوتی ہے کہ کس قسم کا مواد نشر کیا جاسکتا ہے؟
یوں تو رجسٹرڈ اکاوئنٹ ہولڈرز کو لامحدود ویڈیو مواد نشر کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں، جن میں یہ مواد کسی کی رسوائی کا باعث نہ ہو، فحش نہ ہو، چوری شدہ نہ ہو، یعنی آپ کا اپنا ہو، جرائم کی ترغیب دینے والا مواد نہ ہو، وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیںآپ اپنی پسند کا کوئی بھی مواد نشر کرسکتے ہیں۔لیکن سب سے ضروری یہ ہے کہ وہ مواد آپ کے ناظرین کی دلچسپی کا ہو، ورنہ نہ تو آپ کا یوٹیوب چینل مقبول ہوگا، اور نہ ہی آمدنی ہوگی۔ اس لیے ویڈیو کی تیاری میں لوگوں کی دلچسپی کا کوئی نہ کوئی عنصر لازمی ہو۔ ایسی ویڈیو اپ لوڈ نہ کریں جو یوٹیوب کے پروگرام اور پالیسی کےخلاف ہو، ورنہ آپ کا چینل یا ایڈسینس اکاو¿نٹ بند بھی ہوسکتا ہے۔
ویڈیو مواد کی تیاری کرتے وقت کچھ بنیادی باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔اول پکچر اور آواز اچھی کوالٹی کی ہو۔ویڈیو مختصر ہو: سوشل میڈیا پر لوگ ایسے مضامین اور ویڈیوز نہیں پڑھتے اور دیکھتے جو زیادہ طویل ہوں، چند منٹ کی ویڈیو تیار اور اپ لوڈ کرنا جہاںآسان ہوگا، وہیں ناظرین بھی بور نہیں ہوں گے، ویڈیو کے تیاری کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کریں جو آپ کے متوقع ناظرین کی پسند کے ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ ناظرین مل سکیں۔
یوٹیوب پر اپنے چینل قائم اور اچھی ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے بعد آمدنی شروع نہیں ہو جائے گی، بلکہ آپ کو اپنے وزیٹرز،ناظرین تک اپنا پیغام پہنچانا ہوگا، یعنی اپنے چینل کی مارکیٹنگ آپ کو خود ہی کرنی ہوگی۔اس کےلئے آپ سوشل میڈیا کی دوسری سائٹس مثلاً فیس بک، فین بکس، ٹوئٹر اور دوستوں کو ای میل کر کے کرسکتے ہیں،پ سوشل میڈیا پیجز پر باقاعدہ اشتہار بھی دے سکتے ہیں تاکہ آپ کی ویب ٹریفک زیادہ ہو۔
ویب ٹریفک بڑھنا یا اپنے چینل کی مارکیٹنگ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ گوگل ایڈسینس کی آمدنی وزیٹرز کی تعداد سے منسلک ہے۔ ایڈسینس کے اشتہارات جو آپ کی ویڈیو میں نشر ہوتے ہیں، ان پر ہر کلک کے پیسے ہوتے ہیں، اور عموماً ایک ہزار ویوز پر ایک مخصوص رقم ادا کی جاتی ہے۔ یعنی زیادہ آمدنی کےلئے زیادہ ویب ٹریفک ضروری ہے۔

ویڈیو بنائیں ، سوسائٹی کی خدمت کےساتھ پیسے کمائیں

(پاکستان آن لائن ٹریڈرزرپورٹ)
عہد حاضر میں اگر آپ کے پاس فارغ وقت ہے تو اسے سوشل میڈیا پر مفت میں خرچ کرنے سے بہتر ہے آپ یوٹیوب پر کچھ مفید کام کریں جس سے نہ صرف آپ کو کچھ آمدنی ہو بلکہ ہماری انٹرنیٹ سوسائٹی کو بھی فائدہ ہو۔اس طرح معاشرے کی خدمت کےساتھ ساتھ اضافی آمدنی بھی ہوسکتی ہے اور اگر زیادہ سنجیدگی کےساتھ یہ کام کریں تو نوکری سے زیادہ آمدنی بھی ممکن ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ یوٹیوب کو استعمال کر کے لاکھوں ڈالر سالانہ کما رہے ہیں، اس ضمن میں ان کی مستقل مزاجی ، تخلیقی صلاحیتوں اور محنت و لگن کا کافی عمل دخل ہے۔
ویسے تو یوٹیوب پر کام ہر وہ شخص کر سکتا ہے جس کو اس کا شوق ہو، لیکن ویڈیو مواد کی تیاری بہرحال ایک مشکل مرحلہ ہے، اسلئے یہ ان افراد کےلئے زیادہ موزوں ہے جو ویڈیو کو بطور میڈیم استعمال کر سکتے ہیں، مثلاً تخلیق کاروں، اساتذہ، وڈیو بلاگز، صحافی، فنکار، گلوکار، جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکشن کے طلبہ و طالبات وغیرہ۔
یوٹیوب دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ ہے جس پر کوئی بھی شخص یا کمپنی اپنی ویڈیو اپ لوڈ کر سکتی ہے، جبکہ کوئی بھی شخص بغیر کسی ممبر شپ کے یہ ویڈیو دیکھ سکتا ہے۔یوٹیوب سوائے قابل فروخت ویڈیو مواد کے کسی بھی صارف سے ویڈیو نشر کرنے یا یوٹیوب پر شائع شدہ ویڈیو دیکھنے کےلئے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ۔ویسے تو یوٹیوب 2005 میں قائم ہوئی لیکن اس کی اصل ترقی اسوقت ہوئی جب اس کو دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل انکارپوریٹڈ نے 2006 میں خرید لیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب گوگل،یوٹیوب نہ تو دیکھنے والے سے اور نہ ہی ویڈیو اپ لوڈ کرنےوالے سے پیسے لیتے ہیں ، تو اخراجات کون ادا کرتا ہے؟
اسکا سادہ سا جواب ٹی وی اور اخبارات کی طرح گوگل اور یوٹیوب اشتہارات سے خوب منافع کماتے ہیں۔ گوگل کو کل آمدنی کا 95 فیصد حصہ اشتہارات سے حاصل ہوتا ہے۔
یوٹیوب سے آمدنی کے طریقے :۔۔۔1: یوٹیوب کا پارٹنرشپ پروگرام۔۔۔2: ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ
یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام کیا ہے؟
اس پروگرام کے ذریعے یوٹیوب آپ کی تیار کردہ ویڈیو سے ہونےوالی آمدنی کا کچھ حصہ آپ کو دیتی ہے، اول تو یو ٹیوب پارٹنرشپ پروگرام میں ہر ایک کو شامل نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ دوم اگر آپ کی ویڈیو میں جان ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اس کو پسند کرتی ہے، تو اس کو یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام میں شامل کیا جاتا ہے، جس سے معقول آمدنی ہوسکتی ہے۔ یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام کے لیے لازمی ہے کہ آپ کا ویڈیو مواد معیاری ہو اور زیادہ سے زیادہ ناظرین کی دلچسپی سے متعلق ہو، تاکہ آپ کے چینل کو زیادہ سے زیادہ لوگ سبسکرائب کریں۔
ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ
بہت سے لوگ اس چیز بارے میں علم رکھتے ہونگے ،تاہم جن بھائی بہنوں کو اس کے بارے میں علم نہیں، ان کےلئے عرض ہے کہ کوئی بھی ویب سائٹ یا بلاگ سائٹ اپنی ویب سائٹ پر اشتہارات کی ذمہ داری گوگل کے سپرد کر دیتی ہیں، جس پر گوگل اپنی مرضی سے اشتہارات شائع کرتا ہے، اور اشتہارات سے جو آمدنی ہوتی ہے، وہ گوگل اور ویب سائٹ کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔
آج کل اس کی شرحِ تقسیم 32:68 ہے۔ یعنی ہر سو ڈالر میں سے 68 ڈالر ویب سائٹ کو اور 32 ڈالر گوگل میں تقسیم ہوتے ہیں۔ گوگل ایڈ سینس سے دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ویب سائٹس منسلک ہیں۔ خود پاکستان میں تقریباً تمام ہی بڑی ویب سائٹس کی زیادہ تر آمدنی گوگل ایڈسینس سے ہوتی ہے۔
ایڈسینس کی ایک اور قسم ’ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ‘ ہے، جس میں یوٹیوب پر ویڈیو کے اندر اشتہارات نشر ہوتے ہیں، جس سے حاصل ہونےوالی آمدنی ویڈیو اپ لوڈ کرنےوالے اور گوگل کے درمیان ایک خاص شرح سے تقسیم ہوتی ہے۔ ایڈسینس ہوسٹڈ اکاﺅنٹ کے بھی کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ اگر آپ گوگل کی پالیسیوں کے مطابق کام کرتے ہیں تو اس سے اچھی خاصی ماہانہ آمدنی ہوتی ہے………. جاری

۔۔۔:انٹرپرینیور شپ کی اہمیت:۔۔۔

    انٹرپرینیور کا اصل اردو ترجمہ ”کاروباری شخص“ ہے۔ ویسے تو انٹرپرینیور شپ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ”انٹرپرینیور شپ “ کو پاکستان کی تمام نجی و سرکاری یونیورسٹیز میں ایک کورس کا درجہ حاصل ہے اور انٹرپرینیور شپ کا مضمون بطور خاص ڈگری پروگرامز میں پڑھایا جا رہا ہے، جبکہ بعض یونیورسٹیز میں ”ایم بی اے“ میں اس مضمون کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، جس سے بڑے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

۔۔۔:انٹرپرینیور شپ ایک اثاثہ ہے:۔۔۔

    انٹرپرینیور شپ ایک اثاثہ ہے جبکہ ”نوکری“ آپ کی ذات خاص تک محدود ہے۔ جو لوگ نوکری کرتے ہیں، ان کی آمدنی کےلئے ان کا خود حاضر ہونا لازمی شرط ہے۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ اپنی جگہ کسی اور شخص کو نوکری پر بھیج دیں۔ یہ نوکری آپ نے خود ہی کرنی ہے۔ اگر کسی وجہ سے نوکری کرنےوالا شخص اس دنیا سے رخصت ہوجائے تو اس کے خاندان کو نوکری سے ملنے والی مراعات ختم ہو جاتی ہیں، یا انتہائی کم یعنی نہ ہونے کے برابر ملتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں انٹرپرینیور شپ آپ کا اور آپ کے خاندان کا ایک اثاثہ ہے، ایسا اثاثہ جس کو فروخت بھی کیا جاسکتا ہے۔ انٹرپرینیور شپ کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ چونکہ اس میں نوکریاں پیدا ہوتی ہیں، اس لیے آپ کو اپنی اولاد یا رشتے داروں کےلئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی، نہ آپ کو اپنے بیٹے یا بھائی وغیرہ کی نوکری کےلئے کسی کی منت سماجت کرنی پڑتی ہے۔ آپ اپنی اولاد یا رشتہ داروں کو اپنے ساتھ کام پر لگا سکتے ہیں، نیز کامیاب انٹرپرینیور کے اہل خانہ کو زندگی کی بنیادی ضروریات بہت آسانی سے میسر آجاتی ہیں۔

مہنگائی کا کوئی خوف نہیں
نوکری کرنےوالوں کی آمدنی چونکہ فکس ہوتی ہے، اس لیے جب بھی حکومت بجٹ کا اعلان کرتی ہے، یا غیر اعلانیہ مہنگائی کرتی ہے، تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے، خاص طور پر درمیانے طبقہ کو، چونکہ ان کی تنخواہ میں اضافہ تو سال کے بعد ہونا ہے۔ (یاد رہے کہ ہمارے ہاں کئی اداروں میں تنخواہوں میں اضافہ سالانہ کے بجائے تین چار سال کے بعد ہوتا ہے) جبکہ انٹرپرینیور طبقے کو مہنگائی اس طرح متاثر نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ انٹرپرینیور کے پاس اپنی آمدنی بڑھانے کے بے شمار مواقع موجود ہوتے ہیں۔

ترقی کی کوئی حد نہیں
انٹرپرینیور شپ میں میں ترقی کی کوئی حد نہیں۔ آپ اپنی سوچ اور محنت سے بہت آگے تک جاسکتے ہیں، لیکن نوکری میں ہر جگہ حدود و قیود ہیں۔ مثلاً آپ کی ترقی اور تنخواہ میں اضافہ ایک طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص کسی کالج/یونیورسٹی میں لیکچرر بھرتی ہو اور اگلے سال اس کالج میں پروفیسر، اس سے اگلے سال ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور اگلے سال پرنسپل/ ڈین وغیرہ بن جائے، بلکہ اگلی پوسٹ تک جانے کےلئے اسکو کافی سال انتظار کرنا ہوگا۔

۔۔۔:انٹرپرینیور شپ کی ضرورت:۔۔۔

پاکستانی معاشرہ میں بےروزگاری کی شرح کو کم کرنے کےلئے ہمیں انٹرپرینیور افراد کی ضرورت ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگرہم صرف بزنس، مینجمنٹ ،انجینئرنگ، کامرس یا کمپیوٹر سائنس کے ماہرین تیار کرتے جائیں گے، تو ان سب کو نوکری کہاں سے ملے گی؟
اگر ہماری یونیورسٹیاں صرف انجینئر پیدا کرنے کے بجائے ایک انٹرپرینیور انجینئرز تیار کریں تو اس سے ملک میں بےروزگاری کی شرح کمی ہوگی۔ کیونکہ وہ نوکریاں پیدا کریں گے۔

۔۔۔:ہمیں نوجوان میں بزنس کی خواہش پیدا کرنا ہوگی:۔۔۔

ہمارا نوجوان طبقہ بہت زیادہ ذہین ہے اور اس کے اندر بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک پاکستانی یوتھ کی تعریف کرتے ہیں، لیکن جس وجہ سے ہماری یوتھ مار کھا رہی ہے وہ اس کا درست سمت کی جانب سفر نہ کرنا ہے۔
ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو جو کام سمجھا دیا جائے وہ اس کام کو بہت اچھے طریقے سے مکمل کرتے ہیں۔ محنت، جانفشانی اور ذہانت میں پاکستانی یوتھ دنیا کے دوسرے ممالک کے نوجوانوں سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے۔
اب ہمارے نوجوانوں کو سوچنا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ ”انہوں نے اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنا ہے، کسی کی غلامی نہیں کرنی، ہر صورت آگے بڑھنا ہے، اپنی کمزوریاں کو کم کرنا ہے تاکہ کام کرنے کی صلاحیت اور طاقت میں اضافہ ہو، دنیا میں کوئی بڑا کام کرنا ہے، اپنے معاشرے کے کمزور طبقے کےلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہیں اور ان کی خوشی میں اضافہ کرنا ہے۔